تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
توحید، رسالت و آخرت
"اتنے میں شہر کے دور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہو ا آیا اور بولا " اے میری قوم کے لوگو! رسول کی پیروی اختیار کرلو۔
۔ پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پرہیں۔
۔ آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیاہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے؟
۔ کیا میں اس کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا معبود بنالوں؟
۔ حالانکہ اگر خدائے رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ اُن کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چُھڑا ہی سکتے ہیں۔
۔ اگر میں ایسا کروں تومیں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجاؤں گا۔
۔ میں تمہارے رَب پر ایمان لے آیا ، تم بھی میری بات مان لو۔"
۱۔اللہ، تمام جہانوں کا بادشاہ :
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے کہ جس نے آپ کو بنایا اور اس کائنات کوآپ کے لئے تخلیق کیا ہے۔ وہ رَب ایسا ہے کہ جس نے آپ کی تمام تر ضرورتوں کے مطابق کا ئنات تخلیق کی ہے۔جو بہت محبت رکھنے والا رَب ہے۔ اسکی محبت اور عنایات کا جائزہ آپ اپنے آغاز سے لے سکتے ہیں، خواہ آپکی بینائی ، سماعت اور گویائی کی صورت میں ہو یاوالدین کی صورت میں ۔پھر اس نے آپ کو سیدھی راہ بتلانے کے لئے ایسے مکمل انسان بھیجے جو زندگی گزار کرآپ کو عملی طور پر زندگی گزارنے کا گُر سکھا سکیں ۔ آپ کا سب سے بڑا محسن اللہ تعالیٰ آپ کو ہر وقت دیکھ رہا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ بھی اس سے محبت کا تعلق رکھیں اس کی نافرمانی نہ کریں شیطان مردود کے بہکاوے میں نہ آئیں ۔جو آپ کا دشمن ہے۔
انسان کمزورہے ، غلطیاں کر جاتاہے۔ اس پر پروردگار عالَم فرماتا ہے۔اعتراف کرلو ! آئندہ نہ کرنے کا عہد کرکے پلٹ آؤ ، میں معاف کر دوں گا، چاہے جتنے ہی بڑے گناہ کر چکے ہو ۔ اگر پھر کبھی خدا ناخواستہ غلطی ہوجائے (جو کہ نہیں ہونی چاہیے) تو پھر سچے دل سے تو بہ کرو میں پھر معاف کر دوں گا۔اسکی رحمت سے اس طرح مایوس ہوجانا درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اب کبھی معاف نہیں کرے گابلکہ جب تک اُس نے آپ کو زندگی کی مہلت دی ہوئی ہے آپ جب جب ،اُس کی طر ف پلٹیں گے وہ غفور و رحیم ذات آپ کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے دے گی ۔آپ خود بھی نہیں چاہیں گے کہ آپ کا محبوبِ حقیقی آپ سے لمحہ بھر بھی ناراض رہے۔اس لئے اس میں تاخیر صحیح نہیں۔
"(اے نبیﷺ)کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے،اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ،یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے ،وہ تو غفور و رحیم ہے،پلٹ آؤ اپنے رَب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اس کے ،قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمھیں مدد نہ مل سکے۔ اور پیروی اختیار کر لو اپنے رَب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی،قبل اس کے کہ تم پراچانک عذاب آجائے اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے "افسوس میری اس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا۔یا کہے " کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔" یا عذاب دیکھ کر کہے" کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں سے ہوجاؤں۔" (اور اس وقت اُسے یہ جواب ملے کہ)" کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آچکی تھیں ،پھر تو نے انھیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔" آج جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیا جہنم متکبروں کے لئے کافی نہیں ہے؟ اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ اختیار کیا ا ن کے اسبابِ کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔"
اللہ تعالیٰ تو آپ سے سودا کر رہا ہے ۔اول توساری نعمتیں دی ہوئی اسی کی ہیں لیکن ان ہی نعمتوں کے بارے میں کہتا ہے کہ ان کو میرے بتائے ہوئے طریقہ سے استعمال کرو گے تو تمھیں بے حساب نعمتوں اورآخرت کی حقیقی کامیابی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی فتح و نصرت سے نوازوں گا۔
"۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذابِ الیم(دردناک عذاب)سے بچادے؟
