تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
احادیثِ مبارکہ
محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"میں تمہیں پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں، "
"جماعت کا سننے کا اطاعت کا ہجرت کا اور جہاد فی سبیل اللہ کا۔"
(بروایت حارث اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترمذی (زادِراہ ۱۸۸))
محمد رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں فرمایا:" اللہ کے ولی نمازی لوگ ہیں یعنی وہ لوگ جو پانچوں فرض نمازوں کو ٹھیک سے پڑھتے ہیں، رمضان کے روزے خدا کی خوشنودی کی نیت سے رکھتے ہیں ،دل کی پوری رغبت اور خوشی کے ساتھ اجرِ آخرت کی نیت سے زکوٰ ۃ دیتے ہیں اور ان بڑے بڑے گناہوں سے بچتے ہیں جن سے اللہ نے منع کیا ہے۔"
آپ ﷺ کے اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے کسی نے پوچھا "اے اللہ کے رسول ﷺ بڑے بڑے گنا ہ کون سے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایاکہ: "نو گناہ بڑے گناہ ہیں جن میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو ساجھی بنانا ،مومن کو ناحق قتل کرنا،جہاد سے بھاگنا،کسی عفیفہ پاک دامن عورت کو تہمت لگانا،جادو سیکھنا سیکھانا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا،مسلمان والدین کے حقوق ادا نہ کرنا،اللہ کے گھر کی بے حرمتی کرناجس کی طر ف منہ کرکے نماز پڑھتے ہو اور جس کی طرف قبر میں تمہارا رخ رکھا جاتاہے۔کوئی ایسا شخص جو ان بڑے گناہوں سے دور رہا اور ٹھیک سے نماز پڑھتا رہاہو وہ ضرور نبی ﷺ کے سا تھ وسیع اور کشادہ جنت میں رہے گا جسے کے دروازے سونے کے ہوں گے۔"
(عبید بن عمیراللیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ،طبرانی (زادِ راہ ۱۳۷))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جو کچھ سنے اسے (بلاتحقیق) بیان کردے۔"
(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،مسلم (انتخابِ حدیث ۳۰۰))
رسول اللہ ﷺ نے نماز، روزہ ، زکوٰۃ ، حج و عمرہ اور دوسری تما م نیکیوں کا ذکر کرتے ہوئے
فرمایا: "انسان یہ سب کچھ کرتاہے مگر قیامت کے دن عقل و فہم کے مطابق ہی اسے بدلہ ملے
گا۔"
(بروایت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،مشکوٰۃ (انتخابِ حدیث ۱۹۵))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم۔" ایک آدمی نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! مظلوم ہونے کی حالت میں تو مَیں اس کی مدد کر سکتا ہوں ، لیکن جبکہ وہ ظالم ہو تب اس کی مدد کیسے کر سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا
اس کو ظلم سے روک دینا ، یہی اس کی مدد ہے۔"
(بروایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،متفق علیہ(بخاری و مسلم) ،(انتخابِ حدیث ۹۱))
میں نے نبی ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: " تین باتیں ایسی ہیں کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کے دل میں نفاق نہیں پیدا ہو سکتا۔
۱۔ ایک یہ کہ جو بھی عمل کرے اللہ تعالیٰ کی خوشنو دی کے لئے کرے۔
۲۔ دوسری یہ کہ جو لوگ اجتماعی معاملے کے ذمہ دار ہوں ان کے ساتھ خیر خواہانہ معاملہ کرے۔
۳۔ تیسری چیز یہ کہ جماعت سے چمٹا رہے، جماعت کے افراد کی دعائیں اس کی حفاظت کریں گی۔"
(بروایت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ثابت ترمذی ،(زادِ راہ ۱۹۰))
محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"کوئی آدمی دوسرے کو جو پہلے سے بیٹھا ہوا ہے اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھ جائے بلکہ (اہل مجلس کوچاہئے) کہ آنے والوں کے لئے کشادگی پیدا کریں اور بیٹھنے کی گنجائش نکالیں۔"
(بروایت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،مسند احمد،(زادِ راہ ۱۰۵))