مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

تیسرا قدم: بد دلی

یہ حیلہ جب پرانا ہو کر بیکار ہونے لگتا ہے اور آدمی کو خطرہ ہوتا ہے کہ اب اصل کمزوری کا راز فاش ہوا چاہتا ہے تو وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ دراصل کمزوری کی وجہ سے سُست نہیں ہوا ہے بلکہ جماعت کی کچھ خرابیوں نے اسے بددل کر دیا ہے۔ گویا آپ خود تو بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر کیا کریں‘ ساتھیوں کے بگاڑ نے دل توڑ کر رکھ دیا۔ اس طرح یہ گرتا ہوا انسان جب ایک قدم نہیں جما سکتا تو اور زیادہ نیچے اتر جاتا ہے اور اپنی کمزوری کو چھپانے کی خواہش اُسے یہ مظلمہ اپنی گردن پر لینے کے لیے آمادہ کر دیتی ہے کہ جس کام کو بنانے کے قابل وہ نہ رہا تھا‘ اسے اب بگاڑنے کی کوشش شروع کر دے۔

ابتدائی مرحلے میں یہ بددلی کا معاملہ مُجمل رہتا ہے‘ کچھ پتا نہیں چلتا کہ حضرت کیوں بدلے ہیں‘ خرابیوں کی مبہم شکایتیں دبی زبان سے ظاہر ہوتی ہیں‘ مگر ان کی کوئی تفصیل معلوم نہیں ہوتی‘ ساتھی اگر حکمت سے کام لیں اور اصل مرض کو سمجھ کر اس کا مداوا کرنے کی فکر کریں تو یہ گرتا ہوا شخص مزید گرنے سے رک بھی سکتا ہے اور اوپر اٹھایا بھی جا سکتا ہے لیکن اکثر نادان دوست کچھ بے جا جوش کی وجہ سے اور کچھ اپنے جذبہ استعجاب کی تسکین کی خاطر کھوج کرید شروع کر دیتے ہیں اور اسے اس اجمال کی تفصیل بیان کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنی بددلی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ہر طرف نظر دوڑاتا ہے‘ مختلف افراد کی انفرادی کمزوریاں چُن چُن کر جمع کرتا ہے۔ جماعت کے نظام اور اس کے کام میں نقائص ڈھونڈتا ہے اور ایک فہرست بنا کر سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہیں وہ خرابیاں‘ جنہیں دیکھ دیکھ کر آخر کار یہ خاکسار بددل ہو گیا ہے۔ یعنی اس کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ مجھ جیسا مردِ کامل جو سب کمزوریوں سے پاک تھا‘ ان کمزور ساتھیوں اور ان نقائص سے لبریز جماعت کے ساتھ کس طرح آگے چل سکتا ہے اور یہ طرزِ استدلال اختیار کرتے وقت شیطان اسے یہ بات بھلا دیتا ہے کہ اگر واقعی معاملہ یہ تھا تو سُست پڑنے کے بجائے یہ تو اور زیادہ سرگرم ہونے کا متقاضی تھا‘ جس کام کو آپ اپنی زندگی کا نصب العین ٹھہرا کر انجام دینے کے لیے اٹھے تھے‘ اسے دوسرے اپنی خامیوں سے بگاڑ رہے تھے‘ تو آپ اور زیادہ جوش و خروش کے ساتھ اسے بنانے میں لگ جاتے اور اپنی خوبیوں سے دوسروں کی ان خامیوں کا تدارک فرماتے۔ آپ کے گھر میں آگ لگی ہو اور گھر کے دوسرے افراد اسے بجھانے میں کوتاہی برتیں تو آپ بدل ہو کر بیٹھ جائیں گے یا جلتے ہوئے کو بچانے کے لیے ان کوتاہ دستوں سے بڑھ کر چابک دستی دکھائیں گے۔

اس معاملہ کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے اور اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش میں خود اپنے نامہٴ اعمال کا سارا حساب دوسروں کے نامہ اعمال میں درج کر ڈالتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ نامہ ہائے اعمال کا کوئی ریکارڈ ایسا بھی ہے جس میں کسی کی مکاری سے ایک شوشہ بھی نہیں بدل سکتا۔ وہ دوسروں کے نامہٴ اعمال میں بہت سی کمزوریاں گنواتا ہے، جن میں وہ خود مبتلا ہوتا ہے۔ وہ جماعت کے کردار میں بہت سی ان خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے جن کے پیدا کرنے میں اس کا اپنا حصہ دوسروں سے کم نہیں، کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے وہ ان کاموں پر سراپا شکایت بنا ہوا نظر آتا ہے جو اس کے اپنے کیے ہوئے ہوتے ہیں اور جب وہ کہتا ہے کہ یہ کچھ دیکھ کر اس کا دل ٹوٹ گیا ہے تو اس کے معنی صاف یہ ہوتے ہیں کہ ان سب چیزوں سے وہ خود بری الذمہ ہے۔