۔ ایمان لاؤ اللہ پر اور اسکے رسول ﷺ پر
۔ اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔
* اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور ابدی قیام گاہ کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطاء فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی ۔
* اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا۔اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔اے نبی ﷺ ، اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔"
اللہ تعالیٰ کو جو چیز سخت نا پسند ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کی ذات واحد ہے ۔وہ اکیلا ہے اسکی ذات صفات میں کوئی ذرہ برابر بھی شریک نہیں۔اس کا کوئی خاندان نہیں۔یہ بنیاد ہے جس پر مسلم ،مؤمن اور مجاہد کی تعمیر ممکن ہے۔ اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ، یہ روح ہے۔زندگی کے تمام تر شعبوں پراللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ہی عمل کیا جائے گا کیونکہ حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہم اس کے نائب کی حیثیت سے انتظام کرنے والے ہیں۔
""خبردار ! دین خالص اللہ کا حق ہے۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے اس کے سوا دوسرے سر پرست بنارکھے ہیں (وہ اپنے اس فعل کی توجیہہ یہ کرتے ہیں کہ )ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں ،اللہ یقینا ان کے درمیان ان تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا ، جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں ۔اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر ِحق ہو۔"
محمد الرسول ﷺ نے فر مایا " جس شخص کو تنگ دستی لاحق ہو، اسے دور کرنے کے لئے انسانوں کے پاس جائے ،تو ایسا شخص اس لائق ہے کہ اس کی ضرورت پوری نہ ہو، اور جو اپنی ضرورت کو اللہ کے پاس لے جائے اور اس سے حاجت روائی کا طالب ہو تو اللہ یا تو اس کو دنیا میں رزق دے گا یا اپنے پاس بلالے گا اور وہاں اپنی نعمتوں سے نوازے گا۔"
(بروایت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ،مسند احمد(زادِراہ ۱۰۰))
۲۔ محمد الرسول ﷺ(پروردگارعالم کے پیغامبر) :-
اللہ تعالیٰ نے جب سے اس کائنات میں انسان کو بھیجا ہے تو نہ صر ف اس کی حیوانی ضروریات کا خیال رکھا ہے بلکہ انسان کی راہ نمائی کے لئے سلسلہ ٔرسالت بھی قائم فرمایا یعنی ان ہی انسانوں میں سے وقتاً فوقتاً ایسے برگزیدہ انسان بھیجے جنھیں حقیقت کا علم دے کر انسانوں کی راہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔تاکہ انسان اس امتحان گاہ میں اپنے رَب کو پہچان کر اس کی اطاعت کرے اور کامیابی حاصل کرلے۔
کیونکہ یہ بہت ہی اہم اور نازک معاملہ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے دنیامیں تقریباً ایک لاکھ چو بیس ہزار معلمین وقتاً فوقتاً بھیجے جو انسانوں کی راہنمائی کرکے انھیں سیدھا راستہ بتاتے،پھر جو لوگ ان کے دِکھائے گئے راستے پر چلنے پر تیار ہو جاتے وہ ان کی راہنمائی کرتے ۔اسی سلسلے کی اختتامی کڑی، آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جوآپ کی راہنمائی کے لئے تشریف لائے تاکہ اس اہم معاملے کے سمجھنے میں کوئی کمی نہ ہو اور کسی غلطی کا احتمال نہ رہے۔
محمد الرسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول اور نبی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے انہی کو منتخب کیا۔تاکہ وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ اِس کی تشریحات بھی بتائیں اور آپ کو عملی طور پر زندگی گزار کردِکھائیں۔اس مقصد کے لئے رسول اللہ ﷺ کی سیرت آج بھی آپ کے سامنے ہے ۔جس میں زندگی گزارنے کے تمام بنیادی اصول ،اور اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے کے سب طریقے موجود ہیں۔
محمد رسول اللہ ﷺ نے جس جس طرح زندگی گزاری ہے اسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آئیڈیل /نمونہ بنا دیا ہے کہ اگر آپ ان کی زندگی کی طرح اپنی زندگی گزاریں گے تواللہ تعالیٰ آپ سے راضی اور خوش ہوجائے گا۔قرآن مجید میں ارشاد ہے:۔
"وہی(زبردست و حکیم بادشاہ)ہے جس نے اُمیّوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا، جو انھیں اُس کی آیات سناتاہے ،ان کی زندگی سنوارتاہے،اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتاہے،حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔اور (اِس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو اَبھی اِن سے نہیں ملے ہیں۔یہ اُس کا فضل ہے،جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔"
