تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
انفاق
انفاق مالی قربانی کا نام ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا دین کا اہم تقاضہ ہے۔ہم حقوق العباد کی ادائیگی میں مصروف ہوں یا دعوتِ دین کی تر ویج میں ،دونوں ہی میں مال کی ضرورت پیش آتی ہے اور اگر ایسے موقع پر آپ مال خرچ نہ کریں تو کام میں رکاوٹ آجاتی ہے۔
یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امتحان ہے ۔زکوٰۃ کا دینا تو فرض ہے اس کے علاوہ بھی آ پ اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ و خیرات کریں تب ہی آپ دینِ حق کے حقیقی شہسوار بن سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ:
۔ "اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔"
۔ "جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کاوقت آجائے اور اس وقت وہ کہے "اے میرے رَب ! کیوں نہ توُنے مجھے تھوڑی سی مہلت دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا۔"
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنابھی بہت اہمیت کا حامل کام ہے جس کے لئے قر آن مجید میں خاصی تاکید آتی ہے۔بعض لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ چمڑی جائے دمڑی نہ جائے حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ مال کی قربانی آپ کے اخلاص کو مزید نکھارتی ہے۔اس بارے میں قرآن وسنت نے جو راہ نمائی دی ہے اس کے پیشِ نظر آپ کو وقتاً فوقتاً انفاق کرتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ:
"ہر گز تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم عزیز رکھتے ہو،اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا۔"
محمد رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: بندہ کہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے یہ میرا مال ہے
حالانکہ اس کے لئے اس کے مال میں تین حصے ہیں۔
۱۔ جو کھالیا وہ تو ختم ہوگیا۔
۲۔ جو پہن لیا وہ بوسیدہ ہوگیا۔
۳۔ اور جو کچھ خدا کی راہ میں دیا وہی اس نے خدا کے یہاں جمع کیا۔
اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو وہ اپنے ورثہ کے لئے چھوڑ جائے گا اور خود خالی ہاتھ رہ جائے گا۔
( بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلم ،(زادِراہ ۲۱۶))
رسول اللہ ﷺ نے اپنے رَب کے حوالے سے یہ حدیث نقل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔" اے آدم کے بیٹے ،تو اپنا خزانہ میرے پاس جمع کرکے مطمئن ہوجا، نہ آگ لگنے کا خطرہ ،نہ پانی میں ڈوبنے کا اندیشہ اورنہ کسی چور کی چوری کا ڈر، میرے پاس رکھا گیا خزانہ میں پورا تجھے دے دوں گا اس دن جب کہ توُ اُس کا سب سے زیادہ محتاج ہوگا۔"
( بروایت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ترغیب و ترہیب بحوالہ طبرانی(زاد ِراہ ۲۲۹))
سیدنا محمد ﷺ نے فرمایاکہ:"غریب مسکین کو صدقہ دینے سے صرف صدقے کا ثواب ملتا ہے اور غریب رشتہ دار کو دینے سے دہرا ثواب ملتا ہے، ایک صدقے کا دوسرا رشتہ داری کا حق ادا کرنے کا۔"
(بروایت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عامر،ترمذی (زادِ راہ ۲۲۳))
میں نے مسجد نبوی ﷺ کے منبر پر نبی ﷺ کو یہ کہتے سنا: " اے لوگو! جہنم کی آگ سے بچو، اگر چہ تمہارے پاس کھجور کا آدھا ہی ٹکڑا ہو وہی دے کر آگ سے بچو ، اس لئے کہ صدقہ انسان کی کجی کو درست کرتا ہے اور بھوکے کا پیٹ بھرتا ہے۔"
(بروایت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ابو یعلیٰ (زادِ راہ ۲۱۸))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " اجر و ثواب کے لحا ظ سے بڑھا ہوا
۱۔وہ دینار ہے جو آدمی اپنے بال بچوں اور زیرِ کفالت لوگوں پر خرچ کرتا ہے۔
۲۔ اور وہ دینار بھی جو مجاہد اپنے گھوڑے پر صرف کرتا ہے اور اس پرسوار ہو کر جہاد کرتا ہے ۔
۳۔اور وہ دینار بھی جو آدمی اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔"
ابو قلابہؒ کہتے ہیں کہ "دیکھو سب سے پہلے بال بچوں پر خرچ کئے جانے والے دینار کا ذکر کیا!!"
اس کے بعد ابو قلابہ ؒے کہا "اس آدمی سے بڑھ کر اجر وثواب کا مستحق اور کون ہو سکتا ہے جو اپنے چھوٹے کمزور بچوں پر صرف کرتا ہے جس کے نتیجے میں وہ بھیک مانگنے اور دوسروں کے دروازے پرجانے سے محفوظ رہتے ہیں۔"
( بروایت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ،مسلم (زادِراہ ۱۵۰))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"حرص و بخل اور ایمان کسی بندے کے دل میں ہر گز جمع نہیں ہوتے۔"
(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نسائی (زادِراہ ۱۰۹))