مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اصلاحی تدابیر: i) توبہ و استغفار

شریعت الہی اس مرض کے آغاز سے اس کا علاج شروع کرتی ہے اور پھر ہر مرحلے پر اس کے سدباب کے لیے ہدایات دیتی ہے۔ قرآن وحدیث میں جگہ جگہ اہل ایمان کو توبہ واستغفار کی جو تلقین کی گئی ہے اس کا منشاء یہی ہے کہ مومن کسی وقت بھی اعجاب نفس اور خود پسندی میں مبتلا نہ ہو۔ کبھی اپنے آپ کو بڑی چیز نہ سمجھے۔ ہر وقت اپنی کمزوریوں اور خامیوں کا احساس اور اپنی خطاؤں اور لغزشوں کا اعتراف ہی کرتا رہے اور بڑے سے بڑا کارنامہ انجام دینے کے بعد بھی اس پر پھولنے کے بجائے عاجزی کے ساتھ اپنے خدا کے حضور یہی درخواست پیش کرے کہ خدمت میں کوتاہیاں رہ گئی ہیں۔ ان سے درگزر فرمایا جائے۔ نبی ﷺ سے بڑھ کر مجموعہ کمالات اور کون ہوسکتا ہے اور آپ سے بڑا کارنامہ دنیا میں کس انسان نے انجام دیا ہے‘ مگر تاریخ کے اس عظیم ترین کارنامے کو انتہا تک پہنچا کر جب آپ فارغ ہوئے تو دربار الہی سے جو تلقین آپ کو فرمائی گئی وہ یہ تھی کہ:

<<اذا جاء نصرالله والفتح ،ورايت الناس يدخلون فى دين الله افواجا، فسبح بحمد ربك واستغفره، انه كان توابا o>>

”جب اللہ کی مدد آگئی اور فتح نصیب ہوگئی اور تم نے لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے دیکھ لیا تو اب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اور اس سے مغفرت چاہو‘ یقیناً وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے“۔

یعنی جو کارِ عظیم تم نے انجام دیا اس کے متعلق تم یہ سمجھو کہ اس کی تعریف تمہیں نہیں بلکہ تمہارے رب کو پہنچی ہے‘ جس کے فضل و کرم سے تم اتنا بڑا کام کر دکھانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے متعلق تمہارا احساس یہی ہونا چاہیے کہ جو حق خدمت تھا وہ پھر بھی ادا نہ ہوا۔ اس لیے انعام مانگنے کے بجائے اپنے رب سے یہ دعا کرو کہ خدمت میں جو کچھ کسر رہ گئی ہے اس سے درگزر فرمائے۔ چنانچہ بخاری میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ <<ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر ان يقول قبل موته سبحان الله وبحمده استغفر الله واتوب اليه>> رسول اللہ ﷺ اپنی وفات سے پہلے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ میں اللہ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتا ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں اور ویسے بھی توبہ و استغفار ہمیشہ ہی آنحضور ﷺ کا معمول تھا۔ بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کو فرماتے سنا کہ <<والله انى استغفر الله واتب اليه فى اليوم اكثر من سبعين مرة>> خدا کی قسم میں ہر روز ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ اس تعلیم کی روح اگر کوئی شخص اپنے اندر جذب کر لے تو اس کے ذہن میں نفسانیت کا وہ بیج کبھی جڑ ہی نہیں پکڑ سکتا، جو برگ و بار لا کر فتنہ و فساد کے بُس بھرے پھل دیتا ہے۔