"(اے نبی) کہوکہ میرا کام اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اُس کے پیغامات پہنچادوں۔ اَب جو بھی اللہ اور اُس کے رسول کی بات نہ مانے گا اُس کے لئے جہنم کی آگ ہے اورایسے لوگ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔"
کامیابی دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔مقصد اور راستہ ہمیشہ دل ودماغ پر واضح ہونا بہت ضروری ہے ورنہ ناکامی کا خدشہ باقی رہتا ہے۔
اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آپ کو اپنے کالج جاناہے اور فرض کرلیں وہاں جانے کا ایک ہی راستہ ہے۔اب جب آپ گھر سے نکلیں گے تو کالج جانے کا مقصد اور اسکی سمت کو ذہن میں رکھتے ہوئے سفر کریں گے راستہ کشادہ ملے گا تو بھی گزریں گے اور اگر تنگ ہوا تو بھی ۔ کیونکہ آپ کا مقصد، آپکی منزل ، اِسی بات کا تقاضہ کرتی ہے۔یہاں ہم تین رویوں کا جائزہ لیتے ہیں :-
۔ ایک طالبِ علم ہے وہ صرف کشادہ راہ پر چلتاہے خواہ وہ کہیں بھی جاتی ہو،جہاں اچھی سڑک دیکھی وہیں مڑگیا ۔آپ کیا کہتے ہیں ؟ کیا اس لڑکے کا یہ عمل اسے اسکی منزل پر پہنچا دے گا؟
۔ اور ایک دوسرا طالبِ علم ہے وہ یہ کہتا ہے کہ میں تو تنگ راستے پرہی چلوں گا اور وہ اپنے لئے تنگ راستوں کو ہی منتخب کرلیتا ہے ۔ تنگ سے مزیدتنگ راستے پر چلتا رہتا ہے اور اس کی تلاش میں رہتا ہے۔ آپ یہی کہیں گے کہ یہ لڑکا بھی اپنی منزل بھول چکاہے۔اس کی منزل تو کالج نہیں رہی بلکہ" تنگ راستہ" بن گئی ہے۔
۔ ایک تیسراطالبِ علم ہے جو راستے کے بجائے منزل پر نظر رکھتا ہے اور اُس راستہ پر چلتا ہے جو اُسے منزل تک پہنچا دے خواہ وہ راستہ اُس کے لئے آسان ہو خواہ مشکل ۔وہ راستے کاانتخاب منزل کو دیکھ کر کرتاہے ۔آپ یقینا یہی کہیں گے کہ یہ لڑکا درست سفرکر رہا ہے جو اُسے واقعی منزل ِ مقصود تک پہنچا دے گا۔
اب آپ اپنی زندگی کو لیجئے۔ سب سے پہلے آپ کو اپنی منزل مقرر کرنا نہایت ضروری ہے۔ تو جناب آپ کی زندگی کا مقصد " رضائے الٰہی " کا حصول ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کو راضی کرناآپ کا مقصد ہے۔اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کیسے راضی ہوگا؟ آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ اللہ تعالیٰ آپ سے ناراض ہو رہا ہے یا خوش ہو رہا ہے؟
اسی مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ایک کتاب قر آن مجید بھیجی ہے جس میں آپ کو بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کن باتوں سے راضی اور خوش ہوتاہے اور کن باتوں سے ناراض اور غصہ ہوتا ہے۔ وہ کیا کام ہیں جن پرآپ کو انعامات ملیں گے اور جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہوگی اور کیا کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو درد ناک عذاب دے گا اور جہنم میں جلائے گا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اوریہ کہ میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں؟"
لوگوں نے جواب دیا:" ہاں ہم ان دونوں باتوں کی گواہی دیتے ہیں۔"
اِس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: "اِس قرآن کا ایک سرا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اِس کا دوسرا سراتمہارے ہاتھوں میں ہے پس قرآن کو مضبوطی سے تھامو تو تم سیدھی راہ سے کبھی نہیں بھٹکو گے اور نہ اِس کے بعد ہلاکت سے دوچار ہوگے۔"
(بروایت ابو شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترغیب و ترہیب (زادِراہ ۲۰))
آپ ﷺ نے فرمایا" میں تمھارے لئے وہ چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ جسے اگر تم نے مضبوطی سے تھامے رکھا تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے یعنی اللہ کی کتاب اور اُس کے نبی ﷺ کا طریقہ۔"""
(بروایت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترغیب و ترہیب(زادِراہ۲۱))
لیجئے آپ کے ہاتھ میں نبی ﷺ نے شا ہ کلید (Master Key)دے دی کہ قرآن مجید ہی وہ نسخہ ہائے کیمیا ہے کہ جس کے اندر زندگی کاراز چھپا ہوا ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہی وہ واحد راستہ ہے جو کامیابی کی طرف جاتاہے۔
یعنی دو بنیادیں قرار پائیں
