تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
۳۔ نیت کا کھوٹ
تیسرا بنیادی عیب نیت کا کھوٹ ہے، جس پر کسی خیر کی عمارت قائم نہیں ہوسکتی۔ خیر کا کام صرف اس خالص نیت ہی سے ہو سکتا ہے کہ دنیا میں بھلائی پھیلے اور ہم اس کے لیے سعی کر کے اللہ کے ہاں سرخرو ہوں۔ اس نیت کے ساتھ اپنی کوئی ذاتی یا گروہی غرض شامل نہ ہونی چاہیے۔ اپنا کوئی دُنیوی مفاد پیش نظر نہ ہونا چاہیے، حتیٰ کہ کسی تاویل کے ساتھ بھی اس مقصدِ خیر کے ساتھ اپنے لیے کسی منفعت کی طلب یا اُمید کی لاگ لگی نہ رہنی چاہیے۔ ایسا آلودہ عمل نہ صرف یہ کہ اللہ کے ہاں آدمی کے اجر کو ضائع کر دے گا بلکہ دنیا میں بھی اس آلودگی کو لیے ہوئے کوئی صحیح کام نہ ہو سکے گا۔