تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
میں دنیا کو کیا دے رہا ہوں؟
ان تمام باتوں کو سمجھ لینے کے بعد آپ نے اپنی مجموعی شخصیت کا جائزہ لینا ہے کہ آپ اِرد گرد کے معاشرے کو جو کچھ Output دیناچاہیے تھا ،وہ دے رہے ہیں کہ نہیں؟
اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر دیکھیں کہ اس کی کیا وجہ ہے؟اَولاً Inputs کا جائزہ لیں کہ وہ صحیح ہیں کہ نہیں اور یہ کہ انھیں مزید کتنا بہتر بنایا جاسکتاہے؟اس کے لئے آپ کیا کوشش کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔
پھر Outputs کا جائزہ لیں کہ ان کے اندر کیاکیا کمی رہ گئیں ہیں اور ان کو کس طرح دور کیا جاسکتا ہے۔اس کے لئے آپ کو کچھ وقت دینا ہوگا۔یہ کسی اور کا معاملہ نہیں بلکہ آپکی اپنی ""کامیابی" کامسئلہ ہے ۔یاد رکھیں کہ آپ پر آپکا اپنا بھی حق ہے جسکو کوئی اور ادا نہیں کرسکتا۔پھر نہایت اطمینان سے اس بات پر غور کریں اوراس پر سے سرسری نہ گزر جائیں کہ: ۔
کہیں میری وجہ سے تو کوئی غلط کام میں مبتلا نہیں ہوا کہ وہ میرے لئے گناہ جاریہ بن جائے!!
جس طرح ہر انسان کے اعمال ہوتے ہیں اسی طرح وہ کچھ اثرات بھی رکھتاہے۔آپ کو معلوم ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے ہابیل کو قتل کیاتھا ،جو دنیا کا پہلا ناحق قتل تھا۔ اب یہ تو اس کا عمل تھا، جبکہ اس کا اثر جو دنیا پر پڑا وہ یہ کہ قیامت تک ہونے والے تمام ناحق قتل کا گناہ قابیل کے کھاتے میں بھی جاتا رہے گا۔اس کو آپ گناہ ٔجاریہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا"""": کبھی آدمی کی زبان سے شر کی کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جس کی برائی اور خطرناکی کی حدود وہ خود بھی نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس آدمی پر آخرت کی پیشی تک کے لئے ناراضگی اور اپنے غضب کا فیصلہ فرمادیتا ہے۔
(بروایت بلال بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ،شرح السنہ للبغوی،( مؤطا امام مالک ،ترمذی میں بھی روایت ہے۔))
آپ اس سلسلے میں تنہا ہو کر بیٹھ جائیں اور اپنے آپ سے مندرجہ سوالات پوچھیں کہ
۱۔میری وجہ سے کوئی بُرائی تو نہیں پھیل رہی ؟
۲۔میرا کوئی غلط عمل کسی دوسرے کے لئے نظیر تو نہیں بن رہا کہ وہ میری دیکھا دیکھی غلط کام میں لگ جائے؟
اس لئے اپنے گزشتہ برے اعمال بھی دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے پرہیز کریں تاکہ کوئی دوسرا بُرائی کرتا ہے تو اُس میں توآپکا حصہ نہ ہو۔اور نہ ہی آپ گناہوں کے سلسلے میں کسی کی ہمت بڑھانے والے ہوں،وہ اس طر ح کہ دوسرا آپ کواپنا بُراکا م بتا ئے اور آپ اس پر خوشی کا اظہار کریں۔یہ تو اس بات کا منفی پہلو ہے۔
اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم دنیا پر اچھا اثر ڈال رہے ہوں۔
سیدنا محمد ﷺ کا فرمان ہے کہ:"جو شخص کسی کو نیک کام بتائے تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کرنے والے کو ملے گا۔ اور اللہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ مصیبت زدہ (خواہ کوئی ہو، مسلم ہو یا غیر مسلم) کی مدد کی جائے۔"
(ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ترغیب و ترہیب ،(زادِ راہ ۷۳))
محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ: "آدمی کی زبان سے کبھی خیر و بھلائی کی کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جس کی پوری برکت اور قدر و قیمت وہ خود بھی نہیں جانتا، مگر اللہ تعالیٰ اسی ایک بات کی وجہ سے اپنے حضور میں حاضری تک کے لئے ا س بندہ کے واسطے اپنی رضا طے فرمادیتاہے۔اور(اسی طرح)کبھی آدمی کی زبان سے شر کی کوئی ایسی بات نکل جاتی ہے جس کی بُرائی اور خطرناکی کی حدود وہ خود بھی نہیں جانتا مگر اللہ تعالیٰ اس بات کی وجہ سے اس آدمی پر آخرت کی پیشی تک کے لئے ناراضگی اور اپنے غضب کا فیصلہ فرمادیتاہے۔"
(بلال بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شرح السنہ البغوی)
خدا کی رضا اور آخرت کی فلاح کو یکسوئی ، اخلاص اور صحیح فہم کے ساتھ مقصود بناکر جو زندگی گزاری جائے وہی کامیاب اور مطلوب زندگی ہے۔