تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
۱۔ اخوت ومحبت
ایسی جماعت کا اولین وصف یہ ہونا چاہیے کہ اس کے شرکاء آپس میں محبت کرنے والے ہوں۔ ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کا معاملہ کریں، جس طرح ایک عمارت اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جبکہ اس کی اینٹیں باہم مضبوطی کے ساتھ پیوستہ ہوں اور اینٹوں کو جوڑنے والی چیز سیمنٹ ہے۔ اسی طرح ایک جماعت بھی اس وقت بُنیان مَرصُوص بنتی ہے جبکہ اس کے کارکنان کے دل ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہوں اور دلوں کو جوڑنے والی چیز مُخلصانہ محبت ہے۔ آپس کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے، اور ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کا معاملہ ہے نفرت کرنے والے دل کبھی نہیں مل سکتے۔ منافقانہ میل جول کوئی حقیقی اتحاد پیدا نہیں کر سکتا۔ خود غرضانہ اتحاد نفاق کا پیش خیمہ ہوتا ہے، اور محض ایک روکھا سوکھا کاروباری تعلق کسی رفاقت کی بنیاد نہیں بن سکتا، کوئی دنیاوی غرض ایسے بے جوڑ عناصر کو جمع بھی کر دے تو وہ صرف بکھرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں اور پھر کچھ بنانے کے بجائے آپس ہی میں کٹ مرتے ہیں۔ ایک مضبوط جماعت صرف اُسی وقت وجود میں آتی ہے جبکہ اپنے خیالات میں مخلص اور اپنے مقصد سے محبت رکھنے والے لوگ باہم مجتمع ہوں اور پھر خیالات کا یہی اخلاص اور مقصد سے یہی محبت ان کے اندر آپس میں بھی اخلاص و محبت پیدا کر دے۔ اسی طرح کی جماعت حقیقت میں ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوتی ہے۔ جس کے اندر فساد ڈالنے کے لیے شیطان کوئی شگاف نہیں پاتا اور باہر سے مخالفتوں کے سیلاب اُٹھا اُٹھا کر لاتا بھی ہے تو اُسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