تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تیسرا مرحلہ: بدگمانی
اس کا تیسرا قدم بدگمانی کی طرف اٹھتا ہے اور پھر تجسس کر کے آدمی دوسروں کے عیوب ٹٹولنے لگتا ہے۔ بدگمانی کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اپنے سوا ہر ایک کے متعلق یہ ابتدائی مفروضہ قائم کرتا ہے کہ وہ ضرور برا ہے اور بظاہر اس کی جو چیز قابلِ اعتراض نظر آتی ہے‘ اس کی کوئی اچھی توجیہ کرنے کے بجائے بری توجیہ کرتا ہے اور تحقیق کی بھی ضرورت نہیں سمجھتا‘ تجسس اسی بدگمانی کا ایک شاخسانہ ہے۔ آدمی دوسروں کے متعلق پہلے ایک بُری رائے قائم کرتا ہے۔ پھر اس کا ثبوت فراہم کرنے کے لیے ان کے حالات کی ٹوہ لگانی شروع کرتا ہے۔ قرآن ان دونوں چیزوں کو گناہ قرار دیتا ہے۔ سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’<<اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم و لا تجسسو>> ”بہت گمان کرنے سے بچو بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ ”خبردار بدگمانی نہ کرو کیونکہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے“۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ ”ہم کو ٹوہ لگانے اور عیوب ٹٹولنے سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ اگر ہمارے سامنے کوئی بات کھل جائے تو اس پر ہم پکڑیں گے“۔ حضرت معاویہؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ”اگر تم مسلمانوں کے پوشیدہ احوال کی کھوج اور کرید کرو گے تو ان کو بگاڑ دو گے“۔