مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

iii) خوب تر (افراد) پر نظر

اس غلط رُجحان کو روکنے والی ایک اور چیز یہ ہے کہ آدمی صرف اُن پستیوں کی طرف نہ دیکھے‘ جن سے وہ اپنے آپ کو بلند پاتا ہے۔ بلکہ دین و اخلاق کی ان بُلندیوں کو بھی دیکھے‘ جن کے مقابلے میں وہ ابھی بہت پست ہے۔ اخلاق و روحانیت کی پستیاں بھی لامتناہی ہیں اور بلندیاں بھی لامتناہی۔ بُرے سے بُرا آدمی بھی نیچے کی طرف دیکھے تو کسی اور کو اپنے سے بدتر پا کر اپنی برتری پر فخر کر سکتا ہے مگر اس فخر کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر بہتر بننے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔ بلکہ اس سے گزر کر نفس کی شیطانیت اسے یہ اطمینان بھی دلاتی ہے کہ کچھ اور زیادہ نیچے اتر جانے کی بھی ابھی گنجائش ہے۔ یہ نقطہء نظر صرف وہی لوگ اختیار کر سکتے ہیں‘ جو اپنی ترقی کے دشمن ہوں۔ ترقی کی سچی طلب رکھنے والے ہمیشہ نیچے دیکھنے کی بجائے اوپر دیکھتے ہیں۔ ہر بلندی پر پہنچ کر مزید بلندیاں ان کے سامنے آتی ہیں‘ جنہیں دیکھ کر فخر کی بجائے اپنی پستی کا احساس ان کے دل میں خلش پیدا کرتا ہے اور یہی خلش انہیں اور زیادہ اوپر چڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔

ان سب چیزوں کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت ہر وقت اس معاملے میں چوکنی رہے اور اپنے دائرے میں کبر اور تعلی اور فخر و غرور کے ہر ظہور کا نوٹس لے کر بروقت اس کا تدارک کرے۔ مگر تدارک کی یہ کوشش کبھی ایسے طریقوں سے نہ ہونی چاہیے کہ لوگوں میں بناوٹی انکسار اور نمائشی تواضع کی بیماری پیدا ہو جائے۔ کبر کی اس سے بدترین کوئی قسم نہیں، جس کے ساتھ عجز و انکسار کا پردہ ڈالا گیا ہو۔