تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
۴۔ دین بحیثیتِ مقصد
ان تین صفات کے ساتھ ایک چوتھی صفت بھی اصلاح و تعمیر کے کارکنوں میں پائی جانی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ اعلائے کلمۃُ اللہ اور اقامتِ دین ان کے لیے محض ایک خواہش اور تمنا کا درجہ نہ رکھتے ہوں بلکہ وہ اسے اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ ایک قسم کے لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو دین سے واقف ہوتے ہیں، اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں مگر اس کو قائم کرنے کی سعی و جہد ان کا وظیفۂ زندگی نہیں ہوتا بلکہ وہ نیکی اور نیک عمل کے ساتھ اپنی دنیا کے معاملات میں لگے رہتے ہیں۔ یہ بلاشبہ صالح لوگ ہیں اور اگر اسلامی نظامِ زندگی عملاً قائم ہو چکا ہو تو یہ اس کے اچھے شہری ہو سکتے ہیں، لیکن جہاں نظامِ جاہلیت پوری طرح چھایا ہوا ہو اور کام یہ درپیش ہو کہ اُسے ہٹا کر نظامِ اسلام اس کی جگہ قائم کرنا ہے۔ وہاں صرف اس درجے کے نیک لوگوں کی موجودگی سے کچھ نہیں بن سکتا وہاں ضرورت ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کے لیے یہ کام عین ان کا مقصدِ زندگی ہو وہ دنیا کے دوسرے کام تو جینے کے لیے کریں، مگر ان کا جینا صرف اس ایک مقصد کے لیے ہو اس مقصد میں وہ مخلص ہوں، اس کی لگن ان کے دل کو لگی ہوئی ہو۔ اس کے حصول کی کوشش کا وہ پختہ عزم رکھتے ہوں۔ اس کام میں اپنا وقت، اپنا مال، اپنے جسم و جان کی قوتیں اور اپنے دل و دماغ کی صلاحیتیں کھپا دینے کے لیے وہ تیار ہوں، حتیٰ کہ اگر سر دھڑ کی بازی لگا دینے کی ضرورت پیش آجائے تو وہ اس سے بھی منہ نہ موڑیں، جاہلیت کے جنگل کو کاٹ کر اسلام کی راہ ہموار کرنا ایسے ہی لوگوں کا کام ہے۔
یہ اوصاف، دین کا صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، اس کے مطابق سیرت و کردار اور اس کی اقامت کو مقصدِ زندگی بنانا۔ وہ بنیادی اوصاف ہیں جو فرداً فرداً اُن تمام لوگوں میں موجود ہونا چاہئیں، جو اسلامی نظامِ زندگی کی تعمیر کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہوں۔ ان کی اہمیت یہ ہے کہ اگر ان اوصاف کے حامل افراد بہم نہ پہنچیں تو اس کام کا سرے سے تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
اب یہ کہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ اس طرح کے افراد کا گروہ فی الواقع کچھ کرنا چاہتے ہوں، مل کر ایک جماعت کی صورت میں کام کرنا بہر حال ضروری ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ کس جماعت میں ملیں اور کس نام سے کام کریں۔ ہر صاحبِ عقل آدمی اس بات کو خود جانتا ہے کہ اجتماعی نظام میں کوئی تغیر محض انفرادی کوششوں سے نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے بکھری ہوئی کوششیں نہیں بلکہ سمٹی ہوئی مساعی درکار ہوتی ہیں۔ لہٰذا اسے ایک مُسلّم حقیقت فرض کرتے ہوئے اب ہم ان اوصاف کو لیتے ہیں جو اس طرح کی جماعت میں من حیث الجماعت پائے جانے چاہئیں۔