مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۲۔ نمود و نمائش

دوسرا بڑا عیب جو خیر کی جڑوں کو کھا جانے میں کبر سے کسی طرح کم نہیں، یہ ہے کہ کوئی شخص بھلائی کا کام نمود و نمائش کے لیے کرے اور اس کام میں اُسے خلق کی تحسین حاصل کرنے کی فکر یا اس کی پروا ہو۔ یہ چیز صرف خلوص ہی کی نہیں حقیقت میں ایمان کی بھی ضد ہے اور اسی بناء پر اسے چھپا ہوا شرک قرار دیا گیا ہے۔ خدا اور آخرت پر ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان صرف خدا کی رضا کے لیے کام کرے۔ اسی سے اجر کی آس لگائے اور دنیا کی بجائے آخرت کے نتائج پر نگاہ رکھے، لیکن ریا کار انسان خَلق کی رضا کو مقصود بناتا ہے۔ خَلق ہی سے اجر کا طالب ہوتا ہے اور دنیا ہی میں اپنا اجر نام و نمود، شہرت، ہر دلعزیزی، نفوذ و اثر اور حشمت و جاہ کی شکل میں پا لینا چاہتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خلقِ خدا کو خدا کا شریک بنایا، یا اس کا مدِّ مقابل بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں آدمی خدا کے دین کی خواہ کتنی اور کیسی ہی خدمت کرے، بہر حال وہ نہ خدا کے لیے ہو گی، نہ اس کے دین کی خاطر ہو گی اور نہ اس کا شمار خدا کے ہاں نیکوں میں ہو گا۔

صرف یہی نہیں کہ یہ ناپاک جذبہ نتیجہ کے اعتبار سے عمل کو ضائع کر دیتا ہے، بلکہ در حقیقت اس کے ساتھ کوئی صحیح عمل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی فطری خاصیت یہ ہے کہ آدمی کو اُس کام سے زیادہ کام کے اشتہار کی فکر ہوتی ہے اور اسی کو وہ کام سمجھتا ہے، جس کا ڈھنڈورہ دنیا میں پٹے اور وہ تحسین و آفرین کا خراج وصول کر کے لائے۔ خاموش کام جس کا خدا کے سوا کسی کو پتا نہ ہو، اس کے نزدیک کوئی کام نہیں ہوگا۔ اس طرح آدمی کے عمل کا دائرہ صرف قابل اشتہار اعمال تک محدود ہو جاتا ہے اور اشتہار کا مقصد حاصل ہو جانے کے بعد خود اُن اعمال کے ساتھ بھی اسے کوئی دلچسپی باقی نہیں رہتی، آغاز کار میں خواہ کتنے ہی خلوص کے ساتھ عملی زندگی کی ابتداء کی گئی ہو۔ یہ بیماری لگتے ہی خلوص اس طرح غائب ہونا شروع ہو جاتا ہے، جیسے دق / ایڈز کی بیماری آدمی کی قوت حیات کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ پھر اس کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ منظر عام سے ہٹ کر بھی نیک رہے اور اپنا فرض سمجھ کر بھی کوئی فرض بجا لائے۔ وہ ہر چیز کو اس کی نمائشی قدر اور تحسین خلق کی قیمت کے لحاظ سے جانچتا ہے۔

ہر معاملے میں صرف یہ دیکھتا ہے کہ دنیا کس روش کو پسند کرتی ہے اور کسی ایسے کام کا تصور کرنا بھی اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے، جو دنیا میں اسے غیر مقبول بنا دے۔ خواہ ایمانداری کے ساتھ اس کے ضمیر کی آواز یہی ہو کہ وہ ہے کرنے کا کام۔ گوشوں میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرنے والوں کے لیے اس فتنے سے بچنا نسبتاً بہت آسان ہے۔ مگر جو لوگ پبلک میں آکر اصلاح اور خدمت اور تعمیر کے کام کریں، وہ ہر وقت اس خطرے میں مبتلا رہتے ہیں کہ نہ معلوم کب اس اخلاقی دق / ایڈز کے جراثیم ان کے اندر نفوذ کر جائیں، انہیں بہر حال بہت سے وہ کام کرنے ہوتے ہیں جو منظر عام پر آتے ہیں، انہیں عوام الناس کو اپنا ہم نوا بنانے اور ان کے اندر تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ ان کے کام کی بہت سی ضروریات اس بات پر بھی انہیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنے کاموں کی رودادیں شائع کریں۔ ان کی کچھ نہ کچھ خدمات ایسی بھی ہوتی ہیں جو ان کی طرف خلق کا رجوع بڑھاتی اور زبانوں سے ان کے لیے تحسین کے کلمات نکلواتی ہیں۔ انہیں مخالفتوں سے بھی سابقہ پیش آتا ہے اور اپنی مدافعت میں بادل ناخواستہ ہی سہی، انہیں مجبوراً اپنے اچھے پہلوؤں کو نمایاں کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات میں یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کہ شہرت ہو‘ مگر شہرت کی چاٹ نہ لگے۔ نمود و نمائش ہو‘ مگر نمود و نمائش کی خاطر کام کرنے کی بیماری نہ لگے۔ مقبولیت ہو‘ مگر وہ مقصود نہ بننے پائے‘ تحسینِ خلق ہو‘ مگر اس کے حصول کی فکر یا اس کی پروا نہ ہو‘ ریا کی پیدائش کے اسباب چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوں مگر ریا سے دامن بچا رہے۔

اس کے لیے بڑی کاوش‘ بڑی توجہ اور بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ ایک ذرا سا تساہل بھی اس معاملے میں ریا کاری کے جراثیم کو گھس آنے کا راستہ دے سکتا ہے۔