مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تزکیۂ نفس

اشاعت: 2006ء

ملک سہیل احمد · اردو

تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔

رزقِ حلال

اسلام سلامتی کانظام ہے جس میں تمام انسانیت کی بھلائی پوشیدہ ہے۔اس میں رزقِ حلال بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ جس کے بغیر سلامتی کا تصور قائم ہی نہیں رہ سکتااور جب سلامتی، سلامت نہ رہی ،توکچھ بھی نہ بچا ۔ چنانچہ آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے اوپر نظر رکھیں کہ جس خوراک سے آپ کا جسم پروان چڑھ رہا ہے وہ حلال ہے بھی کہ نہیں ۔وہ کسی حق تلفی اور ظلم کی بنا پر تو حاصل نہیں کیا گیا ؟اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی تو شامل نہیں ہے؟سیّد نا محمد ﷺ کا حکمِ مبارک ہے کہ:۔

"اے لوگو! اللہ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا اور روزی کی تلاش میں غلط طریقہ مت اختیار کرنا اس لئے کہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مر سکتا جب تک کہ اسے پورا رزق نہ مل جائے اگر چہ اس کے ملنے میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔ تو اللہ سے ڈرتے رہنا اور روزی کی تلاش میں اچھا طریقہ اختیار کرنا ۔حلال روزی حاصل کرو اور حرام روزی کے قریب نہ جاؤ۔"

(بروایت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ابنِ ماجہ (زادِراہ ۸۴))

یہی وجہ ہے کہ رزقِ حلال کی تلاش بھی عبادت میں شمار ہوتی ہے،کیونکہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا سخت معیوب کام ہے۔ اسی طرح قرض سے بھی ممکنہ حد تک بچنا آپ کے لئے ضروری ہے۔رزق کے حصول میں کی جانے والیجدوجہد،اللہ تعالیٰ کی راہ میں شمار ہوتی ہے۔

نبی ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ وہ رزق کے حصول میں بہت متحرک ہے اور پوری دلچسپی لے رہا ہے تو حضور ﷺ سے عرض کیا،"اے اللہ کے رسول ﷺ اگر اس کی یہ دوڑ دھوپ اور دلچسپی اللہ کی راہ میں ہوتی تو کتنا اچھاہوتا۔"

اس پر حضور ﷺ نے فرمایا:" اگر وہ اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کے لئے دوڑ دھوپ کر رہا ہے تویہ اللہ کی راہ ہی میں شمار ہو گی،

اور اگر بوڑھے والدین کے لئے کوشش کر رہا ہے تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی شمار ہوگی۔

اور اگر یہ اپنی ذات کے لئے کوشش کر رہا ہے اور مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بچا رہے تو یہ کوشش بھی فی سبیل اللہ شمار ہوگی۔

البتہ اگر اس کی یہ محنت زیادہ مال حاصل کرکے لوگوں پر برتری جتانے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے ہے تو یہ ساری محنت شیطان کی راہ میں شمار ہوگی۔"

(بروایت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن حجر،طبرانی (زادِ راہ ۸۸))

موجودہ دور میں مال کی جو کچھ حیثیت ہے وہ تو آپ کو معلوم ہی ہے۔لہٰذا مال کا نہ ہونا آپ کو دنیا میں بے وزن بنادیتاہے اور پھر ایسے میں اور بھی خطرناک بات ہوجاتی ہے جب آپ کے مدِ مقابل بے دین قوتوں کے پاس خوب مال و اسباب ہو۔اورپھر انسان جلد باز واقع ہونے کے سبب مال کی قلت اُسے دین سے برگشتہ بھی کرسکتی ہے۔لہٰذا آپ کو اس سلسلے میں مناسب اقدامات کرنے ہی ہوں گے۔

حضرت سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:" اب سے پہلے ۔ دورِنبوت اور دور خلافت میں مال ایک ناپسند یدہ چیز شمار ہوتا تھا، لیکن ہمارے زمانے میں مال مو من کی ڈھال ہے۔"

فرمایا:" اگر یہ درہم و دینار آج ہمارے پاس نہ ہوتے تو بادشاہ اور امراء ہم کو اپنا رومال بنالیتے۔ "

"آج جس شخص کے پاس کچھ درہم و دینار ہوں اس کو کسی کام میں لگائے (تاکہ نفع ہو،مال بڑھے)کیونکہ یہ ایسا دور ہے کہ اگر آدمی محتاج ہوجائے تو سب سے پہلے وہ اپنا دین بیچ دے گا۔حلال کمائی خرچ کرنا فضول خرچی نہیں ہے۔"

(مشکوٰۃ (زادِ راہ ۸۹))

قیامت کے دن پانچ میں سے دو سوالات مال سے متعلق ہونگے ،کہاں سے کمایا ؟اور کہاں خرچ کیا؟ اس لئے آخرت کی تیاری کے لئے رزقِ حلال کاہونا ضروری ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:" ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بندہ (کسی ناجائز طریقہ سے)حرام مال کمائے اور اس میں سے ِ للہ صدقہ کرے تو اس کا صدقہ قبول ہو۔ اور اس میں سے خرچ کرے تو اس میں(مِن جانب اللہ) برکت ہو۔ اور جو شخص حرام مال (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ جائے گا تو وہ اس کے لئے جہنم کا توشہ ہی ہوگا۔ یقینا اللہ بدی کو بدی سے نہیں مٹاتا بلکہ بدی کو نیکی سے مٹاتا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ گندگی، گندگی کو نہیں دھو سکتی۔"

(بروایت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،مسند احمد)

محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔" لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ صر ف پاک ہی کو قبول کرتا ہے اوراس نے اس بارے میں جو حکم اپنے پیغمبروں کو دیا ہے وہی اپنے سب مومن بندوں کو دیا ہے،پیغمبروں کے لئے اس کا ارشاد ہے کہ"اے پیغمبرو! تم کھاؤ پاک اور حلال غذا اور عمل کرو صالح۔"

اور اہل ِ ایمان کو مخاطب کرکے اس نے فرمایا کہ "اے ایمان والو! تم ہمارے رزق میں سے حلال اور طیب کھاؤ(اور حرام سے بچو)۔"

اس کے بعد محمد رسول اللہ ﷺ نے ذکر فرمایا ایک ایسے آدمی کا جو طویل سفر کرکے (کسی مقدس مقام پر) ایسے حال میں جاتا ہے کہ اس کے بال پراگندہ ہیں اور جسم اور کپڑوں پر گردوغبار ہے اورآسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر دعا کرتا ہے۔اے میرے رب! اے میرے پروردگار ! اور حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام ہے اس کا پینا حرام ہے ، اس کا لباس حرام ہے اور حرام غذا سے اس کی نشو ونما ہوئی ہے تو ایسے آدمی کی دعا کیسے قبول ہوگی۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،مسلم)

اس لئے آپ کوہمیشہ اس بات کا دھیان رہے کہ آپ جو کھا یا پی رہے ہیں وہ حلال و درست طریقے سے حا صل کیا گیا ہو ۔اور جہاں خرچ کر رہے ہوں وہ بھی درست ہو۔کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے جائیں۔

بقول اقبالؒ

اے طائر ِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی