تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
علم
اس طرح آپ تک حقیقت کا علم آگیا کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کو پیداکرنے والا ہے اور صرف پیدا کرنے والا ہی نہیں ، بلکہ مالک بھی ہے یعنی اب بھی ہر چیز کو سنبھالنے والاوہی ہے اور پرورش کررہا ہے۔اگر وہ اس کا ئنات کوایک لمحہ کے لئے بھی سنبھالنا چھوڑ دے تو اس کائنات کا انتظام کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔انسان کی تخلیق بھی اللہ نے کی ہے اور ایک منصوبے کے تحت دنیا میں بھیجا۔وہ منصو بہ کیا ہے ؟ آیئے قرآن کی زبان میں پڑھتے ہیں :-
"پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمھارے رَب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ " میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔"
انھوں نے عرض کیا : "کیا آپ زمین پر کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑدے گا اور خوں ریزیاں کرے گا؟ آپ کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں "
فرمایا:" میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔"اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو ساری چیزوں کے نام سِکھائے،
پھر اِنھیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا :" اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا)،تو ذرا اِن چیزوں کے نام بتاؤ ۔"
انھوں نے عرض کیا : "نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے،ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں،جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والاآپ کے سوا کوئی نہیں۔"
پھر اللہ نے آدم ؑ سے کہا :" تم اِن چیزوں کے نام بتاؤ ۔"
جب اُس نے اُن کو اِن سب کے نام بتادیے،تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:" میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتاہوں جو تم سے مخفی ہیں،جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو،اسے بھی میں جانتا ہوں۔"
پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم کیا کہ آدم ؑ کے آگے جھک جائو، تو سب جھک گئے مگر اِبلیس نے انکار کردیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نا فرمانوں میں شامل ہو گیا۔
پھر ہم نے آدمؑ سے کہا "" تم اور تمھاری بیوی ، دونوں جنّت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھائو،مگر اُس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار کیے جائو گے" ۔
آخر کار شیطان نے اِن دونوں کو اُس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور اِنھیں اُس حالت سے نکلوا کر چھوڑا جس میں وہ تھے۔
ہم نے حکم دیا کہ " اب تم سب یہاں سے اُتر جائو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمھیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے"۔ اُس وقت آدمؑ نے اپنے رَبّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے رَبّ نے قبول کرلیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
ہم نے کہا کہ" تم سب یہاں سے اُتر جائو۔ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے،تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے، اُن کے لیے کسی خوف اور رَنج کا موقع نہ ہو گا، اورجو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے، وہ آگ میں جانے والے ہیں، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ "
قرآن میں دوسری سورت میں اسی واقع کے متعلق مزید تفصیل آئی ہے کہ
رَب نے پو چھا " اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا؟"
اس نے کہا " میرا یہ کام نہیں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جسے تونے سڑی ہوئی مٹی کے سو کھے گارے سے پیدا کیا ہے۔"
رَب نے فرمایا " اچھا توُ نکل جا یہاں سے کیونکہ توُ مردود ہے،اور اب روزِ جزا تک کے لئے تجھ پر لعنت ہے۔"
اس نے عرض کیا" میرے رَب ، یہ بات ہے تو پھر مجھے اس روز تک کے لئے مہلت دے جب کہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔"
فرمایا " اچھا تجھے مہلت ہے۔اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے ۔"
وہ بولا " میرے رَب، جیسا توُ نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لئے دلفریبیاں پیدا کرکے ان سب کو بہکاؤں گا، سوائے تیرے اُن بندوں کے جنھیں تو نے اُن میں سے خالص کرلیا ہو۔"
قرآن کی ان آیات سے ظاہرہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ یعنی اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ نائب کا کام کیا ہو تا ہے؟ یہی نا ! کہ جو کچھ اسکا مالک حکم دے اس کے حکم کے مطابق عمل کرے ۔اچھا خلیفہ وہی ہو سکتاہے جو اپنے مالک کے ایک ایک حکم پر اُسی طرح عمل درآمد کرے جس طرح اُسے حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا خلیفہ ہونے کی حیثیت سے آپ کا فرض ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے تمام تر احکامات کو خلوص دل سے بجا لائیں ۔اور اپنی طرف سے، جتنی آپ میں استطاعت ہے،پوری کوشش کریں کہ اس میں کوتاہی نہہو۔
اس کے بر عکس جو اپنے مالک کی نافرمانی کرے گااور اس نافرمانی پرشیطان کی طرح جمارہے گاوہ یقینا اپنے مالک کے غصہ کا شکار ہوگا۔ہاں اگر وہ انسان ،حضرت آدم علیہ السلام کی طرح اپنے سے ہوجانے والی غلطی کا اعتراف کر کے اس سے توبہ کرلے ، تویہOption اس کے پاس صرف دنیا کی زندگی میں ہی ہے ، اس صورت میں اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔
دوسری بات یہ کہ شیطان آپ کا کھلا دشمن ہے اور وہ آپ کو نا اہل ثابت کرنے کے لئے آپ کے خلاف مسلسل سر گرم ہے کہ کہیں آپ کامیاب نہ ہو جائیں ۔کیونکہ اسے آپ کا کامیابی کی طرف جانا بالکل پسند نہیں ۔اس لئے وہ برائیوں اور نافرمانی کے کاموں کو خوب صورت بنا کر آپ کے سامنے پیش کرتا ہے تاکہ آپ اس کے جال میں پھنس جائیں لیکن اگر آپ اس کی چالوں سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر وقت چوکنا رہنا ہوگا۔
شیطانی چالوں سے بچنے کے لئے آپ کے پاس علم ہونا ضروری ہے ۔اس لئے قرآنِ حکیم میں تین بنیادی باتیں بیان کی گئیں ہیں جن کو سمجھ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ بنیادی علم ہے جس کے سمجھے بغیر انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہتا ۔حتیٰ کہ انسان ڈارون کے ارتقائی نظریہ ----جس کے مطابق انسان پہلے جانور تھا اور ترقی کر تے کرتے اب انسانی وجود میں آیا ہے ----کو اپنی ابتداء سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو بندر کی جدیداولاد خیال کرتا ہے، اور لااُبالی کی زندگی بسر کرتاہے ۔نہ وہ پہچانتاہے کہ اسے کس نے پیدا کیا ہے۔ نہ اسے اپنے مقصد ِ پیدائش کی کوئی خبر ہوتی ہے کہ اس کو پورا کرکے کامیابی حاصل کر سکے ۔وہ تو سمجھتاہے کہ انسان یونہی پیدا ہوجاتا ہے ۔اور کچھ عرصہ گزانے کے بعد پھر ختم ہوجاتاہے ۔یعنی ایسا شخص خالص جہالت میں ہوتاہے۔اور اپنی قدر و قیمت کو نہیں پہچان پاتا۔اس لئے آپ ان باتوں کو خوب سمجھ لیں تاکہ اپنی زندگی سے بھر پور فائدہ اٹھا سکیں۔