تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
قرآنی آیات
"۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا تمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ ان لوگو کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔
۔ دوزخ میں جانے والے اورجنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے ۔جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔"
" یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے کہا
۔ بیٹا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔اسکی ماں نے ضعف پہ ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اودو سال اسکا دودھ چھوٹنے میں لگے (اسی لئے ہم نے اس کو نصیحت کی کہ)میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجا لا ، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے ۔لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہر گز نا مان۔
دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤکرتا رہ ، مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کرجس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے، اس وقت میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔
۔ (اور لقمان نے کہا تھاکہ)" بیٹا کوئی چیز رائی کے برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو اللہ اسے نکال لائے گا۔وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔
۔ بیٹا نماز قائم کر
۔ نیکی کا حکم دے
۔ بدی سے منع کر
۔ اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر،یہ وہ باتیں ہیں جن کی تاکید کی گئی ہے۔
۔ اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر
۔ نہ زمین میں اکڑ کر چل،اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا
۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر
۔ اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے۔"
"لوگو ، بچو اپنے رب کے غضب سے اور ڈرو اس دن سے جب کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا۔ اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس دنیاکی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکے باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکہ دینے پائے۔"
"جن لو گوں کو توراۃ کا حامل بنایا گیاتھا مگر انھوں نے اس کا بار نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔ اس سے
بھی زیادہ بُری مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلادیاہے۔ ایسے ظالموں کو
اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔"
"ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بَری الزمہ ہوں ، مجھے تو اللہ رَب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں جائیں ۔ اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔"
"۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔"