مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تزکیۂ نفس

اشاعت: 2006ء

ملک سہیل احمد · اردو

تزکیۂ نفس پر ملک سہیل احمد کی تحریر، تین ابواب میں: آغازِ کلام، چند اہم نکات (قرآن و احادیث کی روشنی میں) اور نشانِ منزل۔

حقوق العباد

بندوں کے حقوق ادا کرنا انسانیت کے تقاضوں میں سے ہے یعنی بندوں کے حقوق کی عدم ادائیگی کی صورت میں مسلمان کہلانا تو دُور کی بات ہے ، انسان ہونے کے متعلق بھی تحقیق کرنی چائیے۔

آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمدالرسو ل ﷺ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت سے سرفراز فرمایا ، جس کے بعد آپﷺ نے تئیس سال نبوت کی زندگی گزاری۔

چالیس سال تک اللہ تعالیٰ نے محمد الرسول ﷺ کی زندگی کو ایک بہترین انسان کی زندگی بنایا۔ جس میں محمد الرسول ﷺ نے جو کردار پیش کیا وہ ایک اعلیٰ ترین انسان کی زندگی کا کردار ہے جس کے نتیجے میں آپﷺ کو معاشرہ صادق و امین کے نام سے پکارتا تھا، یعنی سچا اور امانتدار۔

آپ کو بھی اگر محمد الرسولﷺ کی زندگی پر عمل کرنا ہے تو حقوق العباد اسی طرح سے برتنے ہونگے۔تمام بندے اللہ کے ہیں وہ بھی جو اُسے پہچانتے ہیں ، اُس کے فرمانبردار ہیں اور وہ بھی جو نعمت کو دیکھ کر نعمت دینے والے کو پہچان نہیں سکے۔اس لئے خدمتِ انسانیت کو اپنا شعاربنانا ہوگا۔بُرائی اور بُرے کا شعور اُسی طرح رکھنا ہوگا جس طرح مرض اور مریض کا فرق رکھا جاتاہے کہ مرض سے تو نفرت ہوتی ہے لیکن مریض کی خدمت کرکے اسے اس مرض کی تباہ کاریوں سے نجات دلانے کی کو شش کی جاتی ہے۔

آپکو اللہ نے مختلف طریقوں سے ایک دوسرے سے منسلک کیا ہے۔ جنھیں معاشرتی رشتے کہا جاتا ہے کچھ رشتے قدرتی ہوتے ہیں جیسے ماں ، باپ ، بہن ، بھائی وغیرہ اور کچھ اختیاری۔ہم نے ان کی حیثیت و مقام کو مدِ نظر رکھ کر انکے حقوق ادا کر نے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے محبوب کا یہی فرمان ہے اس لئے ان تمام حقوق کی ادائیگی عین دین ہے۔ان کے کیا حقوق ہو تے ہیں؟اور انھیں ہم کس طرح ادا کرسکتے ہیں؟ ان کے لئے قرآن و حدیث کے اندر وضاحت موجود ہے۔ اس علم کو حاصل کرنا دین کا تقاضہ ہے۔

سیدنا محمد ﷺ نے فرمایا:" اعمال نامہ میں تین قسم کے گناہ درج ہوں گے،

۱۔ ایک وہ گناہ جسے اللہ ہر گز معاف نہ کرے گا، وہ شرک کا گناہ ہے، اس نے اپنی کتاب میں کہا ہے:"یقینا اللہ اس جرم کو ہرگز معاف نہیں کرے گا کہ (اس کی ذات وصفات میں، اس کے حقوق و اختیارات میں) کسی کو ساجھی اور حصہ دار بنایا جائے۔""

۲۔دوسرا گناہ جونامہ اعمال میں درج ہوگا، بندوں کے حقوق سے متعلق ہے، اسے اللہ نہیں چھوڑے گا یہاں تک کہ مظلومین ظالموں سے اپنا حق لے لیں۔

۳۔تیسرا گناہ کا رجسٹر وہ ہوگا جس کا تعلق بندہ اور خدا سے ہے، یہ اللہ کے حوالے ہے (وہ اپنے علم و حکمت کے تحت ) چاہے گا تو عذاب دے گا، چاہے گا تو (علم و حکمت کے تحت) معاف کر دے گا۔

(بروایت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،مشکوٰۃ(زادِراہ ۹۸))

