تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
صفاتِ مومنانہ
آپ جان چکے ہیں کہ حقیقی کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا ہے۔اوراللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے مؤ من ہونا ضروری ہے ۔آپ کو مؤمن بننے کے لئے کن صفات کو اپنا نا ہوگااسے قرآن نے کچھ یوں بیان کیا ہے :
"یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو: اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔لغویات سے دور رہتے ہیں ۔زکوٰ ۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملکِ یمن میں ہوں کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں ۔البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔یہی لوگ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔"
آیئے ان آیات کی روشنی میں جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آپ کہاں تک ان پر پورا اترتے ہیں:۔
"یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں نے جو :
۱۔ اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔"
نماز محبوب سے ملاقات کا نام ہے ۔اس احساس کو تازہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔محبت بھری چا ہت سے دیکھ رہا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھے پہچان چکا ہے، حالانکہ اس نے مجھے دیکھا نہیں ہے۔ نعمت دیکھ کر منعم کے وجود کا قا ئل ہو گیا۔روزہ ، زکوٰۃ ، عمرہ و حج تمام تر عبادات اسی احساس کو قا ئم کر تی ہیں۔
مؤمن کی یہ صفت ہے کہ وہ نماز میں اللہ سے اپنے تعلقات اُستوار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو آپ کو ہر وقت دیکھ رہا ہوتا ہے،تو آپ بھی اپنے کچھ لمحات مکمل طور سے اُس کی طرف متوجہ ہو کر گزارتے ہیں کہ جس نے آپ کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سُننے کے لیے کان دیے تاکہ آپ اُس کی نعمتیں دیکھیں اور جانیں ،جس نے آپ کو زبان دی تاکہ آپ اُس کی دی ہوئی نعمتوں پر اُسی پروردگار کی حمد و ثنا ء بیان کریں۔یہ بہت محبت والا مقام ہوتا ہے اگر اس کے پیچھے غوروفکر کے نتیجے میں حا صل ہونے والا احساس ہو۔
نماز میں خشوع حاصل کرنے کی کوشش صرف تکبیرِ تحریمہ کے بعد سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا آغاز تو بہت پہلے کیا جاتا ہے ۔ وضو کرتے وقت سے ہی خشو ع کی تیاری کریں کہ آپ اُس پروردگار کے سامنے پیش ہونے کی تیاری کر رہے ہیں جو آپ سے بہت محبت رکھتاہے ،آپ کے لئے اس نے اس تما م کائنات کو تخلیق کیا ہے۔اس زمین پر اس نے آپ کو اپنا نائب بناکر بھیجاہے ،جو بہت زیادہ قوت و قدرت رکھنے والا ہے ، جو سب کچھ کرنے والا ہے اور تمام خزانے بھی اُسی کے ہا تھ میں ہیں۔ اس لیے با ادب ہو جائیں!!
نماز کے آغاز میں تکبیر تحریمہ کہنے یعنی ہاتھ اُٹھا کر باندھ لیتے وقت آپ دراصل دیگر تمام افراد و اشیاء سے توجہ ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اس کے حمد و ثنا کرتے ہیں اور اس سے راہِ ہدایت پانے کے بعد شریر لوگوں میں شامل ہونے یا راہِ ہدایت کو گُم کر دینے سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کو خوب توجہ سے پڑھتے اور غور و فکر کرتے ہیں۔ اس کلام ِ ہدایت کو پالینے پر اللہ کے حضور رکوع و سجدہ کے دوران اپنی بندگی کا عملی اظہار کرتے ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد رسولﷺ کے بندے اور رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں جس کے ساتھ ہی محمد ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہیں ، جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہم تک پیغامِ ہدایت بھیجا۔ اس موقع پر اپنے لیے مغفرت طلب کرتے ہوئے ، دُنیا کے لیے سلامتی کا پیغام لے کر لوٹتے ہیں ، یعنی اس پیغام کے ساتھ کہ آپ دُنیا کے لیے امن و سلامتی کا باعث بنیں گے۔ سلامتی دین کی سربُلندی کی صورت میں ہی ممکن ہے ۔ اس لیے دینِ حق کی سر بلندی کے سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششیں دراصل ظلم کے خاتمے اور سلامتی کے قیام کی کوششیں ہیں۔نماز کی اس عظمت کو سیدنامحمد ﷺ نے کچھ اس طرح بیان فرمایاکہ:"نماز مومن کی معراج ہے۔"