۱۔قر آن ۲۔محمد رسول اللہ ﷺ کاطریقہ
"حقیقت یہ کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انھیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے، اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انھیں یہ خبردیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کررکھاہے۔"
(سورہ بنی اسرائیل آیات ۹ ، ۱۰)
آپ بھی محمد الرسول ﷺ سے محبت رکھتے ہیں لیکن کتنے ہی احکامات ہیں جن کو آپ عملی زندگی میں نظر انداز کر تے چلے جارہے ہیں اورپھر بھی آپ کے دعویٰ محبت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اس کے بر عکس صحابہ کرام کا حال تو یہ تھا کہ احکامات کی پابندی تو کرتے ہی تھے اس کے ساتھ ہی محمد الرسول ﷺ سے جس طرح کی محبت رکھتے تھے اس کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن قرۃ نے اپنے والد کے حوالے سے بیان کیا کہ :-
"میں (قرہ) حضور ﷺ کی خدمت میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ حاضر ہوا اور ہم لوگ آپ ﷺ پر ایمان لائے۔ اس وقت حضور ﷺ کے پیرہن کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔" (قرہ کہتے ہیں)کہ "میں اپنا ہاتھ نبی ﷺ کے کرتے کے اندر لے گیا اور مہرِ نبوت کو چھوا۔"
عروہ جو اس حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں کہ "اسی وجہ سے ہمیشہ معاویہ اور ان کے لڑکے کو میں نے اس حال میں پایا کہ ان کے بٹن کھلے رہتے تھے، جاڑے کے موسم میں بھی اورگرمی کے موسم میں بھی۔"
(بروایت عروہ بن عبداللہ ، ابنِ ماجہ ،زادِراہ ۳۷۷))
محمد رسول اللہ ﷺ سے اس طرح کی اطاعت اور محبت کا جذبہ اگر آپ کے اندر پیدا ہوجائے تو آپ کا کامیابی حاصل کر لینا یقینی ہے۔اس کے بغیر آپ کا ایمان نامکمل ہے۔اور نامکمل ایمان سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت حاصل نہیں کی جاسکتی ۔
۳۔قیامت
آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے خلیفہ بنایا گیا ہے ۔اور اس کے لئے آپ کو مہلت اور اختیار دیا گیا ہے تو یقینا اس کے بعد اللہ تعا لیٰ حساب بھی لے گا، اِسی کا نام قیامت ہے ۔جس میں وہ اپنی دی گئی نعمتوں کے متعلق اپنے بندوں سے سوال کرے گا کہ میں نے تمھیں اپنا نائب بنایاتھا تو تم نے کہاں تک میرے احکامات کو اپنے اوپر اور زمین پر نافذ کرنے کی کوشش کی؟اُس وقت آپ کو اِنفرادی طور پر اپنی کوششوں اور جدوجہد کے بارے میں بتانا ہوگا۔وہاں کوئی دوسرا آپ کی جگہ جواب نہ دے گا۔اب آپ اپنے دل سے ایک سوال کریں کہ :-
موجودہ زندگی میں اِس لمحہ تک کا،جس میں میں جی رہاہوں اگرمیں اپنا جائزہ لوں تو کیا میں مطمئن ہوں کہ میں اُس خوب جاننے والی ہستی کو اطمینان بخش جواب دے سکوں گا؟اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:۔
"کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یو نہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟ کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو(رحمِ مادر میں) ٹپکایا جاتاہے؟ پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضاء درست کئے، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔ کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے؟"
اس سلسلے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اس مہلت ِعمل کے اندر اند راللہ کی طرف پلٹ آئیں۔موت کے فرشتے دیکھ لینے کے بعد توبہ کا جو عظیم الشان دروازہ ہے وہ بند ہوجاتا ہے۔اور کوئی موقع آپ کے ہاتھ نہیں رہتا۔ فرعون کا انجام آج بھی ہمارے لئے نشانِ عبرت ہے :-
"اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے۔پھر فرعون او ر اس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے،حتیٰ کے جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا " میں نے مان لیا کے خداوندِ حقیقی اس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سرِ اطاعت جھکانے والوں میں سے ہوں" (جواب دیا گیا) " اب ایمان لاتا ہے! حالانکہ اس سے پہلے تک تُو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔اب تو ہم صر ف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تُوبعد کی نسلوں کے لئے نشانِ عبرت بنے۔اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں- "
