تزکیۂ نفس
اشاعت: 2006ءملک سہیل احمد · اردو
تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔
نشانِ منزل
مسلم کے لفظی معنیٰ فرمانبردارکے ہیں ۔ مومن و مسلم وہ ہے جو سب کچھ علم رکھتا ہے کہ اس کا رب کون ہے اور اُ س کو دنیا میں زندگی کس طرح گزارنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو۔ بندۂ مومن کے اندر بھی وہ تمام خواہشات اور احساسات و جذبات موجود ہوتے ہیں جو کہ ایک عام آدمی کے اند ر ہوتے ہیں لیکن وہ اِن تمام خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق پوراکرتا ہے اور ان حدود کے اندر رہتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقررکر دیں ہیں۔بعض اوقات خیال جاتا ہے کہ جس کو دنیا کی کو ئی خبر نہ ہو اور نہ جانتا ہو کہ معاملات کیسے کئے جاتے ہیں وہ اچھامومن ہے حالانکہ یہ تصور درست نہیں بلکہ مو من عملی زندگی میں تمام معاملات یہ سمجھ کرادا کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے دیکھ رہا ہے اِس لئے وہ ناجائز و ناروا اقدامات نہیں کرتاکیونکہ ایسا کرنے سے اُسے اُس کے ربّ نے منع کیاہے اور اِس کے ساتھ ہی بار بار لوگوں سے دھوکہ بھی نہیں کھاتابلکہ تجربات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کمال فراست کے ساتھ تما م معاملات سرانجام دیتاہے۔مومن کا حال شیخ سعدیؒ کے قول کے مطابق کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ " مَیں بے وقوف سے بھی سیکھتا ہوں کہ بیوقوف جو بیوقوفیاں کرتا ہے مَیں وہ نہیں کرتا۔" مومن کی صفت بیان فرماتے ہوئے سیدنارسول اللہ ﷺ نے فرمایا"کہ:
"مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔"
(بروایت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، مشکوٰۃ(انتخابِ حدیث ۹۱))
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا": "اپنی ضرورت کے حصول میں کامیابی کے لئے راز داری سے مدد لو۔کیونکہ ہر صاحبِ نعمت محسود ہوتاہے۔یعنی وہ رشک و حسد کا نشانہ بنتا ہے۔"
(بروایت مُعاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن جبل ، المعجم الصغیر للطبرانی،(انتخابِ حدیث ۱۴۵))
قرآن مجید کتابِ ہدایت ہے جس میں ہدایت سے متعلق تمام اصول بیان کردیئے گئے ہیں۔ اس میں احکامات ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ آپ نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔اِن احکامات کو جاننے کے لئے آپ نے قرآن فہمی کے سلسلے کو اپناروز کا معمول بنانا ہے ۔تاکہ آپ ہدایت کے اس عظیم سرچشمے سے فیض یاب ہوسکیں۔ وقت اور عمر کا کوئی طوفان آپ کو منزل سے بھٹکا نہ سکے۔
سیدنارسول اللہ ﷺ نے قرآن مجیدسے استفادہ حا صل کرنے کا طریقہ کار بتلاتے ہوئے فرمایاہے کہ
"قرآن کوٹھہر ٹھہر کر صاف صاف پڑھو اور اس کے غرائب پر عمل کرو۔"غرائب"سے مراد اس کے وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کئے ہیں ۔اور وہ احکام ہیں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔"
(بروایت مشکوٰۃ (زادِراہ ۲۳۳))
یہاں اس سلسلے میں قرآن مجید سے صرف دو اقتباسات لئے گئے ہیں جن میں سے ایک اقتباس سورۃ المؤ منون سے لیا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی بندہ ٔ مومن کی صفات بیان کی ہیں۔ جن کو سامنے رکھ کر آپ نے وقتاً فوقتاً اپنا جائزہ لیتے رہنا ہے کہ آپ کہاں تک اِن پر پورا اتر رہے ہیں۔ جبکہ دوسرے اقتباس میں وہ آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے چند بُنیادی خرابیوں کی نشاندہی کر کے اِ ن کے ارتکاب سے خبر دار کیا ہے۔تاکہ آپ ان خرابیوں سے بچ کر حقیقی کامیابی حاصل کر سکیں۔