۲۔ "لغویات سے دور رہتے ہیں ۔"
جو حرام ہے وہ بھی واضح ہے اور جو حلال ہے وہ بھی واضح ہے ان کے درمیان کچھ چیزیں مشکوک ہیں ان سے بھی بچنا مؤمن کی صفات میں سے ہے۔مطلب یہ کہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو نہ گناہ ہوتے ہیں اور نہ ثواب ، اب اگر انھیں کیا جائے تو اس میں انسان کی صلاحیتیں اور وقت صرف ہوتا ہے لہٰذا ان سے اللہ تعالیٰ کی دی گئیں دو عظیم نعمتوں اور امانتوں میں خیانت ہوتی ہے۔اس لئے ان لغو (فضول) کاموں سے اپنے آپ کو بچانا جاہیے تاکہ آپکی صلاحیتیں اور وقت مناسب طریقے سے استعمال ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "اہلِ تقویٰ کا مقام نہیں پا سکتا تاوقتیکہ وہ ان چیزوں کو ہی نہ چھوڑ دے جن میں (بظاہر)کوئی حرج نہیں ہے اس اندیشہ سے کہ کہیں وہ ان چیزوں میں مبتلا نہ ہوجائے جن میں حرج(گناہ) ہے۔"
(بروایت عطیہ سعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترمذی ،(زادِراہ ۱۱۴))
آپ کی زندگی ایسی غیر اہم نہیں ہے کہ آپ وقت گزاری کے لیے کوئی کام کریں بلکہ آپ کے وقت کی بہت اہمیت ہے اس لیے اُسے بہت سمجھ کر مناسب طریقے سے استعمال کریں، کیونکہ وقت ہی وہ مختصر سی مہلت ِ عمل ہے کہ جس میں آپ اپنے لیے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔فضول کاموں میں لگنے اور بے جا سوتے رہنے سے یہ قیمتی مہلتِ عمل ضائع ہوتی جا تی ہے۔ہر وقت یہ سوچیں کہ میں اس وقت کو بہتر سے بہتر کس طرح گزار سکتا ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: "جس میں تمہیں تردد ہے وہ پہلو چھوڑ دو ،دوسرا پہلو اختیار کرو جس میں تمہیں تردد نہیں ہے۔ سچائی اور راستی موجبِ اطمینان ہوتی ہے اور جھوٹ اور غلط بیانی دل میں تردد پیدا کرتی ہے۔"
(بروایت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترمذی ،(زادِراہ ۱۷۸))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "میں تم میں سے کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ اپنی ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھ کر گانے میں مشغول ہوجائے اور سورۃ بقرہ پڑھنے سے گریز کرے۔"
(بروایت ابنِ مسعود ،المعجم الصغیر الطبرانی (انتخابِ حدیث ۱۸۶))
۳۔ "زکوٰ ۃ کے طریقے پر عامل رہتے ہیں۔"
اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی ادائیگی فرض قرار دی ہے اور قرآن مجید میں اس کی بہت تاکید موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے آٹھ مصارف بیان کیے ہیں کہ جن میں یہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔
آپ عمر کے جس حصے میں ہیں اس میں عموماً آ پ اپنے ہاتھ سے تو زکوٰۃ نہیں دیتے ہونگے اور آپ کے والدین یا سرپرست اس فریضے کو سر انجام دیتے ہوں گے۔ لیکن آپ کو اپنی زندگی کے آغاز سے ہی زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے اس بات کا شعور ہو کہ جب آپ کے پاس کچھ مال ہو جس پر ایک سال کا عرصہ بیت جائے تو اُس پر زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔زکوٰۃ کے ادائیگی کے بغیر حلال مال بھی تباہ وبرباد ہو جاتاہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "جس دولت میں مالِ زکوۃ کی ملاوٹ ہو وہ تباہ و برباد ہوتی ہے۔"
(بروایت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، مشکوٰۃ(انتخابِ حدیث ۹۱))
