مرکزی مواد پر جائیں
نظامات · نظامِ مقابلہ ادیان

جمہوریت: مغربی اور اسلامی

مستند قرآن اور احادیث کے حوالہ جات کے ساتھ، عبادت سے معاشرت تک — بہترین اور مربوط طریقے سے مرتب۔

نظامِ مقابلہ ادیان

دیگر ادیان کے ساتھ تقابلی مطالعہ، مشترکہ اقدار اور معروض اعتراضات کے جوابات۔

جزئیات و فروع سے قطع نظر، اُصولی حیثیت سے اگر دیکھا جائے تو انسان اور کائنات کے متعلق چار مابعدالطبیعی نظریے قائم ہو سکتے ہیں اور دُنیا میں جتنے دستورِ زِندگی پائے جاتے ہیں انھوں نے انھی چار میں سے کسی ایک کو اختیار کیا ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «تجدید و احیائے دین»، باب: زندگی کے چار نظریےمکمل باب پڑھیں

جمہوریت: مغربی اور اسلامی

مغربی جمہوریت میں حاکمیت عوام کی اکثریت کی ہے؛ اسلام میں حاکمیت اللہ کی ہے اور معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔

قرآنِ مجید

مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباوٴ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سَنَد نازل نہیں کی ۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ
جو اپنے ربّ کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں،

مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے

تیسرے اصول کا مطلب یہ تھا کہ قومی ریاست میں جس مقام سے مذہب کو بے دخل کیا گیا ہے وہاں جمہورِ قوم، یعنی اکثریت کی رائے کو اس کا جانشین بنایا جائے۔ اکثریت مذہب سے قطع نظر کرتے ہوئے جسے حق کہے وہ حق اور جسے باطل کہے وہ باطل۔ اکثریت ہی کے بنائے ہوئے اصول اور قوانین اور ضوابط قوم کا دین ہوں اور اکثریت ہی اس دین میں ردوبدل کی مختار ہو۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «مسلمانوں کا ماضی و حال اور مستقبل»، باب: سیاستمکمل باب پڑھیں
اس لحاظ سے اسلامی جمہوریت ایک مکمل جمہوریت ہے، اتنی مکمل جتنی کوئی جمہوریت مکمل ہو سکتی ہے البتہ جو چیز اسلامی جمہوریت کو مغربی جمہوریت سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مغرب کا نظریۂ سیاسی ’’جمہوری حاکمیت‘‘ کا قائل ہے اور اِسلام ’’جمہوری خلافت‘‘ کا۔ وہاں اپنی شریعت جمہور آپ بناتے ہیں۔ یہاں انھیں اس شریعت کی پابندی کرنا ہوتی ہے جو خدا نے اپنے رسولؐ کے ذریعہ سے دی ہے۔ وہاں حکومت کا کام جمہور کا منشا پورا کرنا ہوتا ہے۔ یہاں حکومت اور اس کے بنانے والے جمہور سب کا کام خدا کا منشا پورا کرنا ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ مغربی جمہوریت ایک مطلق العنان خدائی ہے جو اپنے اختیات کو آزادانہ استعمال کرتی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی جمہوریت ایک پابندِ آئین بندگی ہے جو اپنے اختیارات کو خدا کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرتی ہے۔
— مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، «اسلام کا نظام حیات»، باب: اِسلام کا سیاسی نظاممکمل باب پڑھیں

مزید مطالعہ — مولانا مودودیؒ کی دیگر تحریریں

لائبریری میں اس موضوع پر ان کی کتابوں کے یہ ابواب بھی موجود ہیں:

اس موضوع پر مزید ابواب بھی ہیں۔ مولانا مودودیؒ کی تمام کتابیں لائبریری میں دیکھیں ←

اس موضوع پر آپ کے پاس معلومات ہیں؟ رجسٹرڈ ممبر کی حیثیت سے مضمون شامل کریں — نظرِ ثانی کے بعد شائع ہوگا۔

معاون کیلکولیٹرز

کوئی بھی حساب لگا سکتا ہے — مفتی صاحب کو بھیجنے کے لیے صرف لاگ ان درکار ہے
مفتی کی توثیق درکار

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے نصاب کے مطابق نقدی، سونا، چاندی اور مالِ تجارت کی بنیاد پر واجب الادا زکوٰۃ معلوم کریں۔

مفتی کی توثیق درکار

میراثِ کیلکولیٹر

ورثاء کی تفصیل درج کریں اور شرعی اصولوں کے مطابق میراث کی تقسیم کا مسودہ حاصل کریں۔