مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ضعفِ ارادہ بسیط اور تدابیر

ضعفِ ارادہ بسیط یہ ہے کہ جماعت میں کوئی شخص اس کام کو برحق اور اس کا بیڑہ اٹھانے والی جماعت کو صحیح مانتے ہوئے عملاً سستی اور دلچسپی میں کمی دکھانی شروع کر دے۔ اس صورت کے رونما ہوتے ہی چند تدبیریں اختیار کرنی چاہئیں۔

ایک یہ کہ ایسے شخص کے حالات کی تحقیق کر کے یہ معلوم کیا جائے کہ اس کی سستی کی وجہ آیا ضعفِ ارادہ ہی ہے یا کچھ حقیقی مشکلات ہیں، جو اسے سست کر رہی ہیں، اگر حقیقی مشکلات پائی جائیں تو جماعت کو ان سے باخبر ہونا چاہیے تا کہ انہیں رفع کرنے میں ایک رفیق کی مدد بھی کی جائے اور اس کی سستی دوسروں کی نگاہ میں کوئی غلط معنی نہ پہن سکے، نہ کسی کے لیے غلط نظیر بن سکے اور اگر اصل سبب ضعفِ ارادہ ہی متحقق ہو تو بھونڈے طریقوں سے اجتناب کرتے ہوئے حکمت کے ساتھ ایسے شخص کے معاملے کو جماعت کے سامنے ان لوگوں کے معاملے سے ممیز ہو جانا چاہیے، جو حقیقی مشکلات کی وجہ سے کام میں سرگرم نہ ہوں۔

دوسرے یہ کہ ضعیف الارادہ آدمی کی حالت جس وقت بھی نوٹس میں آئے۔ اس کے ضُعف کو تذکیر و تلقین اور نصیحت کے ذریعے سے دور کرنے کی کوشش کر دینی چاہیے۔ خصوصیت کے ساتھ جماعت کے بہتر آدمیوں کو اس کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ اس کے مرتے ہوئے جذبے کو اُکسائیں اور عملاً اسے اپنے ساتھ لگا کر حرکت میں لانے کی سعی کریں۔

تیسرے یہ کہ ایسے شخص کو ٹوکتے رہنا چاہیے تا کہ جماعت میں اس طرح کی سستی اور بے عملی ایک معمولی چیز نہ بن جائے اور دوسرے لوگ ایک دوسرے کا سہارا لے کر بیٹھتے نہ چلے جائیں اور جماعت کے اندر وقتاً فوقتاً اس امر کا محاسبہ ہوتا رہے کہ کون وقت اور محنت اور مال کا کتنا ایثار کر سکتا ہے اور کتنا کر رہا ہے اور کس کی کار گزاری اس کی واقعی استعداد سے کیا نسبت رکھتی ہے تو یہ پھر اس شخص کے لیے کسی نہ کسی حد تک خجالت کا موجب ہوگا جو محاسبہ کی میزان میں ہلکا اتر رہا ہو اور یہ خجالت لوگوں کو سست پڑنے سے روکتی رہے گی۔ لیکن یہ محاسبہ اس انداز سے نہ ہونا چاہیے کہ بسیط ضُعفِ ارادہ کا مریض مرکب ضُعفِ ارادہ میں مبتلا ہو جائے۔ حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک شخص میں جو کمزوری پیدا ہو رہی ہے اُسے اگر رفع نہ کیا جا سکے تو کم از کم بڑھنے نہ دیا جائے۔ نادانی کے ساتھ ضرورت سے زیادہ جوش دکھانے کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ برائی میں پڑا ہوا آدمی اس سے شدید تر برائی کی طرف زبردستی دھکیل دیا جاتا ہے۔