سیدنا محمد ﷺ نے فرمایا:"تم لوگ دوسروں کی تقلید اور پیروی کرنے والے نہ بنو (یعنی)یوں نہ سوچو کہ لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے توہم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے اور اگر لوگ ہم پر ظلم کریں گے توہم بھی ان پر ظلم کریں گے۔نہیں ،بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر جماؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔اور اگر بُرا برتاؤ کریں تو تم ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کرو۔"""

(بروایت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترمذی (زادِراہ ۱۰۴))

سیدنا محمد ﷺ نے فرمایا:"وہ شخص ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت نہ کرے ، چھوٹوں پر شفقت نہ کرے،نیکیوں کی تلقین نہ کرے اور برائیوں سے نہ روکے۔"

(بروایت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ترمذی،(زادِراہ ۱۴۰))

سیدنا محمد ﷺ نے فرمایا:"کیا میں تمہیں وہ کام نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اونچے درجات سے نوازتاہے۔ "

لوگوں نے کہا:" کہ اے اللہ کے رسول ﷺ بتائیے۔"

آپ ﷺ نے فرمایا: "جو تم سے جہالت برتے،تم اس کے ساتھ بُرد باری سے پیش آؤ۔

جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔

اور جو رشتہ دار تمہارے حقوق ادا نہ کرے تم اس کے حقوق دو۔

ان سب کاموں سے آدمی کے درجے بلند ہوتے ہیں۔"

(بروایت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،ترغییب و ترہیب،(زادِ راہ ۱۴۲))

ان تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا آپکی ذمہ داری ہے۔آپ نے اس کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کے کردار کو نمونہ بنا کر اپنے کردار کی تعمیر کرنی ہے۔جتنا آپ اس کوشش میں کامیاب ہونگے اتنا ہی اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہوگا۔

لوگوں کے ساتھ تعلقات کو قائم رکھنے میں ایک بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ بندوں کے کام آنا ،اور اپنے بڑوں کی اطاعت اُسی صورت میں کی جائے گی کہ اُن کایہ حکم اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق ہو اس کے مخالف نہ ہو ۔اس کی لئے یہ اصول یاد رکھیں کہ خالقِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"(خدا کے ہاں) قیامت کے دن مرتبہ کے اعتبار سے بدترین انسان وہ ہوگا جو دوسروں کی دنیا بنانے میں اپنی آخرت برباد کردے۔"

(بروایت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہؓ ، ابنِ ماجہ (انتخابِ حدیث ۳۲۱))

آپ کو اپنے اِرد گرد رہنے والے افراد کی نظر میں کیسا بننا ہے کہ وہ آپ کو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی نظر میں محبوب بنادے۔آئیے جائزہ لیتے ہیں:۔

والدین کی نظر میں

آپ والدین کی نظر میں ایک فرمانبردار اولاد کی صورت میں نمودار ہونے چاہئیں۔ ان کی خدمت آپ کا فرض ہے۔انھوں نے اُس وقت آپ کی پرورش کی تھی جب آپ ہر چیز کے لئے محتاج تھے۔اس لئے ان کے احسانات کو کبھی فراموش نہ کریں۔

ایک آدمی نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ " والدین کا حق ان کی اولاد پر کیا ہے؟"

آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ تمہاری جنت اور جہنم ہیں۔"

(بروایت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابنِ ماجہ ، (زادِ راہ ۶۰))

رسول اللہ ﷺ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا ، اس نے پوچھا کہ "اے اللہ کے رسول ﷺ ،میرے والدین وفات پا چکے ہیں تو کیا ان کا کوئی حق میرے ذمہ رہ گیا ہے جسے ادا کرنا چاہیے۔"

آپ ﷺ نے فرمایا: " ہاں ،والدین کے مرنے کے بعداولاد پر ان کا یہ حق ہے کہ

۱۔ ان کے لئے دعاو استغفار کرتے رہیں ،

۲۔ ان کی وصیتیں پوری کریں ،

۳۔ان سے تعلق رکھنے والے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کریں،

۴۔اور ماں باپ کے دوست اور احباب کی عزت اور خاطر داری کریں۔"

(بروایت ابو اسیدمالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابو داؤد ،ابنِ ماجہ(زادِ راہ ۶۳))

بہن بھائیوں کی نظر میں

بہن بھائی آپ کو شفیق بھائی کے طور پر محسوس کرتے ہوں۔ ان کو بھی آپ وقت دیتے ہوں۔ان کے کاموں میں جتنی آپ میں صلاحیت و قوت ہو ہاتھ بٹائیں۔ہمیشہ ان کی خیر خواہی چاہیں اور ان سے اپنے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تربنانے میں پیش پیش رہیں۔

