تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پہلا قدم: جی چرانا
ضُعفِ ارادہ کا ابتدائی ظہور کام چوری کی صورت میں ہوتا ہے۔ آدمی ذمہ داریاں قبول کرنے سے جی چرانے لگتا ہے۔ مقصد کی راہ میں وقت، محنت اور مال خرچ کرنے سے گریز کرنے لگتا ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے کام کو اس کام پر ترجیح دینے لگتا ہے، جسے زندگی کا نصب العین قرار دے کر آیا تھا۔ اس کے اوقات میں، اس کی محنتوں میں، اس کے مال میں، اس کے نام نہاد مقصدِ حیات کا حصہ کم سے کم ہوتا چلا جاتا ہے اور جس جماعت کو وہ برحق جماعت مان کر اس سے وابستہ ہوا تھا، اس کے ساتھ بھی وہ صرف نظم اور ضابطے کا تعلق باقی رکھتا ہے۔ اس کے بھلے اور برے سے کوئی غرض نہیں رکھتا، نہ اس کے معاملات میں کسی قسم کی دلچسپی لیتا ہے۔
یہ حالت کچھ اس طرح بتدریج طاری ہوتی ہے جیسے جوانی پر بڑھاپا آتا ہے مگر آدمی اپنی اس کیفیت پر نہ خود متنبہ ہو اور نہ کوئی اسے متنبہ کرے، تو کسی وقت بھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا کہ جس چیز کو میں اپنا مقصد زندگی قرار دے کر جان و مال کی بازی لگانے کے لیے اٹھا تھا، اس کے ساتھ اب یہ کیا معاملہ کرنے لگا ہوں۔ یوں محض غفلت اور بے خبری کے عالم میں آدمی کی دلچسپی وابستگی بے جان ہوتی چلی جاتی ہے، حتیٰ کہ کسی روز بے خبری ہی میں اس کی طبعی موت واقع ہو جاتی ہے۔