کوئی انسانی جماعت کمزوریوں سے خالی نہیں ہوتی، نہ کوئی انسانی کام نقائص سے پاک ہوتا ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے کہ انسانی معاشرے کی اصلاح و تعمیر کے لیے فرشتے فراہم ہوں اور سارا کام معیار کمال کے مطابق کریں کمزوریاں ڈھونڈیئے تو کہاں نہ مل جائیں گی نقائص تلاش کیجئے تو کس جگہ وہ نہ پائے جائیں گے۔ انسانی کام کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ ہی ہوا کرتے ہیں اور معیارِ کمال پر پہنچنے کی ساری کوششوں کے باوجود کسی ایسی حالت پر پہنچنے کی کم از کم اس دنیا میں امید نہیں کی جاسکتی، جہاں انسان اور اس کا کام سبّوح و قدّوس ہو جائے۔

اس حالت میں اگر کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی اس غرض کے لیے ہو کہ انہیں رفع کرنے اور معیارِ کمال کی طرف بڑھنے کے لیے مزید جدوجہد کی جائے تو اس سے زیادہ مبارک کام کوئی نہیں، انسانی کاموں میں جو اصلاح و ترقی بھی ممکن ہے، اسی طریقے سے ممکن ہے اور اس سے غفلت تباہ کن ہے، لیکن اگر انفرادی کمزوریاں اور اجتماعی خامیاں اس لیے تلاش کی جائیں کہ انہیں کام نہ کرنے اور بد دل ہو کر بیٹھ جانے کے لیے بہانہ بنانا ہو تو یہ خالص شیطانی وسوسہ اور نفس امارہ کا مکر ہے، یہ بہانہ بہتر سے بہتر ممکن حالات میں بھی ہر حیلہ جُو انسان کو مل سکتا ہے اور اس بہانے کا سدِ باب اس وقت تک نہیں ہوسکتا۔ جب تک فرشتوں کی کوئی ٹولی انسانی جماعتوں کی جگہ لینے کے لیے نہ آجائے اور اس بہانے کو پیش کرنا کسی ایسے شخص کو زیب نہیں دیتا جو خود کمزوریوں اور خامیوں سے اپنی ذات اقدس کے پاک ہونے کا ثبوت مہیا نہ کر دے۔ اس طرح کی باتوں کا حاصل کبھی یہ نہیں ہوتا کہ کوئی کمزوری دور ہو یا کوئی خامی رفع ہو جائے، بلکہ یہ کمزوریوں اور خامیوں کو بڑھانے کا مجرب نسخہ ہے۔ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص یہ راہ اختیار کر کے اپنے گرد و پیش کے دوسرے ضعیف الارادہ لوگوں کے لیے ایک غلط مثال بن جاتا ہے۔ وہ ان سب کو یہ راہ دکھا دیتا ہے کہ اپنے ضُعف کا اعتراف کر کے نکو بننے سے بچیں اور خود اپنے نفس کو بھی فریب دے کر مطمئن کریں۔ اس کی پیروی میں ہر بے عمل آدمی بد دلی کا ڈھونگ رچانے لگتا ہے اور اس بد دلی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے ساتھیوں کی کمزوریاں اور جماعت کی خامیاں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک فہرست تیار کرنی شروع کر دیتا ہے پھر اس سے بدی کا ایک چکر چل پڑتا ہے۔ ایک طرف جماعت میں عیب چینی اور خوردہ گیری اور الزام و جواب الزام کی ایک وبا پھوٹ پڑتی ہے جو اس کے اخلاقی مزاج کا ستیاناس کر دیتی ہے۔ دوسری طرف اچھے خاصے سرگرمِ عمل اور مخلص آدمی جو کسی ضُعفِ ارادہ میں مبتلا نہ تھے، کمزوریوں اور خامیوں کے اس چرچے سے متاثر ہو کر بد دلی کا شکار ہو جاتے ہیں اور جب اس مرض کی روک تھام کے لیے کچھ کیا جاتا ہے تو بد دلوں کا ایک بلاک بننے لگتا ہے۔ بد دلی ایک مسلک اور تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔ بد دل ہونا، بد دل کرنا اور بد دلی کے حق میں دلائل فراہم کرنا بجائے خود ایک کام بن جاتا ہے اور جو لوگ اصلی مقصد کے لیے کام کرنے میں سست ہو چکے تھے، وہ اس کام میں خوب چُستی دکھانے لگتے ہیں، یوں ان کی مری ہوئی دلچسپی زندہ ہوتی ہے۔ مگر اس شان کے ساتھ کہ اس کا زندہ ہونا اس کی موت سے زیادہ افسوسناک ہوتا ہے۔

یہ ایک خطرہ ہے، جس سے ہر اس جماعت کو خبردار رہنا چاہیے جو اصلاح و تعمیر کی سعی کے لیے اٹھے اور اس کے کارکنوں اور کارفرماؤں کو ضعفِ ارادہ کے نقصانات اور اس کی بسیط و مرکب صورتوں کے فرق اور ان میں سے ہر ایک کے اثرات و نتائج سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے اور اس کے ابتدائی آثار نمودار ہوتے ہی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