مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تزکیۂ نفس

اشاعت: 2006ء

ملک سہیل احمد · اردو

تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔

محسنین کے درجے میں کام کریں

جب آپ نے جان لیا کہ اصل کامیابی حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جائے تو اب عمل میں کسی سے پیچھے کیوں رہنا؟ آپ اس معاملے میں کم پر راضی ہرگز نہ ہوں۔اس کو بھی چند مثالوں سے سمجھیں۔

۔ طالبِ علم "A"نے امتحان پاس کرلیالیکن طالبِ علم "B" نے پہلی پوزیشن حاصل کی، اسکول کی تقریب میں طالبِ علم "B"کو انعام سے نوازہ گیا،اور سب نے اسے اس کامیابی پر بہت مبارک باد دی۔

۔ استاد نے طالبِ علم "A" سے پانی مانگا توطالبِ علم "A" نے گلاس میں پانی ڈال کراستاد کے سامنے رکھ دیا۔اور جب استاد نے طالبِ علم "B" سے پانی مانگا تو طالبِ علم "B" نے پہلے گلاس کو اچھی طرح کھنگالا،گلاس میں صاف پانی بھرااورنہایت ادب سے استاد کو پیش کیا۔

کام تو دونوں ہی نے سر انجام دیئے لیکن آپ اپنے دل سے پوچھیں کہ آپ اپنے لئے کیا پسند کریں گے ،کام کو سر سے ٹال دینا یا اُس کو اُس کا حق ادا کرکے سر انجام دینا؟معاشرے کا دل جیت لینے والا کردار کس کے عمل میں پوشیدہ ہے؟

جو لوگ کچھ کر گزرنے کا ارادہ اور ہمت رکھتے ہیں وہطالبِ علم "B" کے طرزِ عمل کو نمونہ بنائیں گے آپ بھی اپنے اندر قوتِ عمل پیدا کریں اور آگے بڑھنے کی جدوجہد جاری رکھیں ،جس میں حسد نہ ہو لیکن رشک کیا جاسکتاہے کسی کو کوئی اچھا کام کرتے ہوئے دیکھیں تو خود بھی کرنے کی کوشش شروع کردیں۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے کہ:۔

"دوڑکرچلو اس راہ پر جو تمھارے رَب کی بخشش اور اُس جنت کی طر ف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لئے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں،خواہ بد حال ہوں یا خوشحال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ایسے محسنین (نیک لوگ) اللہ کو بہت پسند ہیں۔"

(سورہ ال عمران آیت ۱۳۳ ،۱۳۴)

اس دنیا میں جب آپ نے اپنی حیثیت کو پہچان لیا۔اورجان لیا کہ آپ کا ایک محبت کرنے والا رَبّ ہے جس نے آپ کو اپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجاہے۔تاکہ آپ اس کے احکاما ت کو اپنی زندگی میں لائیں اور اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات آپ تک نبی مہربان محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ہی پہنچے ہیں جن کی زندگی آپ کے لئے عملی نمونہ ہے۔ یہ تصور بھی آپ کے ذہن میں پختہ ہو گیا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر وقت دیکھ رہا ہے اورآپ کو دی گئیں تمام نعمتوں کا حساب لے گا۔ اس طرح جو تصور آپ کے سامنے آتا ہے اس کے نتیجے میں ایک بہت ہی اچھا انسان وجود میں آتا ہے۔جو دنیا کے لئے امن کا پیامبر ہوتا ہے۔جس کی پکار صرف ایک پروردگار اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی جانب ہوتی ہے جو تما م انسانوں کا یکساں مالک ہے۔ جس کو مان لینے میں کسی انسان کی بڑائی ثابت نہیں ہوتی ۔یہ دعوت کسی خطے میں رہنے والی قوم یاخاص زبان بولنے والے انسانوں کو حاکم قرارنہیں دیتی کہ جس میں شامل ہونا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ تمام انسانوں کو صرف تعلق باللہ کی بنیاد پر اکھٹا کرتی ہے ۔اس سلسلے میں دنیا کی کوئی دعوت، اسلام کا مقابلہ کرنے سے قطعی قاصر ہے کہ وہ تمام انسانوں کے درمیان مساوات کو قائم کرسکے۔اگر آپ یہ چاہتے ہے کہ دنیامیں امن وامان ہو اور کوئی کسی کا غلام نہ ہو تو ایک اللہ ہی کی بندگی اختیار کرنے سے یہ ممکن ہوگا ۔

اللہ تعالیٰ کے خلیفہ کی حیثیت سے آپ کو اپنے رَبّ کے سامنے جواب دینے کا احساس اور ا س کا یقین ہو گیاتواس کے بعدیہ نہیں ہو سکتاکہ آپ بے پرواہ زندگی گزاریں۔بلکہ آپ کو تواپنے ہرہر عمل اورمجموعی کردار دونوں ہی کو اسطرح جانچنا ہوگا کہ آیاآپ کامیابی کی جانب جارہے ہیں یا ناکامی کی طرف ؟ آئے ے دیکھتے ہیں مخبر صادق محمد ﷺآپ کو آخری حج میں کیا ہدایت دے رہے ہیں :-

رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا جس میں یہ کہا کہ: " اللہ تعالیٰ نے ہر صاحبِ حق کا حق متعین کردیاہے (پس صاحبِ حق کو اس کا حق دو)سنو! اللہ نے کچھ فرائض مقرر کئے ہیں (انہیں ادا کرو) او ر کچھ طریقے مقرر فرمائے ہیں (پس ان طریقوں پر چلو) کچھ چیزیں حلال کیں ہیں (انہیں استعمال کرو) کچھ چیزیں حرام کیں ہیں (ان کے قریب مت جانا)۔تمہارے لئے اُس نے جو دین تجویز کیا ہے وہ آسان اور ہموار ہے،وسیع اور کشادہ ہے، تنگ نہیں ہے۔"

(بروایت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،معجم طبرانی (زادِراہ ۱۹))