تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جینا اور شہادت
اللہ تعالیٰ کی راہ میں جینا بہت حوصلے کی با ت ہے۔بسا اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ تیاری صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں مرنے کی کرنی چاہیے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جینا بھی اس با ت کا تقاضہ کر تا ہے کہ اس کی تیاری کی جائے اور اپنے آپ کو باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کے لئے تیار کیا جائے، کیونکہ کبھی اللہ تعالیٰ کے نام کے لئے جینا یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے زندہ رہنا ،اللہ کی راہ میں مرنے سے بھی زیادہ مشکل ہوجاتاہے ۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
" کہو ،میری نماز، میرے تما م مَراسمِ عبودیّت، میر ا جینا میرا مرنا، سب کچھ اللہ رَب العالمین کے لئے ہے،جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیاہے اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا مَیں ہوں۔"
مال کی قربانی کے ساتھ آپ کو اس بات کے لئے بھی تیار رہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے زندہ رہنا ہے اور اگر اس کے لئے جان دینا پڑی تو جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کرناہے۔
سیدنا محمد ﷺ نے فرمایاکہ:"جس شخص نے اللہ سے سچے دل سے شہادت کی دعا مانگی پھر وہ قتل کردیا گیا یا اپنے بستر پر مرا (دونوں صورتوں میں)اس کو وہ مرتبہ ملے گا جو شہداء کے لئے ہے۔"
(بروایت مُعَاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جَبَل ،ترمذی (زادِ راہ ۲۰۲))
لہو نذیر شہید کا اے مجاہدو! تم سے پوچھتاہے
حوالۂ تیغ کر کے تن کو، تم اپنے من کو جلا سکو گے؟
کئی درندے کئی مویشی ، تم ان کو انساں بنا سکو گے؟
لہو نذیر شہید کا اے مجاہدو! تم سے پوچھتاہے
یہ عاشقی کھیل تو نہیں ہے لہو میں اپنے نہا سکو گے؟
جنوں کا انجام جانتے ہو ، خوشی خوشی سر کٹا سکو گے؟