مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تزکیۂ نفس

اشاعت: 2006ء

ملک سہیل احمد · اردو

تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔

منہیات

اللہ تعالیٰ آپ سے مخاطب ہے کہ

" اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔ اورنہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔تجسس نہ کرو ۔ اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔"

(سورۃ الحجرات:۴۹ ۔ آیات ۱۱،۱۲)

اب آپ ان تمام منکرات کا ایک ایک کر کے جائزہ لیں:

۱۔ " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔"

معاشرے میں عمو ماً یہ برائی پائی جاتی ہے کہ جب چند افراد جمع ہوتے ہیں تو دوسروں کا مذاق اڑانا زندہ دلی خیال کیا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل پسند نہیں ہے۔

اس آیت مبارکہ سے یہ بات بھی سمجھی جاسکتی ہے کہ مخلوط محافل یعنی نا محرم مردوں اور عورتوں کا اکٹھا اٹھنا،بیٹھنا اور ایک دوسرے پر رائے زنی کرنا ہے اچھا نہیں سمجھا گیا۔ لہٰذا اس کی توقع ہی نہیں رکھی گئی کہ ایک صالح معاشرے میں مخلوط محافل جم کریں گی اس لئے نصیحت یوں کی گئی کہ مرد مردوں کا اور عورتیں عورتوں کا مذاق نہ اڑائیں ۔

مذاق نہ اڑانے کی ممانعت کے ساتھ جو بات کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ مذاق اڑانے والے افراد سے بہتر ہوں ۔ کیونکہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور نیت کس کی زیادہ خالص ہے ؟ عمل کس کا زیادہ پختہ ہے یہ تو اللہ ہی جانتاہے۔اس لئے آپ دوسروں کانہ صرف خود مذاق نہ اڑائیں بلکہ اپنی محفل کو بھی اس سے پاک رکھنے کی کوشش کریں۔

۲۔ " آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو۔"

آپس میں ایک دوسرے کو لعن طعن کرنا بھی ممنوع ٹھہرایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک دوسری جگہ آیا ہے کہ:

"تباہی ہے منہ در منہ طعنہ دینے اور پیٹھ پیچھے برا کہنے والے کی"

(سورۃ الھمزہ)

محمد رسول اللہ ﷺنے معراج کی رات کا واقعہ بتاتے ہوئے فرمایا:

"پھر میرا گزر کچھ ایسے مردوں اور عورتوں پر ہوا جن کو الٹا لٹکا دیا گیا تھا۔"

میں نے پوچھا: "اے جبریل یہ کون لوگ ہیں؟"

انہوں نے کہا : "یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں دوسروں کے اندر ان کی موجودگی میں کیڑے نکالتے تھے اور یہ وہ لوگ ہیں جو پیٹھ پیچھے برائی بیان کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ بات فرمادی ہے۔" "وَیل ُ لِّکُلِّ ھُمَزَۃ لُّمَزَۃ" ۔

(بروایت راشد ابنِ سعیدی مقرائی ،بہیقی(زادِراہ ۱۷۲))

طعنہ زنی سے دل ایک دوسرے سے اُکھڑ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی صرف خامیاں تلاش کرکے ہدف ِتنقید بنایا جاتاہے اور اچھائیاں پسِ پشت ڈال دی جاتی ہیں۔اس سے خیر کے فروغ کے بجائے بدی کی نشوونما ہوتی ہے جومعاشرے کو گھن کی طرح کھو کھلا کر کے رکھ دیتی ہے لہٰذا یہ زہرِ قاتل ہے۔اس خامی اس مکمل طور سے بچنا آپ کا فرض ہے ۔

۳۔ " اورنہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔"

آج کل رواج ہے کہ لوگوں کے بُرے نام رکھ لئے جاتے ہیں جنھیں وہ ناپسند کرتے ہیں اور جب اُنھیں ان کے بُرے ناموں سے پکارا جاتاہے تو ان کے دل کڑھتے ہیں ۔آپ کے مہربان پروردگار نے اس طرح کے نام رکھنے سے حکماً روک دیا ہے اب اگر کوئی اس طرح کی کسی حرکت کا ارتکاب کررہاہے تو اسے دل سے توبہ کر کے آئندہ کے لئے بعض آجانا چاہیے۔

