تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
ابتدائیہ
تمام تعریفیں اس واحد رَب العزت کے لئے ہیں جو نہ صر ف خالقِ کائنات ہے بلکہ اپنی حکمت سے رات کو دن اور دن کو رات میں پرو رہا ہے۔ اور جس نے انسان کی حیوانی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ اسکی فکری راہنمائی کے لئے سلسلہ نبوت جاری کیا،صحیفے اور کتابیں بھیجیں۔
زندگی آمد برائے بندگی
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنانے کے بعد ہمیں ایمان بھی عطاء فرمایا اب ہماری کوشش اُسے محفوظ بنانے کی ہونی چا ہیے۔ایمان بہت ہی قیمتی چیز ہے اور قیمتی چیزوں کی طرح اِس کو بھی سخت حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس سلسلے میں دو باتیں ہمیشہ نظروں کے سامنے ہونی چاہیں۔
۔ پہلی بات یہ ہے کہ، جو چیزایمان کی صورت میں ہمیں حاصل ہے، اُسکا احساس ہونا ضروری ہے ۔مثال کے طور پر ایک قیمتی ہیرا ؓکسی ایسے شخص کے پاس ہوجسے اُس کی قیمت کا صحیح اندازہ نہ ہو تو ایسے شخص کے لئے اُس کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ شخص اُس قیمتی پتھر اور عام پتھروں میں کوئی فرق نہیں کرتااِس لئے وہ اُس کی موجودگی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
۔ دوسری بات یہ کہ جس خالقِ کائنات نے ہمیں ایمان کی یہ نعمت دی ہے اُسکا شکر گزاربنا جائے اس طرح :-
* کہ یہ نعمت اللہ تعالیٰ ہی نے دی ہے۔کوئی اور اِس نعمت کے دینے میں اُس کا شریک نہیں ہے اور یہ خالص اُسی کی عنایت ہے۔
*کہ جس مقصد کے لئے نعمت دی گئی ہے اِس نعمت کو اُسی مقصد کے لئے استعمال کیا جائے۔کسی اورکام اور مقصد میں اِسے استعمال نہ کیاجائے۔
* کہ جس نے اِتنا احسان کیا ہے اُس سے اپنے تعلق کو بڑھایا جائے۔
رضائے الہٰی کے حصول میں کوشاں رہنے والے افراد کے لئے یہ بات ہمیشہ اہم ہوتی ہے کہ وہ اپنے مقصد کو کہاں تک حاصل کرسکے ہیں اور اب اُنھیں اپناجائزہ لے کر آئندہ کیا اقدامات کر نے ہوں گے۔یہ جائزہ وقتاً فوقتاً لیتے رہنا انسانی ضرورت ہے کیونکہ انسان کو یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔اسی لئے قرآن مجیدکو بھی باربار پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے تاکہ آپ رضائے الہٰی کو سمجھ کرنہ صرف اُسے اپنا نصب العین بنا سکیں،بلکہ اُس سے وقتاً فوقتاً دلائل ،ہمت وحوصلہ اور تسکین بھی حاصل کر سکیں۔اور اپنے دل کو پاک کر سکیں دوسرے الفاظ میں اپنے نفس کا تزکیہ کر سکیں۔
تزکیۂ نفس ایک ایسا مو ضوع ہے جس پرلکھنے اور بولنے کے لئے مواد اکٹھا کر نا شائد اتنا مشکل نہیں جتنا اس کو اپنی عملی زندگی میں لانا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اپنے نفس کا تزکیہ کرنے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن اس پر عمل کرنے کا ارادہ نہیں کر پاتے۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی تقریر ،درس،کتاب اور اچھے دوست آپ کو اچھی بات بتا تو سکتے ہیں لیکن آپ کی زندگی میں انقلاب نہیں لا سکتے اس کے لئے آپ کو خود ہی کوشش کرنی ہوگی ۔جب تک آپ خود اپنے آپ کو عمل پر نہیں لائیں گے اس وقت تک آپ کی زندگی میں انقلاب نہیں لایا جاسکتا۔اس کوشش میں جو آگے بڑھ گیا وہی دراصل کامیاب ہے۔
اپنی دنیا آپ پیدا کر ، اگر زندوں میں ہے
شعورِ حیات کے آغاز میں محترم یوسف اصلاحی صاحب نے بہت ابتدائی اور اہم بات کی ہے ،ان باتوں کا نگاہ میں رہنانہایت ضروری ہے۔
"شخصی تربیت و تزکیہ ہو یا اجتماعی اصلاح و انقلاب کی دعوت اس سلسلے میں دو باتیں اصولی اور اہم ہیں۔
۱۔ ایک یہ کہ تربیت و اصلاح کا نقطہ آغاز فرد کی اپنی ذات ہے۔اور اول وآخر تمام انفرادی اور اجتماعی کوششوں اور کاوشوں کا مطلوب یہی ہے کہ فرد کی شخصیت کی تکمیل ہو سکے اور وہ آخرت میں فلاح و نجات کا مستحق بن سکے ۔ قرآن وسنت کا خطاب اصلاً فرد سے ہے، اور فرد کی نجات وفلاح ہی اصل موضوع ہے۔ایک صالح اجتماعیت اور ہمہ گیر اسلامی انقلاب کا مقصودبھی یہی ہے کہ فرد کا صحیح ارتقاء ہو سکے ۔ اور سازگار فضا میں کسی روک ٹوک کے بغیروہ خودکو آخرت کی فلاح و نجات کے لائق بنا سکے۔
۲۔ دوسری بات یہ ہے کہ فرد و جماعت کی تمام کوششوں کا محور و مر کز اور منتہائے مقصود صرف خدا کی رضا اور آخرت کی فلاح ہو۔ اس کے سوا کوئی اور مقصو د ذہن وقلب کے گو شے میں ہر گز نہ ہو۔"
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توقیق دے کہ ہم اپنی اصلاح و تربیت کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کی تعمیر کے ذریعے رضائے الہٰی حاصل کرنے کی جدوجہدکرتے رہیں،تاکہ ہم کامیاب ہو سکیں۔
ملک سہیل احمد
۳۱ دسمبر ۰۶ء بمطابق ۰۹ ط ۱۴۲۷ھ