اساتذہ کی نظر میں

اساتذہ آپ کو محنتی طالب علم کی صورت میں پہچانتے ہوں۔ عمو ماً خیال کیا جاتا ہے کہ جو لوگ دعوتِ دین کا کام کرتے ہیں انھیں تعلیمی میدان میں محنت نہیں کرنی چاہئے، حالانکہ اس کے بر عکس جو طلبہ نظام کو بدلنے کا شعور رکھتے ہوں اُنھیں تو اس میدان میں خصوصی توجہ دینی چایئے تاکہ آگے بڑھ کر بہترین انداز میں دینِ حق کی خدمت کر سکیں، بشرطیکہ مقصد سے لگن اور مخلصی موجود رہے۔ اس سلسلے میں توازن کو قائم رکھنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے کہ نہ تعلیم کی خرابی کا ذمہ دار دینِ حق کی دعوت کو ٹھہرائیں اور نہ ہی دینِ حق کی جدوجہدکی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں میں کوتاہی آئے۔

سیدنا محمد ﷺ کا ارشادِگرامی ہے کہ:"علمِ دین سیکھو ، اور دینی علم کے لئے وقار و سنجیدگی سیکھو،اور جن سے تم دین کا علم حاصل کرو ان سے خاکسارانہ بر تاؤ رکھو۔"

(بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، طبرانی،(زادِراہ ۶۵))

دوستوں کی نظر میں

دوستوں کے درمیان آپ کو پھول کی مانند رہنا ہے ان کی خوشیوں میں شریک رہیں اور دکھوں میں اُن کا ساتھ دیں وہ آپ کو ایک مخلص ساتھی کے طور پر جانتے ہوں اور آپ کا وجود اُ ن کے لیے باعث ِ رحمت ہو۔آپ ایک دوسرے کو حق کی تلقین اور صبر کی تاکید کرنے والے ہوں۔

پڑوسیوں کی نظر میں

پڑوسیوں کے بہت حقوق ہیں جن کو ہمارے معاشرے نے نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے ۔ لیکن آپ کو تو مکمل انسان بن کر کامیابی حاصل کرنی ہے چنانچہ آپ اپنے پڑوسیوں کی خبر گیری کرتے رہیں اور اُن کے مسائل میں اُن کا ہاتھ بٹائیں۔ان کے چھوٹے موٹے کام کر دینا اپنا معمول بنائیں۔پڑوسیوں کے حقوق کا اندازہ اس حدیث سے بخو بی ہوتا ہے۔

محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"-جس نے پڑوسی سے اپنے گھر والوں اور مال کے بارے میں خطرہ محسوس کیا اور دروازہ بند کر کے سویا تو ایسا پڑوسی مومن نہیں ہے اور وہ بھی مومن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کے ظلم اور دست درازی سے مطمئن نہ ہو۔"

"کیا تم جانتے ہو کہ پڑوسی کا کیا حق ہے؟"

"اگر وہ مدد کا طالب ہو تو اس کی مدد کرو،

اگر وہ قرضہ مانگے تو اس کو قرضہ دو،

اگر وہ فقروفاقہ کا شکار ہو تو اس کو نفع پہنچاؤ،

اگر وہ بیمار پڑے تو اس کی عیادت کرو،

اگر کوئی مسرت اس کو حاصل ہوتو مبارک باد دو ،

مصیبت میں گرفتار ہو تو صبر کی تلقین کرو،

اگر مر جائے تو اس کے پیچھے قبرستان تک جاؤ،

اس کے گھر سے اونچا گھر بنا کر اس کے گھر کی ہوا نہ روکو، البتہ اگر وہ اجازت دے تو اپنا گھر اونچا کر سکتے ہو،

تم اپنی ہانڈی کے گوشت کی خوشبو سے اس کو تکلیف مت پہنچاؤ اِلاَّیہ کہ اس کے گھر بھی بھیجو ، اور اگر اپنے بچوں کے لئے میوے خریدو تو اس کے یہاں بھی بھیجو، اگر تم ایسا نہ کرسکو تو اپنے گھر میں چپکے سے لاؤ اور تمہارے بچے میوے لے کر باہر کھاتے ہوئے نہ نکلیں ورنہ تمہارے غریب پڑوسی کے بچے غمگین ہونگے، کڑھن محسوس کریں گے۔"

(بروایت عَمرو بن شعیب،ترغیب و ترہیب(زادِ راہ ۱۵۷))