۴۔ " ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں۔"

اللہ تعالیٰ کو ظلم سخت ناپسند ہے۔ اس نے انسان کو جو کچھ قوت و اختیار کی آزادی دی ہے اس کا منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اختیار کی جائے نہ کہ ان صلاحیتوں کو اپنے اور دوسروں پر ظلم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے۔ اور یہ تو نہایت ہی بے حیائی کا کام ہے کہ انسان اپنی غلطیوں پر فخر کرنے لگے۔

۵۔ " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔"

کوہتائی کے اعتبار سے عمو ماً یہ کوہتائی بھی بہت عام ہے اس کے باوجود کہ ہم جس رَب سے محبت کا دم بھرتے ہیں اس نے اسے ممنوع قرار دیا ہے۔

یہ نہایت بری بات ہے کہ دوسروں کے بارے میں خواہ مخواہ برے گمان قائم کرلے جائیں اور جب تک ان کا بلا جواز ہونا ثابت نہ ہو جائے قائم رکھے جائیں ۔حالانکہ تعلیمات یہ ہیں کہ ممکنہ حد تک فرد کے ساتھ حسن ِظن رکھنا چاہیے اِلاّیہ کہ غلط بات ثابت ہوجائے۔

۶۔ "تجسس نہ کرو ۔"

پروردگار کائنات نے یہاں جس تجسس سے منع فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی خواہ مخواہ دوسرے لوگوں کے معاملات کے تجسس میں لگا رہے ۔

فلاں کیا کررہا ہے؟

وہ وہاں کیوں جارہا ہے ؟

یہ کہاں سے آرہا ہے ؟

غرض یہ کہ افراد کے ذاتی معاملات کی چھان بین میں لگا رہتا ہے اور مقصد یہ ہو کہ اسکی کوئی خامی ، کوئی کمزوری ہاتھ آجائے جس سے کلیجہ ٹھنڈا ہوجائے ۔ یہ بیماری حسد و بغض و عناد کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔رہا ایسا تجسس کہ جس کے ذریعے ایک مسلمان، پڑوسی کے حالات جاننا چاہتاہے تاکہ اسکی مشکلات میں اسکی مدد کرسکے تو وہ منع نہیں بلکہ دین کا تقاضہ ہے۔

۷۔ "اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مر ے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کر ے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو۔"

کسی فر د کی غیر موجودگی میں اس کی کوئی ایسی بات بیان کرنا کہ اگر اس کی موجودگی میں بیان کی جاتی تواسے بُرا محسوس ہوتا،تو ایسی بات غیبت ہے ۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیاہے؟"

صحابہ ؒ نے جواب دیا کہ " اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ باخبر ہیں۔"

آپ ﷺ نے فرمایا:" تمہارا اپنے (مسلمان) بھائی کے بارے میں ایسی باتیں بیان کرنا جنھیں وہ نا پسند رکھتاہے غیبت ہے۔"

سوال کیا گیا: "اگر واقعی کوئی عیب موجود ہو اور اس کا اظہار کیاجائے تو کیا یہ بھی غیبت ہے؟"

آپ ﷺ نے فرمایا: " ہاں، اگر کسی واقعی عیب کو بیان کیا جائے تو یہ غیبت ہے۔اور اگر یہ عیب موجود نہیں ہے تو پھر اس قسم کا طرزِ عمل بہتان تراشی ہے۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہؓ ،مسلم (انتخابِ حدیث ۳۱۰))

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے دن آدمی کے پاس اس کا کھلا ہوا نامہ اعمال لایاجائے گا۔

( وہ اس کو پڑھے گا) پھر کہے گا "اے میرے رَب ،میں نے دنیا میں فلاں فلاں نیک کام کیے تھے وہ تو اس میں نہیں ہیں؟"

