مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۳۔ نظم و ضبط

تیسرا اہم وصف ہے نظم و ضبط، باضابطگی اور باقاعدگی، باہمی تعاون اور ایک ٹیم کی طرح کام کرنا۔ ایک جماعت اپنی تمام خوبیوں کے باوجود صرف اس وجہ سے ناکام ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور منصوبوں کو عمل میں نہیں لا سکتی۔ اور یہ نتیجہ ہوتا ہے نظم و ضبط کی کمی اور تعاون کے فقدان کا۔ تخریبی کام محض ہُلّڑ سے بھی انجام پا سکتے ہیں، مگر کوئی پائیدار تعمیری کام مُنَظّم سعی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ مُنَظّم سعی نام ہے اس چیز کا کہ جو ضابطہ تجویز کیا گیا ہو، پوری جماعت اُس کی پابندی کرے۔ جماعت میں جس کو جس درجہ میں بھی صاحبِ اَمر بنایا گیا ہو، اس کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ جماعت کا ہر شخص فرض شناس ہو اور اپنے ذمہ کا کام ٹھیک وقت پر مُستعدی کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کرے۔ جن کارکنوں کو جو کام مِل کر کرنا ہو وہ ایک دوسرے کے ساتھ پورا تعاون کریں اور جماعت کی مشین اس قدر چُست ہو کہ ایک فیصلہ ہوتے ہی اس کو عمل میں لانے کے لیے تمام پُرزے حرکت میں آ جائیں۔ دنیا میں اگر کوئی کام بنا سکتی ہیں تو ایسی ہی جماعتیں بنا سکتی ہیں۔ ورنہ ان جماعتوں کا عدم اور وجود برابر ہوتا ہے۔ جنہوں نے پرزے تو فراہم کر لیے ہوں مگر ان کے جوڑنے اور کس کر مشین کی طرح باقاعدہ چلانے کا کوئی انتظام نہ کیا ہو۔