تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
پانچواں مرحلہ: چغل خوری
غیبت سے جو آگ لگتی ہے‘ اسے پھیلانے کی خدمت چغل خوری انجام دیتی ہے اور اس میں بھی اصل محرک وہی نفسانیت کا جذبہ ہوتا ہے۔ چغل خور کسی کا خیر خواہ بھی نہیں ہوتا۔ نہ اس کا جس کی برائی کی گئی ہو اور نہ اس کا جس سے برائی کی ہو۔ وہ دوست دونوں کا بنتا ہے مگر دراصل دونوں کا بدخواہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ایک ایک کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کی تردید نہیں کرتا۔ پھر دوست کو اس کی خبر پہنچاتا ہے تاکہ جو آگ اب تک ایک جگہ لگی ہوئی تھی، وہ دوسری جگہ بھی لگ جائے۔ شریعتِ الٰہی میں اس چیز کو بھی حرام کیا گیا۔ کیونکہ یہ فساد انگیزی میں غیبت سے بھی بڑھ کر ہے۔ قرآن مجید میں جن اوصاف کو آدمی کی بدترین صفات میں شمار کیا گیا ہے، ان میں سے ایک چغل خوری کرتے پھرنا بھی ہے۔ حدیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ: لايدخل الجنة غام ”کوئی چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوسکتا“۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ”تم بدترین انسان اس شخص کو پاؤ گے، جس کے دو منہ ہیں۔ کچھ لوگوں کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کے پاس دوسرا منہ لے کر جاتا ہے“۔ صحیح اسلامی رویہ یہ ہے کہ آدمی جہاں کسی کی غیبت سنے یا تو اس کی تردید کرے یا پھر فریقین کی موجودگی میں اس معاملہ کو چھیڑ کر اس کی صفائی ایسے طریقے سے کرائے، جس سے ایک فریق کو یہ شبہ نہ ہو کہ دوسرے فریق نے اس کی
غیر موجودگی میں اس کی برائی کی تھی اور اگر غیبت کسی ایسی برائی پر ہو جو واقعی شخصِ مذکور میں پائی جاتی ہو تو ایک طرف غیبت کرنے والے کو اس کے گناہ پر متنبہ کرے اور دوسری طرف اس شخص کو بھی اپنی اصلاح کے لیے توجہ دلائے، جس کی برائی بیان کی گئی تھی۔