تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
نوافل و اذکار
فرائض تووہ ہوتے ہیں جو مسلمان ہونے کے لئے کم سے کم ضرور کرنے ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ سے لو لگانے اوراس سے محبت و اُلفت کا تعلق رکھنے والوں کے لئے صرف فرائض ہی کافی نہیں ہوا کرتے بلکہ وہ بخوشی نوافل عبادات کا انتظام واہتمام بھی کرتے ہیں۔خواہ نفلی نمازیں ہوں یا نفلی روزے وصدقات ،وہ تو اللہ سے تعلقات بڑھانے کے طریقے سوچتے ہیں۔
سیدنا محمدﷺ نے فرمایاکہ:"رب اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب رات کے آخری حصے میں ہوتاہے، پس اگر تم سے یہ بات ہو سکے کہ تم رات کے آخری حصے میں اللہ کو یاد کرنے والوں میں شامل ہو تو ایسا کرو۔"
(بروایت ابو امامہ باہلی، ترمذی(زادِراہ ۲۰۷))
سیدنا محمد ﷺنے فرمایاکہ:" جب کوئی شخص اپنی مسجد کی فرض نماز سے فارغ ہوجائے تو اپنے گھر کو بھی سنت اور نفل نمازوں کاایک حصہ دے اگر ایسا کرے گا تو اللہ اس کے گھر میں نماز کی وجہ سے خیر و برکت نازل فرمائے گا۔"
(بروایت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،مسلم(زادِراہ ۲۱۲))
صبح فجر کی نماز کے بعد جب گھر سے کام کیلئے نکلیں تو اللہ تعالیٰ کے حضور دو رکعت نفل پڑھ کر اپنے تمام کاموں کے بہترانجام اور خیر و عافیت کی دعا کا اہتمام کریں۔
سیدنا محمد ﷺنے فرمایاکہ:" (بروز قیامت )اللہ تعالیٰ فرمائے گا:"" میرے اس بندے کی فرض نماز کو دیکھو اگر وہ مکمل ہے تو مکمل لکھی جائے گی، اور اگر اس نماز میں کوئی نقص رہ گیا ہے تو اللہ فرمائے گا دیکھو میرے اس بندے نے کچھ نفل نمازیں بھی پڑھی ہیں؟ اگر اس کے نامہ اعمال میں نفل نمازیں ہیں تو فرض نمازوں کی کمی ان نوافل سے پوری کر دی جائے گی۔"
(بروایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،مسند ابو یعلیٰ(زادِراہ ۲۱۴))
صبح و شام اور مختلف مواقع پر بہت سے مسنون اذکار احادیث میں ملتے ہیں جن کا اہتمام آپ کی زندگی کو رحمت و برکت سے بھر دے گا لہٰذا ان کو اس طرح یاد کرلیں کہ پڑھتے وقت ان کا مفہوم بھی آپ کے ذہن میں ہو تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ اپنے خا لقِ حقیقی سے کیا طلب کر رہے ہیں۔اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ بھی ذہن میں راسخ رہے گی اور عبادات و معاملات میں اخلاص پیدا ہوگا۔