مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

پہلا مرحلہ: خود پسندی

برائی کی طرف اس جذبے کی پیش قدمی کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ آدمی اپنی جگہ اپنے آپ کو بے عیب اور مجموعۂ محاسن سمجھ بیٹھتا ہے۔ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کا احساس کرنے سے اغماض برتتا ہے اور اپنے ہر نقص یا قصور کی تاویل کر کے اپنے دل کو مطمئن کر لیتا ہے کہ میں ہر لحاظ سے بہت اچھا ہوں۔ یہ خود پسندی پہلے ہی قدم پر اس کی اصلاح و ترقی کا دروازہ اس کے اپنے ہاتھوں بند کر دیتی ہے۔

پھر جب یہ ’’من چہ خوب‘‘ کا احساس لیے ہوئے آدمی اجتماعی زندگی میں آتا ہے تو اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جو کچھ اس نے اپنے آپ کو فرض کر رکھا ہے، وہی کچھ دوسرے بھی اُسے سمجھیں۔ وہ صرف تعریف و تحسین سننا چاہتا ہے۔ تنقید اسے گوارا نہیں ہوتی، خیر خواہانہ نصیحت تک سے اس کی خودی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اس طرح یہ شخص اپنے لیے داخلی وسائلِ اصلاح کے ساتھ خارجی وسائلِ اصلاح کا بھی سدِّ باب کر لیتا ہے۔

مگر کوئی شخص بھی دنیا میں ایسا نہیں ہو سکتا جس کو اجتماعی زندگی میں ہر لحاظ سے اپنی خواہش اور اپنی پسند ہی کے مطابق حالات مل جائیں۔ خصوصیت کے ساتھ خود پسند اور خود پرست آدمی کو تو یہاں ہر طرف سے چرکے لگتے ہیں کیونکہ اس کی خودی اپنے اندر وہ اسباب لیے ہوئے آتی ہے، جو معاشرے کی بے شمار خوبیوں کے ساتھ اس کا تصادم ناگزیر کرا دیتے ہیں اور معاشرے کے مجموعی حالات بھی اس کی توقعات اور خواہشات سے خواہ مخواہ ٹکراتے ہیں۔ یہ صورتحال اس شخص کو صرف اس حد پر نہیں رہنے دیتی کہ وہ بس اپنی اصلاح کے داخلی و خارجی وسائل سے محروم ہو کر رہ جائے بلکہ دوسروں سے تصادم کے چرکے اور توقعات کی شکست کے صدمے اس کی مجروح خودی کو پیہم ایک سے ایک شدید تر برائی میں مبتلا کرتے چلے جاتے ہیں۔ وہ بہت سے لوگوں کو زندگی میں اپنے سے بہتر پاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے متعلق وہ محسوس کرتا ہے کہ معاشرہ ان کو اس سے زیادہ وقعت دے رہا ہے۔ بہت سے لوگ اس کو وہ وقعت نہیں دیتے جس کا وہ طالب ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ اس کے مراتب تک پہنچنے میں مانع ہوتے ہیں، جن کا وہ اپنے آپ کو مستحق سمجھتا ہے۔ بہت سے لوگ اس بات پر تنقید کرتے ہیں بلکہ اس کی تنقیص تک کر ڈالتے ہیں۔ یہ مختلف حالات اس کے دل میں کسی کے خلاف بغض اور کینے کی آگ بھڑکا دیتے ہیں۔ وہ دوسروں کے حالات کا تجسّس کرتا ہے۔ دوسروں کے عیب ڈھونڈتا ہے۔ غیبتیں کرتا ہے اور غیبتیں سُن کر لذّت لیتا ہے۔ یہ چغلیاں کھاتا ہے۔ نجوئی اور سرگوشیاں اور سازشیں کرتا پھرتا ہے۔ اگر اس کے اخلاق کی بندشیں ڈھیلی ہوں یا ان مشاغل میں پیہم مشغول رہنے سے ڈھیلی ہو جائیں تو پھر ان گناہوں سے بڑھ کر جھوٹ، افتراء، بہتان اور دوسرے قبیح تر جرائم کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔ ان برائیوں کے چکر میں پھنس کر وہ اخلاق کی انتہائی پستیوں تک پہنچنے سے نہیں بچ سکتا۔ الّا یہ کہ کسی مرحلے پر پہنچ کر اسے خود ہی اپنی اس ابتدائی غلطی کا احساس ہو جائے، جس نے اسے اس راستے پر ڈالا تھا۔

یہ کیفیت اگر کسی ایک شخص کی ہو تو اس سے کوئی اجتماعی فساد رونما نہیں ہوتا اس کا اثر زیادہ سے زیادہ چند اشخاص تک پہنچ کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر اسی نفسانیت کے بہت سے مریض موجود ہوں تو ان کے شر سے پوری اجتماعی زندگی میں فساد پھیل جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جہاں آپس کی بدظنی، تجسّس، عیب جوئی، غیبت اور چغل خوری کا ایک سلسلہ چل رہا ہو، جہاں بہت سے لوگ دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف برائی پال رہے ہوں اور بغض وحسد کی بنا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوں اور جہاں بہت سی مجروح خودیاں انتقام کے جذبات سے لبریز ہوں، وہاں پھوٹ پڑے بغیر نہیں رہ سکتی۔ وہاں کوئی چیز دھڑے بندیوں کو روک نہیں سکتی۔ وہاں کسی تعمیری تعاون کا تو درکنار، تعلقات کی خوشگواری تک کا امکان باقی نہیں رہتا۔ ایسے ماحول میں کشیدگی اور کش مکش ناگزیر ہے اور وہ صرف نفسانیت کے مریضوں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ رفتہ رفتہ اچھے خاصے نیک نفس لوگ اس میں مبتلا ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ایک نیک نفس آدمی منہ پر تو بجا تنقید ہی کو نہیں، بے جا تنقید کو بھی گوارا کر سکتا ہے مگر غیبت اس کے دل میں غبار پیدا کیے بغیر نہیں رہتی اور اس کا کم از کم اتنا اثر تو ہوتا ہی ہے کہ غیبت کرنے والوں پر اعتماد کرنا اس کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح ایک نیک نفس آدمی ان سب زیادتیوں کو معاف کر سکتا ہے جو بغض یا حسد کی بناء پر اس کے ساتھ کی جائیں، وہ بدگوئی، الزام تراشی، جھوٹے پروپیگنڈے اور اس سے بھی زیادہ اذیت بخش چیزوں کو بھی نظر انداز کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ جن لوگوں سے ان صفات کا ذاتی تجربہ اس کو ہو چکا ہو، ان سے وہ اطمینان کے ساتھ کوئی معاملہ کر سکے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جس اجتماعی ماحول میں یہ عیوب بروئے کار آ جاتے ہیں، وہ کس طرح شیطان کی من بھاتی چراگاہ بن کر رہتا ہے۔ حتیٰ کہ اس میں بہتر سے بہتر آدمی بھی چاہے کشمکش سے بچ جائیں، کشیدگی سے نہیں بچے رہ سکتے۔

اس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ جو لوگ اصلاح و تعمیر کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنا چاہتے ہوں، اُن کی جماعت کا ان امراض سے پاک ہونا کس قدر ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نفسانیت کے جراثیم ایسی جماعت کے لیے طاعون اور ہیضے کے جراثیم سے زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کی موجودگی میں کسی تعمیر صالح کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