مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

چوتھا مرحلہ: غیبت

ان مراحل کے بعد غیبت کا دور شروع ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد خواہ بدگمانی پر ہو یا حقیقت پر دونوں حالتوں میں کسی شخص کو ذلیل کرنے اور اُس کی تذلیل سے لذت یا فائدہ اٹھانے کی خاطر اُس کی پیٹھ پیچھے اُس کی برائی کرنا غیبت ہے۔ حدیث میں اس کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ ”تیرا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر اس طرح کرنا کہ اسے معلوم ہو تو ناگوار ہو“۔ نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر ہمارے بھائی میں وہ بُرائی موجود ہو جس کا ذکر کیا گیا ہے تو کیا پھر بھی یہ غیبت ہو گی؟ فرمایا ”اگر اس میں وہ برائی ہے اور تو نے بیان کی تو غیبت کی اور اگر اس میں وہ نہیں ہے تو غیبت سے بڑھ کر تو نے بہتان لگایا“۔ قرآن اِس فعل کو حرام قرار دیتا ہے۔ سورہ حجرات میں ارشاد ہے۔

<<ولا يغتب بعضكم بعضا ايحب احدكم ان ياكل لحم اخيه ميتا فكر هتموه>>

”اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے“ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ اس سے تم ضرور نفرت کرو گے“۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے۔ ”ہر مسلمان کی جان و مال اور عزت دوسرے مسلمانوں پر حرام ہے“۔

اس سے مستثنیٰ صرف وہ صورتیں ہیں، جن میں کسی کی برائی کرنے کی جائز ضرورت ہے اور اس میں بدخواہی کی نیت شامل نہ ہو۔ مثلاً کسی مظلوم کی شکایت اس لیے کرنا کہ کوئی اس کی فریادرسی کرے۔ اس کی اجازت خود قرآن میں دی گئی ہے۔

<<لا یحب الله الجهر بالسوء من القول الا من ظلم>>

اللہ برائی پر زبان کھولنا پسند نہیں کرتا‘ الّا یہ کہ کسی شخص پر ظلم ہوا ہو۔ یا مثلاً ایک شخص دوسرے شخص سے بیٹی بیاہ رہا ہو یا اس سے کوئی کاروباری معاملہ طے کر رہا ہو اور فریقین میں سے کوئی اس معاملے میں کسی جاننے والے سے مشورہ لے۔ اس صورت میں جو واقعی برائی آدمی کے علم میں ہو‘ اسے خیر خواہی کی بناء پر بیان کر دینا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ خود نبی ﷺ نے ایسے موقع پر برائی بیان کی ہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ دو صاحبوں نے فاطمہ بنت قیس کو نکاح کا پیغام دیا۔ انہوں نے حضور ﷺ سے مشورہ طلب کیا۔ آپ نے انہیں خبردار کیا کہ ان میں سے ایک صاحب کنگال ہیں اور دوسرے صاحب بیویوں کو پیٹنے کے عادی ہیں۔ اسی طرح شریعت کو غیر معتبر راویوں کی روایت سے محفوظ کرنے کے لیے ان کے عیوب بیان کرنا تمام علماء اُمت نے بالاتفاق جائز رکھا اور آئمہ حدیث نے عملاً اس خدمت کو انجام دیا کیونکہ دین کے لیے اس کی ضرورت تھی۔ خلقِ خدا پر اعلانیہ ظلم کرنے والوں اور فسق و فجور پھیلانے والوں اور گھلے گھلے بد کردار لوگوں کی غیبت کرنا بھی جائز ہے اور نبی ﷺ کے اپنے عمل سے اِس کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ اِس طرح کی مستثنیٰ صورتوں کے ماسوا غیبت ہر حال میں حرام ہے اور اس کا سُننا بھی گناہ ہے۔ سننے والوں پر لازم ہے کہ یا تو غیبت کرنے والوں کو روکیں یا اس شخص کی مدافعت کریں‘ جس کی غیبت کی جارہی ہو‘ یا بدرجہِ آخر اس محفل سے اٹھ جائیں‘ جہاں ان کے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھایا جا رہا ہو۔