تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
غور و فکر اور جستجو
قرآن مجید نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حق کی تلاش میں غور و فکرکو اس طرح بیان کیاہے:-
"ابراہیم ؑ کو ہم اسی طرح زمین وآسمان کا نظام ِ سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تواس نے ایک تارادیکھا،کہا "یہ میرارَب ہے"مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا" ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں۔"
پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا "یہ میرا رَب ہے۔" مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا"میرے رَب نے میری راہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا۔"
پھر جب سورج کو دیکھا توکہا" یہ ہے میرا رَب،یہ سب سے بڑا ہے۔"
مگر جب وہ بھی ڈوباتوابراہیم ؑ پکار اٹھا "اے برادرانِ قوم،میں ان سب سے بیزار ہوں جنھیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔میں نے تو یکسوہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیداکیاہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔"
گویا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے اوپر یقین کرنے کے لئے یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے ۔جو اس کتاب کو پڑھے گا وہ اس بات کو ماننے پر مجبو ر ہوجائے گا کہ اس کائنات کا بنانے والا ایک ہی ہے اور وہ بہت قوت والا اوربااقتدار ہے جس کے چلانے سے اتنی بڑی کائنات ایک مقررہ حساب سے چلی جارہی ہے اور اس میں کوئی رخنہ اندازی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔آپ بھی اس کائنات کے نظام پر غور و فکر کریں ۔آپ دیکھیں گے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پرجو یقین ہے اس میں مزید پختگی آتی جائے گی ۔
اس عجیب و غریب نظامِ کائنات پر غور و فکر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنی رحمت سے نوازتے ہوئے حقیقت کے علم تک پہنچا دیا"۔جبکہ اس کلمہ حق کو بلند کرنے پر عالَم کفر نے ابراہیم علیہ السلام کے خلاف طوفان برپا کردیااور جھگڑا کرنے لگے :-
"کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام سے جھگڑا کیاتھا؟ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم علیہ السلام کا رَب کون ہے؟ اور اس بناء پر کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے حکو مت دے رکھی تھی۔
جب ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ: "میرا رَب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے"
تو اس نے جواب دیا :" زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے" ۔
ابراہیم ؑنے کہا " اچھا،اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے،توُ ذرا اسے مغرب سے نکال لا"۔""
یہ سن کر وہ منکرِ حق ششدر رہ گیا ،مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔"
حضرت محمد ﷺ بھی غارِ حرا میں غور وفکرکرتے تھے دنیا کے اتنے عظیم الشان نظام کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کے بارے میں سوچا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آئے۔
"پڑھو اپنے رَب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ، جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ۔ پڑھو اور تمھارا رَب بڑا رحیم ہے ،جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیاجو وہ نہ جانتا تھا۔"
آپ بھی غور و فکر کریں۔یہ معا ملہ بہت اہم ہے اس لئے ان باتوں کو آپ نے صرف پڑھنا ہی نہیں ہے بلکہ غور و فکر کرناہے ۔اللہ تعالیٰ آپ سے مخا طب ہے: -
"کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو، ان سے کھیتیاں تم اُگاتے ہو یا ان کے اُگانے والے ہم ہیں؟ہم چاہیں تو ان کھیتوں کو بھُس بنا کر رکھ دیں، اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ کہ ہم پر تو اُلٹی چٹی پڑگئی، بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔
کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا،یہ پانی جو تم پیتے ہو،اُسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں؟ہم چاہیں تو اُسے سخت کھاری بناکر رکھ دیں،پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے ؟
کبھی تم نے خیال کیا ،یہ آگ جو تم سُلگاتے ہو، اس کا درخت تم نے پیداکیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟ہم نے اس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لئے سامانِ زیست بنایا۔"
پس اے نبی ﷺ اپنے رَب عظیم کے نام کی تسبیح بیان کرو۔"
ذرا اِن چیزوں کے بغیر اپنی زندگی کا جائزہ لیجئے۔
۔ اگر زمین کوئی پیدا وار نہ اُگائے تو کون ہے جو اللہ کے سوا اس کو اُگانے کی صلاحیت رکھتاہو؟
۔ اگر آگ نہ ہو تو اتنی بڑی بڑی ایجادات ہونا کتنا ناممکن ہے؟
۔ اگر پانی کو اللہ تعالیٰ زمین میں جذب کردے تو کیا آپ زندہ رہ سکیں گے؟
دیکھا آپ نے کتنے سامنے کی بات ہے ۔آپ نے کبھی اس طرح سو چا ہے؟ زمینی پیدا وار ، پانی اور آگ آپ کی زند گی کے لئے کتنے ضروری ہیں؟ اسی طرح اس کائنات اوراس کے اند ر موجود تما م چیزوں کو وقتاً فوقتاً دیکھیں اور غور کریں۔
اسی طرح یہ بھی دیکھیں کہ آپ کے اپنے جسم کے اند ر کیا کیا نظام کام کررہے ہیں ۔
۔ آپ کا دل کیسے دھڑکے جارہا ہے ؟
۔ آپ کی سانسیں کیسے جاری وساری ہیں؟ کبھی کسی کو سانس کی تکلیف ہوجائے تو اس کا حال دیکھیں کتنی دشواری سے گن گن کر سانسیں لیتا ہے اور آپ کو تو پتا ہی نہیں چلتا۔
۔ آپ کی پلکیں کیسے تیزی سے جھپکی جارہی ہیں؟صرف ایک گھنٹے میں اس کے جھپکنے کی تعداد تو نوٹ کریں۔اگر یہ جھپکنا بند کردیں تو آپ کی آنکھیں سوکھ کر رہ جائیں۔
یہ اور اس جیسے کئی نظام آپ کے چھوٹے سے جسم میں کام کررہے ہیں ۔جب آپ غور کریں گے تو آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ تو اپنے جسم کو بھی صحیح طور سے نہیں جانتے۔یہ آپ کے لئے کھلا میدان ہے کہ اس تخلیق کی حیرت انگیز وادی کو تلاش کرتے جائیں۔
اس موقع پر آپ کا دل جو گواہی دے گا اس کو قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے :-
"جو اٹھتے ،بیٹھتے اور لیٹتے ، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں ۔(وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں)" پروردگار، یہ سب کچھ توُ نے فضول اور بے مقصدنہیں بنایا ہے، توُ پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔پس اے رَب، ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔"