تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
آپ کو رہنا اسی دنیا میں ہے
مذکورہ تمام حقوق و فرائض کو آپ جب ہی پورا کرسکتے ہیں ،جب آپ اس دنیا کے اندر تمام معاملات میں موجود ہوں۔اگر آپ کوئی کونہ پکڑ لیں گے اور لوگوں سے تعلقات منقطع کرلیں گے تو یہ تمام حقوق ادا ہونے سے رہ جائیں گے۔
اسلام کا بنیادی ڈھانچہ ہی ایسا ہے کہ اس میں اجتماعیت کا تصورہے۔نماز ہی کو دیکھیں باجماعت ادا کرنے کا حکم ہے۔زکوٰۃ جن مستحق افراد کو دینی ہے وہ معاشرے ہی کے افراد ہیں۔روزہ رکھنے کے لئے بھی اللہ نے رمضان کے مہینے کومخصوص کر کے اجتماعیت کا تصور سمجھایا ہے۔اور حج توتمام دنیا کے مسلمانوں کی اجتماعیت کا ایسا مظہر ہے کہ جس میں پاکیزہ نظریات کے ساتھ ساتھ لباس بھی ایک جیسا ہوتاہے اور ایک واحد پروردگار کو پکارنے کا روح پرور موقع ہوتاہے۔پھر بھی اگر کوئی یہ خیال کرے کہ انفرادی طور پر نیک زندگی گزارکر وہ اللہ تعالیٰ کی نیابت کاحق ادا کر رہا ہے تو یہ خام خیالی ہے۔
محمد رسول اللہ ﷺنے تمام تر زندگی لوگوں کے درمیان رہ کر گزاری۔آپ ﷺ کا گھر بار بھی تھا جن کے حقوق ادا کرنے میں کون آپ ﷺ سے آگے ہو سکتاہے! آپ ﷺتجارت بھی کرتے تھے اور گھر کے چھوٹے موٹے کام بھی کر لیا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا کہ حضور اکرم ﷺ کے گھر میں کیا مشاغل تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔کپڑوں میں سے جوئیں نکال لیا کرتے تھے اور بکری کا دودھ دوہ لیا کرتے تھے۔
(بروایت عَمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،الادب المفرد (انتخابِ حدیث ۱۶۰))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "ایسا شخص کبر و غرور سے پاک ہے جس کا خادم اس کے ساتھ ہی شریک ِطعام ہوتا ہے۔بازار میں گدھے کی سواری بھی کر لیتاہے۔بکری پال کر اسے دوہ بھی لیتاہے۔"
(بروایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، مشکوٰۃ(انتخابِ حدیث ۱۵۸))
نبوت سے قبل کی زندگی میں آپ ﷺ انفرادی اخلاق و کردار کا اعلیٰ نمونہ تھے جس کا تما م معاشرہ اعتراف کرتا تھا۔پھر آپ ﷺ نظامِ کائنات پر غوروفکر کرنے کے لئے غارِ حرا میں وقت گزارا کرتے تھے اور جب وحی الہٰی کے ذریعے آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز کردیا گیا تو آپ ﷺ دینِ حق کی دعوت کے لئے کمر بستہ ہوگئے۔ معاشرہ ایک پروردگار کی طرف بلانے کی دعوت پرآپ ﷺسے ناراض ہوگیا ۔اورلوگ آ پ ﷺ پر طر ح طرح کے الزامات لگانے لگے۔کبھی آپ ﷺکو کاہن کہتے(یعنی کہ آپ کے پاس جن آکر اِدھر اُدھر کی خبر دیتے ہیں اور باتیں سِکھاتے ہیں)۔کبھی کہتے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں کہ جس کی فرمانبرداری ضروری ہو(یعنی یہ کہ آپ ﷺ اپنے خیالات اور نظریات لوگوں میں پھیلا کر اپنی بڑائی اور ناموَری چاہتے ہیں۔نعوذُباللہ!!:ہم ایسی بات سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔)
لیکن ان تما م جھوٹی باتوں کے باوجود آپ ﷺ نے نہ اپنے نیک برتاؤ کے اندر کو ئی تبدیلی لائی اور نہ دینِ حق کی دعوت سے اجتناب کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری تھی، لوگ خواہ کچھ کہیں لیکن آپ ﷺ نے اس جمے جمائے نظام کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی بلکہ کلمۂ حق بلند کیا۔اس کوشش کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور نظامِ حق غالب ہوگیا۔
اسی طرح اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف آپ معاشرے میں رہ کر تمام حقوق ادا کریں بلکہ انھیں راہ ِہدایت دِکھانے کی کوشش میں بھی مصروفِ عمل رہیں۔ اس عمل میں یقینا آپ کے اوپر بھی کیچڑ اچھالی جاتی رہے گی۔ جس کے لئے آپ کا تیار رہنا ضروری ہے۔ نتیجہ انشاء اللہ حق کی فتح کی صورت ہی میں نمودار ہوگا۔
نبی ﷺ کے تر بیت یافتہ ساتھیوں، جنھیں آپ صحا بہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے طور پر جانتے ہیں ،کاعمل بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔
ایک صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ :میں نے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک درہم میں چھوہارے خریدے اور چادر میں رکھ کہ انھیں اُٹھالیا۔میں نے یا کسی دوسرے شخص نے ان سے کہا: "اے امیر المومنین!یہ بو جھ میں اُٹھالیتاہوں۔ "حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: " نہیں! بچوں کاباپ بوجھ اٹھانے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔"
(بروایت صالح کی دادیؒ، الادب المفرد (انتخابِ حدیث ۱۵۹))