زکوٰۃ حلال طریقے سے حاصل کیے گئے مال میں سے دی جاتی ہے۔حرام مال تو حاصل کرنا ہی اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے چہ جائیکہ اس کو صدقہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مذاق کرنے کی کوشش کی جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "جب تم نے اپنے مال کی زکوٰۃ (فرض کی گئی) ادا کر دی تو تم اللہ کے حق سے سبکدوش ہو گئے ۔اورجس نے حرام مال جمع کیا اور اسے اللہ کی راہ میں دیا تو اس پر اسے کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ الٹا گناہ ہوگا۔"
(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابنِ خزیمہ ؒ(زادِراہ ۳۹))
حضر ت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مسعود فرماتے ہیں: ہم کو نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جو شخص نماز پڑھے مگر زکوٰ ۃ نہ دے تو اس کی نماز اللہ کے یہاں مقبول نہ ہوگی۔
(طبرانی (زادِراہ ۳۸))
۴۔ "اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کے ملکِ یمن میں ہوں کہ ان پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔"
اپنی جان و مال کی طرح اپنی آبرو کی حفاظت کرنا بھی آپ کا فرض ہے ۔ آجکل میڈیا میں جو کچھ فحاشی اُمڈ آئی ہے اس سے اپنی نظروں کی حفاظت کریں کیونکہ یہ وہ بُرائی ہے جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ منصب سے گرا دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی سخت غضب ناکی کا سبب بنتی ہے۔
حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہؓ بن ابی طالب کا قول ہے کہ:"فحش اور بے حیائی کی باتیں زبان سے نکالنے والا، اور معاشرے میں ان کا پھیلانے والا، دونوں گناہ میں برابر ہیں۔"
(الادب المفرد (انتخابِ حدیث ۳۶۵))
مومن تو حیادار ہوتا ہے اور جس میں حیا باقی نہ رہے تو سمجھیں کہ اُس میں سبھی کچھ ختم ہو گیا۔اس لئے اس معاملے میں اپنی حفاظت کیجئے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا": "اے قریشی جوانو! تم لوگ زنا کاا رتکاب نہ کرنا، جو لوگ عفت و پاک دامنی کے ساتھ جوانی گزاریں گے وہ جنت کے مستحق ہوں گے۔"
(بروایت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، بہیقی (زادِراہ ۱۱۳))
ایک دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں "جس کی جوانی آفاتِ جوانی سے محفوظ رہی وہ جنت کا مستحق ہے۔"
(زادِراہ حدیث نمبر ۱۱۳ کی تشریح میں)
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ولید نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ عرب کے قریبی بیرونی علاقے میں ایک ایسا مرد پایا گیا ہے جس سے لوگ عورتوں کی طرح جنسی تسکین حا صل کرتے ہیں (تو کیا کاروائی کی جائے، اسے کیا سزا دی جائے؟)
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اصحابِ رسول ﷺ کو بلایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا) ان اصحابِ شوریٰ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: آپ لوگ حضر ت لوط علیہ السلام کی امت سے واقف ہیں ا س جرم کی پاداش میں اللہ نے ان کو کتنی سخت سزا دی،میری رائے (اس معاملہ میں) یہ ہے کہ شخص مذکور کو آگ کی سزا دی جائے، چنانچہ اس سے اصحاب رسول ﷺنے اتفاق کیا اور خلیفہ کے حکم سے اسے جلادیا گیا۔
(بیہقی،(زادِراہ ۱۴۴))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "کون ہے جو مجھے (دو چیزوں) زبان اور عصمت کی ضمانت دے ،میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں گا۔"
(بروایت سہیل ،بخاری، مشکوٰۃ(انتخابِ حدیث ۲۹۹))
۵۔ "اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔"
امانت کی حفاظت اور عہد وپیمان پورا کرنا مؤ من کی خاص صفت ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی ابتداء ہی سے ایسی تھی کہ آپ کو صادق وامین کہا جاتاتھا۔جس طرح یہ جسم و مال جوآپ کے پاس امانت ہے اس کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح کسی اور کی جان ومال یاکوئی بات جوآپ کے پاس امانت ہو تو اسکی حفاظت بھی نہایت ضروری ہے۔اس کے بغیرآپ اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے نہیں بن سکتے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "جب کوئی آدمی تم سے بات کرے ، اور ادھر ادھر دیکھے تو اس کی یہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔"
