مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۲۔ باہمی مشاورت

دوسرا ضروری وصف یہ ہے کہ اس جماعت کو باہمی مشورے سے کام کرنا چاہیے اور آداب مشاورت کو ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہیے۔ خود سر لوگوں کی جماعت جس میں ہر شخص اپنی من مانی کرے، حقیقت میں کوئی جماعت نہیں ہوتی، بلکہ محض ایک منڈی ہوتی ہے جس سے کوئی کام بھی بن نہیں سکتا اور وہ جماعت بھی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی جس میں کوئی ایک شخص یا چند با اثر اشخاص کا ایک ٹولہ مختارِ کُل بن جائے، باقی سب لوگوں کا کام اس کے اشاروں پر چلنا ہو۔ صحیح کام صرف مشاورت ہی سے ہوسکتا ہے کیونکہ اس طرح نہ صرف یہ کہ بہت سے دماغ بحث و تمحیص سے ہر معاملے کے اچھے اور برے پہلوؤں کا جائزہ لے کر ایک بہتر نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں۔ بلکہ اس سے دو فائدے اور بھی ہوتے ہیں ایک یہ کہ جس کام میں پوری جماعت کا مشورہ بالواسطہ یا بلاواسطہ شامل ہو اسے پوری جماعت اطمینان قلب کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کرتی ہے اور کسی کو یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہم پر ایک چیز اُوپر سے ٹھونس دی گئی ہے، دوسرے یہ کہ اس طریقے سے پوری جماعت کو مُعاملہ فہمی کی تربیت ملتی رہتی ہے۔ ہر فرد جماعت اور اس کے معاملات سے دلچسپی لیتا ہے اور اس کے فیصلوں میں اپنی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ مشاورت کے ساتھ آدابِ مشاورت کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ آدابِ مشاورت یہ ہیں کہ ہر شخص ایمان داری کے ساتھ اپنی رائے پیش کرے اور کوئی بات دل میں چھپا کر نہ رکھے۔ بحث میں ضد، ہٹ دھرمی اور کسی قسم کے تعصب کا دخل نہ ہو اور جب کثرت رائے سے ایک فیصلہ ہو جائے تو اختلاف رکھنے والے چاہے اپنی رائے نہ بدلیں، مگر جماعتی فیصلہ کو پوری خوش دلی کے ساتھ عمل میں لانے کی کوشش کریں۔ یہ تین باتیں اگر نہ ہوں تو مشاورت کے تمام فوائد ضائع ہو جاتے ہیں، بلکہ یہی چیز آخر کار جماعت میں پھوٹ ڈال دیتی ہے۔