تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
۴- ضعفِ ارادہ
انسانوں میں ایک اور کمزوری بکثرت پائی جاتی ہے، جسے ہم ضعفِ ارادہ کا نام دے سکتے ہیں۔
اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک تحریک کی دعوت سن کر اسے صدقِ دل سے لبیک کہتا ہے اور اوّل اوّل خاصا جوش بھی دکھاتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دلچسپی کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اسے نہ اس مقصد سے کوئی حقیقی لگاؤ باقی رہتا ہے، جس کی خدمت کے لیے وہ آگے بڑھا تھا اور نہ اس جماعت کے ساتھ کوئی عملی وابستگی باقی رہتی ہے، جس میں وہ دلی رغبت کے ساتھ شامل ہوا تھا۔ اس کا دماغ بدستور ان دلائل پر مطمئن رہتا ہے، جن کی بناء پر اس تحریک کو اس نے برحق مانا تھا، اس کی زبان بدستور اس کے برحق ہونے کا اقرار کرتی رہتی ہے۔ اس کے دل کی شہادت بھی یہی رہتی ہے کہ یہ کام کرنے کا ہے اور ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں اور قوائے عمل کی حرکت سست ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس میں کسی بدنیتی کا ذرہ برابر دخل نہیں ہوتا، مقصد سے انحراف بھی نہیں ہوتا۔ نظریئے کی تبدیلی بھی قطعاً واقع نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے آدمی جماعت کو چھوڑنے کا خیال نہیں کرتا، مگر بس وہ ارادے کی کمزوری ہوتی ہے جو ابتدائی جوش ٹھنڈا ہو جانے کے بعد مختلف شکلوں میں اپنے کرشمے دکھانے شروع کر دیتی ہے۔