تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
عمل
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ
""اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہووہ بات جو کرتے نہیں۔"
"اللہ کو پسند وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔"
محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: - "اور ہر علم، صاحب ِ علم کے لئے وبال بن جائے گاسوائے اس شخص کے جس نے اپنے علم پر عمل کیا۔"
(بروایت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ، طبرانی(زادِراہ ۱۶۷))
(عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک قبیلے کی دین سے غفلت کا حال بتایاتو)آپ ﷺ نے فرمایا ": - "اے عمار ؒ! ان سے زیادہ تعجب خیز معاملہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے دین کا علم سیکھا مگر انہی کی طرح دین سے غافل اور بے پروا ہوگئے۔"
(بروایت عمار بن یاسر،طبرانی (زادِرراہ ۱۹۶))
علم و عمل کے حوالے سے بھی آپ چند رویوں کا جائزہ لیں تو با ت سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی : -
۔ ایک لڑکا جانتا ہے کہ آگ جلاتی ہے پھر بھی وہ آگ میں ہاتھ ڈال دے ۔ تو کیا اس کا ہاتھ جلنے سے بچ جائے گا؟
۔ ایک شخص جانتاہے کہ اس کیک میں زہرِ قاتل ہے اور اگر پھر بھی وہ اسکیک کو کھالے توکیا اس کا یہ جاننا، جسے علم کہاجاتا ہے، اسکے کسی کام آسکے گا؟
۔ ایک مریض جانتا اور مانتا ہے کہ میرا مرض فلاں کے بتائے ہوئے طریقے سے ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن وہ اس طریقے پر عمل نہیں کرتا صرف نسخہ پڑھتارہتا ہے تو کیا آپ کے خیال میں اس کا طرزِ عمل صحیح ہے؟
آپ کا کہنا ہے کہ نہیں! اس طرح نہ لڑکے کا ہاتھ بچ سکتا ہے نہ وہشخصزہرِ قاتل سے بچ سکتاہے، نہ مریض مرض سے ہی نجات حاصل کر سکتا ہے ۔آپ مانتے ہیں کہ ِنراعلم کام نہیں آتا جب تک اس پر عمل نہ ہو۔لڑکے کا علم اگر اسکا ہاتھ آگ میں جانے سے روک دے ،اس شخص کا علم اگر اسے زہرِ قاتل سے دور رکھ دے اور مریض کا علم اگر اسے نسخہ پر عمل کروادے ،تو ضرور یہ علم ہی اس کی راہنمائی کرے گا اور فائدہ مند ثابت ہوسکے گا۔ آپ اس لڑکے ، شخص اور مریض کو علم کے باوجود عمل نہ کرنے پرنالائق، بیو قو ف اور اپنا مفاد نہ سمجھنے والا کہہ کر آگے بڑھ جائیں اور جائزہ لیں کہ
۔ آپ نے جو اللہ تعالیٰ کی واحدانیت(یعنی ایک ہونے)کا اقرار کیا ہے اسکے عملی تقاضوں کو کہاں تک پوراکیا؟کیا یہ علم آپ کی زندگی پر عملی طور پر کوئی اثر ڈال رہاہے؟
۔ آپ نے جو کہا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی آپ کے لئے نمونۂ حیات ہے اورآپ ان کی زندگی کی طرح زندگی گزارنے کے بعد ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تو کہاں تک آپ نے اس طرح کی زندگی گزارنے کی کوشش کی ؟کیا اس علم کا آپ عملی طور پر کوئی فائدہ حاصل کررہے ہیں جو آپکو اللہ تعالیٰ کی رضاکے حصول میں کامیاب کردے؟
۔ آپ کایہ جو کہنا ہے کہ آخرت ہوگی ، قیامت کا دن آئے گا ،روزِ حساب کے دن ہمارے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔تو اس علم کو رکھتے ہوئے آپ نے کہاں تک آخرت کی تیاری کی اور روز مرہ کے کاموں کے دوران اس بات کا جائزہ لیا کہ اس علم کی بدولت آپ آخرت کی پکڑ سے بچ جائیں گے؟
"علم کے مطابق کہاں تک عمل کیا؟"
"کاش! تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رَب کے حضور کھڑے ہونگے ۔ (اس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے )" اے ہمارے رَب ! ہم نے خوب دیکھ لیا اور سن لیا ، اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں ،ہمیں اب یقین آگیا ہے۔" (جواب میں ارشاد ہوگا)" اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدات دے دیتے ۔مگر میری وہ بات پوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اورانسانوں سب سے بھر دوں گا۔"