مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تزکیۂ نفس

اشاعت: 2006ء

ملک سہیل احمد · اردو

تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔

دعا

غور وفکر سے لے کر علم کے حصول تک اور علم کی تحصیل سے لے کر عمل تک ہر موقع اس کام کا متقاضی ہے کہ اس پرور دگارِ جہاں کی پناہ مانگ لیا کریں جو بہت مہربان اور رحم والاہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سب سے نکما اور عاجز وہ ہے جو اپنے لئے خدا سے دعا نہ مانگے اور سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام میں بخل کرے(کسی سے سلام نہ کرے)۔

( بروایت ابو ہریرہ ، ترغیب و ترہیب بحوالہ طبرانی (زادِراہ ۱۲۹))

محمد رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:"میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کو زیادہ یاد کرو اور ذکر کی مثال ایسی سمجھو جیسے کسی آدمی کا اس کے دشمن نہایت تیزی کے ساتھ پیچھا کررہے ہوں یہاں تک کہ اس آدمی نے بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں پناہ لی اور دشمنوں کے ہاتھ میں پڑنے سے بچ گیا، اسی طرح بندہ شیطان سے نجات نہیں پا سکتا ہے مگر اللہ کی یاد کے سہارے!"

(بروایت ترمذی،ترغیب (زادِراہ ۲۴۱))

اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :"اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے جو توقع رکھتاہے اور جیسا گمان اس نے میرے متعلق قائم کر رکھا ہے ویسا ہی مجھے پائے گا ، جب وہ مجھے یاد کرتاہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔اگر وہ مجھے تنہائی میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے تنہائی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت کے ساتھ بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں ان سے بہترجماعت میں اس کو یاد کرتا ہوں،اگر وہ میری طرف ایک بالشت بھر بڑھتا ہے تو میں اس کی طر ف ایک ہاتھ بڑھ جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو میں اس کی طرف چار ہاتھ بڑھتا ہوں اور اگر وہ میری طرف آہستہ آہستہ آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتاہوں۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،بخاری و مسلم(زادِراہ ۲۴۴))

حضور ﷺ نے فرمایا: "بندے کی دعا ہمیشہ قبول ہوتی ہے بشرطیکہ کسی گناہ یا قطع تعلق کی دعا نہ کرے اور جلد بازی سے کام نہ لے۔"

لوگوں نے پوچھا : "اے اللہ کے رسول ﷺ جلد بازی کا کیا مطلب ہے ؟ " آپ ﷺ نے فرمایا :" دعا کرنے والا یوں سوچنے لگتا ہے کہ میں نے بہت دعا کی لیکن قبول نہیں ہوئی۔وہ تھک جاتاہے اور دعا کرنی چھوڑ دیتا ہے۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،مسلم(زادِراہ ۲۴۵))

نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب کوئی مسلم دعا کرتا ہے جس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہوتی اورنہ رشتہ داروں کے حقوق برباد کرنے کی بات ہوتی ہے تو اللہ ایسی دعا کو ضرور قبول فرماتا ہے۔یا تو اس دنیا ہی میں اس کی دعا قبول فرماتا ہے اور اس کا مقصد پورا ہو جاتا ہے اور یا آخرت میں اس کے لئے ذخیرہ بناتا ہے اور یا اس پر کوئی مصیبت یا برائی آنے والی ہوتی ہے جسے وہ اس دعا کی بدولت دورفرمادیتا ہے۔"

صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کہا : " پھر تو ہم بہت زیادہ دعا مانگا کریں گے۔"

آپ ﷺ نے فرمایا: " اللہ بھی بہت دینے والا ہے۔"

(بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،مسند احمد ،ترغیب (زادِراہ ۲۴۶))

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ حیا دار اور سخی ہے جب کوئی بندہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے پھیلاتا ہے تو ناکام اور خالی ہاتھ لوٹانے سے اسے شرم آتی ہے۔"

(بروایت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابو داؤد (زادِراہ ۲۴۷))

دعا عبادت کا مغز ہے جس طرح انسانی جسم میں دماغ کا مقام عیاں ہے اسی طرح دعا کا مقام عبادت میں ہے۔ دعا نہ ہو تو عبادت کسی کام کی نہیں کیونکہ

۔ دعا انسان کا بندہ ہونے اور اسکے رَب کی موجودگی کے احساس کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب اسے احساس ہوگا کہ میرا رَب میری شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے تو وہ اُسی سے مدد طلب کرے گا۔

۔ دعا اس احساس کا نام ہے کہ جس پروردگار نے کائنات کی تخلیق کی ہے وہی اب بھی منتظم اعلیٰ ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اُسی طرح ہوتاہے۔ چنانچہ ہر کام کے سلسلے میں اُسی سے رجوع کر نا ہے۔

۔ دعا احساس دلاتی ہے کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے وہ نہیں ہو سکتا اِس کاکام ہے کوشش کرنا اور پھر دعا کرنا جس طرح نبی ﷺنے جنگ بدر میں مسلمانوں کی جماعت کو جمع کیا ، جو کوشش ہوسکتی تھی کی اور پھر خالق و مالک سے دعا کی کہ توُ اِن کو کامیاب کر تو اللہ نے کامیابی عطاء فرمادی۔