یہ بات بھی یقینی ہے کہ آپکی موت کے لئے جو وقت مقرر کیا گیا ہے اُس کا آپ کو نہیں معلوم، ہو سکتا ہے کہ وہ قریب ہی ہو۔ کیونکہ اس کا آنا یقینی ہے اور وقت اور عمر کی کوئی قید نہیں اس لئے ہر وقت تیار رہیں، اپنے آپ کو جسمانی طور پر بھی پاک رکھیں اور دل و دماغ کو بھی ہر طرح کی آلائشوں سے پاک رکھیں۔ارشادِباری تعالیٰ ہے کہ:۔
وہ کہتے ہیں "جب ہم ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے؟"ان سے کہو "تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاؤ، یا اس سے بھی زیادہ سخت چیز جو تمھارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو" (پھر بھی تم اٹھ کر رہو گے)،وہ ضرور پوچھیں گے " کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا؟" جواب میں کہو " وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا" وہ سر ہلا ہلا کر پوچھیں گے" اچھا،تو یہ ہو گا کب؟" تم کہو " کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگاہو۔"
(سورہ بنی اسرائیل آیت ۴۹ تا ۵۱)
"ہم نے تم لوگوں کو اِس عذاب سے ڈرادیا ہے جو قریب آلگا ہے۔ جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا۔"
اب یہ بات آپ کی سمجھ میں آگئی کہ قرآن مجیددراصل اللہ تعالیٰ کا خط ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کوبھیجا ہے۔ جس کے اندر آپ کی کامیابی کا راز موجود ہے ۔اس رازکو جاننے کے لئے آپ کو قرآن مجید سمجھ کر پڑھنا ہوگا ۔قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا ہے اس لئے اس کو جاننے کے دو طریقے ممکن ہیں یا توآپ کو عربی زبان سمجھ آتی ہو،اور آپ اس کوسیکھ لیں یاآپ اس کا ترجمہ بھی پڑھیں اور اسکو صحیح طریقے سے سمجھنے کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کی تشریحات (جو احادیث کی صورت میں موجود ہیں اور جنھیں مفسرینِ قرآن نے بیان کیا ہے) کا مطالعہ کریں ۔ اس کے ساتھ ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ سیرت النبی ﷺ کی کتابوں کے ذریعے کریں تاکہ آپ کوزندگی گزارنے کے صحیح رنگ ڈھنگ سے واقفیت حاصل ہوجائے اورآپ کو کامرانی وکامیابی کا راز معلوم ہوجائے ۔
اس کے بعد یہ بھی آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ خود بھی محمدالرسول ﷺ کے ارشادات اور زندگی کو اپنی عملی زندگی میں لائیں اور دوسروں تک بھی اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں۔ اس سلسلے میں قرآن میں یہودکی مثال دی گئی ہے کہ جنھوں نے اس ذمے داری کو پورا نہیں کیاتھا۔تاکہ امت محمدیہ ﷺ ان ہی جیسی غلطی نہ دوہرائے:
"جن لوگوں کو توراۃ کا حامل بنایا گیا تھا مگر انھوں نے اس کا بار نہ اٹھایا، ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوں۔اس سے بھی زیادہ بری مثال ہے ان لوگوں کی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلادیا ہے۔ ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔"
اس منصوبے کو سمجھ لینے کے بعدآپ کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ دنیا کی زندگی اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہی وہ واحد موقع کہ جس میں آپ اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے بن سکتے ہیں اورآپ سے جو غلطیاں اور کوتایاں ہوجائیں اُن پر توبہ کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ موت آنے کی صورت میں جب یہ موقع چلاگیا تو کوئی بھی نہیں لاسکے گا۔یہ وہ امتحان ہے جو صرف ایک بار دینے کا موقع ہے ،وہ موقع بھی یہی زندگی ہے جس میں آپ وقت گزار رہے ہیں۔ اور موت ایک ایسی چیزہے کہ جس کا کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس وقت آجائے۔اس کے بعد کامیابی کی صورت میں بہت بڑا انعام ہے تو ناکامی کی صورت میں سخت سزا بھی ہے۔محبت کرنے والا رَبّ آپ کو بتلاتاہے کہ:۔
"اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعیدنہیں کہ اللہ تمھاری برائیاں دور کردے اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی ﷺ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہ کرے گا۔"
اب آپ نے علم کا ایک بہت ہی قیمتی حصہ اپنے دل ودماغ میں محفوظ کرلیاہے جس کے بغیر آپ کے لئے اسصحرا میں دو قدم چلنا بھی دشوار تھا اب اس بنیاد پر آپ مزید قرآن و سنت کی تعلیمات حاصل کریں گے اور تسخیرِکائنات میں اپنا حصہ ادا کریں گے۔اس کے ساتھ ہی ایک بات بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ آپ کے لئے علم آجانے کے بعد عمل بھی ضروری ہے۔علم کے بعدعمل کی کیا اہمیت ہے آئیے سمجھتے ہیں۔