مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۲۔ اسلام پر پختہ ایمان

علم و معرفت کے بعد دوسرا ضروری وصف جو اس مقصد کے لیے کام کرنےوالوں میں ہونا چاہیے، وہ یہ ہے کہ جس دین پر وہ نظامِ زندگی کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں وہ خود اُس پر پختہ ایمان رکھتے ہوں، اُن کا اپنا دل اس کے صحیح و برحق ہونے پر مطمئن ہواور ان کا اپنا ذہن اس معاملے میں پوری طرح یک سو ہو جائے۔ شک اور تذبذب اور تردُد لیے ہوئے کوئی شخص اس کام کو نہیں کر سکتا۔ دماغی الجھنیں اور نظر و فکر کی پراگندگی لے کر یہ کام نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی ایسا آدمی اس کام کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا جس کا دل ڈانواں ڈول ہو، جس کا ذہن یک سو نہ ہو اور جسے خیال و عمل کی مختلف راہیں اپنی طرف کھینچ رہی ہوں یا کھینچ سکتی ہوں۔ یہ کام تو جسے بھی کرنا ہو اُسے قطعی طور پر اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ خدا ہے اور انہی صفات سے مُتصف انہی اختیارات کا مالک اور انہی حقوق کا مستحق ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ راہِ راست صرف ایک ہے اور وہ وہی ہے جو محمد ﷺ نے دکھائی ہے۔ ہر وہ چیز باطل ہے جو اس کے خلاف ہو یا اس سے موافقت نہ رکھتی ہو جو خیال بھی کسی دوسرے نے پیش کیا ہے اور جو طریقہ بھی دوسرے نے نکالا ہے اس کو جانچنے کی کسوٹی صرف ایک ہے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سُنت اس کسوٹی پر جو کھرا اُترے وہ کھرا ہے اور جو کھوٹا اترے وہ کھوٹا ہے، اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر کے لیے ان حقیقتوں پر پختہ یقین اور دل کا پورا اطمینان درکار ہے۔ دماغ کی کامل یکسوئی درکار ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں ادنیٰ تذبذب بھی رکھتے ہوں یا جن کی دلچسپیاں ابھی دوسری راہوں سے وابستہ ہوں‘ انہیں اس عمارت کے معمار بن کر آنے سے پہلے اپنی اس کمزوری کا علاج کرنا چاہیے۔