اللہ تعالیٰ جواب دے گاکہ "لوگوں کی غیبت کرنے کی وجہ سے وہ نیکیاں تمہارے نامہ اعمال سے ہٹا دی گئی ہیں۔"

(بروایت ابو اما مہ ، ترغیب و ترہیب (زادِ راہ ۲۸۱))

یعنی جھوٹا الزام لگانا بہتان ہے اور واقعی موجود عیوب بیان کرنا غیبت۔خواہ واضع الفاظ میں غیبت کی جائے یا اشارے اور کنایہ میں، زندہ کی غیبت کی جائے یا مردہ کی ، بہر حال حرام ہے۔

ہاں تین صورتوں میں عیب غیر موجودگی میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ ظالم کے خلاف مظلوم کی شکایت ہراس شخص کے سامنے بیان کی جاسکتی ہے جو ظلم کو رفع کرسکتا ہو۔

ہند بنتِ عتبہ نے محمد رسول اللہ ﷺ سے عر ض کیا :" ابو سفیان ایک بخیل آدمی ہیں، مجھے اور میرے بچوں کو اتنا نہیں دیتے جو ضرورت کے لئے کافی ہو۔"

(الحدیث)

شوہر کی غیر موجودگی میں بیوی کی طرف سے یہ شکایت اگر چہ غیبت تھی مگرمحمد رسول اللہ ﷺ نے اس کو جائز رکھا ، کیونکہ مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ ظلم کی شکایت کسی ایسے شخص کے پاس لے جائے جو اس کو رفع کرا سکتاہو۔

۲۔ اصلاح کی نیت سے کسی شخص یا گروہ کی برائیوں کا ذکر ایسے لوگوں کے سامنے کیا جائے جن سے یہ اُمید ہو کہ وہ ان برائیوں کو دور کرنے کے لئے کچھ کر سکیں گے۔ یا وہ خود ان بُرائیوں کے شر سے بچ سکیں۔

۳۔ اگر کوئی کاروبار یا شادی وغیرہ کے لئے کسی کے بارے میں معلومات حاصل کر رہا ہو ،تو جس سے پوچھا جارہا ہے اس کا فرض ہے کے اس کہ بارے میں واضح طور پر جو اچھائیاں ،بُرائیاں متعلقہ شخص میں ہیں بغیر کمی یا بیشی کے بتا دے۔اس صورت میں اس کا متعلقہ شخص کی غیر موجودگی میں بات کرنا، غیبت شمار نہ ہوگی۔

"اللہ سے ڈرو، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے۔"

(سورۂ الحجرات ۱۱ تا ۱۲)

قرآن مجیدکے ان دونوں اقتباسات اور احادیث کی روشنی میں آپ کو اپنی اصلاح کا بہترین موقع میسر آیا ۔علم کے آجانے کے بعد عمل آپ نے ہی کرنا ہے اور خود ہی ان تما م تر باتوں کا خیال رکھنا ہے،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات ہیں جو زندگی بھر آ پ کی راہنمائی کریں گی۔اس کے علاوہ بھی آپ اپنی روزمرہ کی روٹین میں قرآن مجید کے مطالعہ کو شامل رکھیں تاکہ آپ کامیابی کے معیار پر اپنے آپ کو پرکھ سکیں۔

محسنِ انسانیت ﷺ کی سیرت کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ ان اصحابِ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی زندگیوں کے مطالعے سے بھی فیض حاصل کریں کہ جنھوں نے براہ راست محمد الرسول ﷺ سے علم حقیقی حاصل کیا اور عملی زندگی میں اپنایا۔یہ آپ کے لئے اندھیری رات میں روشن ستاروں کی مانند ہیں کہ جن کی روشنی میں آپ اپنی زندگی کے عملی میدانوں میں راہنمائی حاصل کر سکیں گے۔

تمام تر کوششوں اور جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ وہ آپ کی اور ہماری تمام تر جدوجہد کو قبول فرمائے ۔اور بروزِ قیامت اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے ،اپنی رضا مندی کی جگہ جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔اور عذاب کی جگہ دوزخ میں ایک پَل کے لئے بھی نہ لے جائے۔آمین ثم آمین