(بروایت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابنِ عبداللہ ، ابو داؤد (زادِراہ ۱۰۳))
"جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیا کرتے ہو، ان پراللہ گرفت نہیں کرتا،مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو،ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔اللہ بہت درگزر کرنے والا اور برد بار ہے۔"
عہدو پیمان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ آپ نے جو کام جس وقت کرنا طے کیا ہے اور ٹھیک اسی وقت ہو ۔رواج کے مطابق عموماًطے کیاگیا وقت پابندی کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔جبکہ یہ روایت اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کے خلاف ہے اور اس کا ختم کیا جانانہایت ضروری ہے ۔اس کا آغاز یوں کیا جاسکتا ہے کہ منتظیمین وقت مقررہ پر پروگرام لازماً شروع کر دیں ، اسی طرح یہ تصور دم توڑ سکتا ہے ورنہ افراد کے انتظارمیں آپ وقت کی پابندی کی برکت سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔بلکہ اس میں ایک ایک منٹ کو اہمیت دی جائے آپ دیکھیں گے کہ چند پروگراما ت کے بعد آغاز ہی میں حاضری بہتر ہونا شروع ہوجائے گی۔ لیکن شر ط یہ ہے کہ پابندی وقت کو ہمیشہ مدِنظر رکھا جائے۔
۶۔ "اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔"
نماز ہمارے ایمان کے اقرار کی بہت بنیادی اور عملی شکل ہے۔ اس سے غفلت کا مطلب ایمان کی کمزوری ہے۔ ایمان اگر کمزور ہوتو آپکی کامیابی یقینی نہیں رہی اور ہمارا راہ حق میں سفر کا دعویٰ مشکوک ہوجاتاہے۔اس لئے اس کی محافظت نہایت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات اہم ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہیں اب اگر کوئی تین یا چار نمازیں پڑھتاہے پوری پانچ نمازیں نہیں پڑھتا تو یہ غلط طریقہ ہے۔محافظت میں نماز باجماعت کا اہتمام بھی آجاتا ہے دینِ حق کی طرف دعوت کی جدوجہد کے دوران بھی ان پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ملاقاتوں ،دیگر پروگرامات اور کاموں کے دوران بھی بروقت نماز باجماعت کا اہتمام ہونا ضروری ہے۔ نمازفجر اور عصر کی جماعت اس حوالے سے خصو صاً اہم ہے کیونکہ دن سمٹ رہا ہوتاہے اور سوچا یہ جاتا ہے کہ بس یہ کام مکمل ہوجائے پھر نماز پڑھیں گے یا بس تھوڑا سا سو لوں پھر اٹھوں گا حالانکہ اس تھوڑے سے وقت میں نہ کام مکمل ہوتا ہے اور نیند ،اس دھوکے میں نماز کی جماعت نکل جاتی ہے۔آپ اللہ کے پیارے بندے ہیں اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے لازمی طور سے اس کاہلی کے عمل سے بچنا ہے۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا": "جس میں امانت نہیں اس میں ایمان نہیں،اور جس کی طہارت نہیں اس کی نماز کالعدم ہے،اور جس کی نماز نہیں اس کا دین بھی نہیں۔دین میں نماز کا وہی مقام ہے جو جسم کے اندر سر کا ہے۔"
(بروایت ابنِ عمر ، المعجم الصغیر للطبرانی،(انتخابِ حدیث ۸۵))
رسول اللہ ﷺنے فرمایا": "بد ترین چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرے۔" لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول ﷺ نماز کو چرانے کا کیا مطلب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: نماز کی چوری کا مطلب یہ ہے کہ وہ رکوع اورسجدہ ٹھیک سے نہ کرے۔
(بروایت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، طبرانی (زادِراہ ۳۶))
"یہی لوگ وارث ہیں جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔"