مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تزکیۂ نفس

اشاعت: 2006ء

ملک سہیل احمد · اردو

تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔

آغازِ کلام

زندگی گزارنے کا تما م تر انحصار اس بات پر ہے کہ ہم کون ہیں؟اس دنیا کے اندر ہمارا کیا مقام ہے؟ ہم نے جس دنیا میں آنکھ کھولی ہے اس دنیا میں اور ہم میں کیا نسبت ہے؟

ذرا غور کریں روزانہ سورج نکلتا ہے اورغروب ہوجاتا ہے، چاند شکلیں بدل بدل کر ہمارے لئے کلینڈر کا کام دیتا ہے،آسمان سے بارش ہوتی ہے تو قطروں کی شکل میں رحمت بن کر برستی ہے۔درخت اور پودے زمین سے نکل کر طرح طرح کے پھل وپھول مہیا کرتے ہیں۔ کائنات کی تمام تر اشیاء واجسام ایک حساب سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان ہی ایک اور مخلوق انسان نامی بھی موجود ہے،جس میں خیر و شر کے خزانے جمع ہیں ، وہ خیر بھی کر سکتا ہے اور شر بھی پھیلا سکتا ہے ۔اس کے پاس کچھ اختیار نظر آتا ہے،سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی موجود ہیں،اورترقی کرنے کا جذبہ بھی ہے۔ایک دوسرے سے بڑھ کر "کامیابی "پانے کی لگن ہے۔ہمیں کامیابی چاہیے ۔ ہم بہر صورت کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔

لیکن ٹھہریئے! آگے بڑھنے سے پہلے آپ ذرا اس بات پر غور کر لیں کہ دراصل حقیقی "کامیابی" کیا ہے؟ وہ ہمیں کس طرح حاصل ہو سکتی ہے؟اس سوال کا جواب اس سے بہتر کون دے سکتا ہے جس ذات نے آپ کو بنایا ہے ،وہی آپ کو آپکی تخلیق کا مقصد بتاسکتاہے۔اور یقینا خا لقِ حقیقی اللہ تعالیٰ کے ذریعے ہی آپکو،آپکی تخلیق کا مقصد اور کامیابی کے معیار کا علم ہو سکتا ہے کہ آپکی حقیقی کامیابی کس چیز میں ہے۔ غوروفکر کرنا اس کے لئے نہایت ضروری ہے۔