تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
انتہائی مرحلہ: نجویٰ اور سازشیں
اس سلسلہ فساد کی انتہائی کڑی نجویٰ ہے، یعنی گھسر پھسر، سرگوشیاں اور خفیہ مشورے، جن سے بالآخر سازشوں اور جتھہ بندیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور ایک دوسرے کے خلاف کشمکش کرنے والے دھڑے وجود میں آتے ہیں۔ شریعت الٰہی اس کو بھی سختی کے ساتھ منع کرتی ہے۔ قرآن مجید میں اس کو ایک شیطانی حرکت قرار دیا گیا ہے۔ <<انما النجوى من الشيطان>> اور اس کے بارے میں یہ اصولی ہدایت دی گئی ہے کہ <<اذا تناجيتم فلا تتناجوا بالاثم والعدوان ومعصية الرسول وتناجوا بالبر والتقوى>> یعنی دو یا چند آدمیوں کی علیحدگی میں گفتگو اگر نیک مقاصد کے لیے اور تقویٰ کے حدود میں ہو تو اس نجوئی کی تعریف میں نہیں آتا‘ جو ممنوع ہے۔ البتہ وہ گفتگو ضرور نجوئی اور ممنوع نجوئی ہے‘ جو جماعت سے آنکھ بچا کر اخفا کے اہتمام کے ساتھ اس غرض کے لیے کی جائے کہ کسی بڑے کام کی اسکیم بنانی ہے یا کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے یا رسول اللہ ﷺ کے احکام و فرامین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایماندارانہ اور مخلصانہ اختلافات کبھی نجویٰ کے مُحرّک نہیں ہو سکتے۔ ان کی بات چیت کھلم کھلا ہوتی ہے۔ برسرِ عام جماعت کے سامنے ہوتی ہے۔ دلیل کے ساتھ قائل کرنے یا قائل ہونے کے لیے ہوتی ہے اور اس بات چیت سے اگر اختلافات باقی بھی رہ جاتے ہیں تو وہ کبھی موجبِ فساد نہیں ہوتے۔ جماعت سے الگ ہٹ کر اخفا کے اہتمام کے ساتھ سرگوشیاں کرنے کی ضرورت صرف انہی اختلافات میں پیش آتی ہیں‘ جو اگر بالکل نفسانیت پر مبنی نہ بھی ہوں تو کم از کم اُن میں نفسانیت کی آمیزش ضرور ہوتی ہے۔ ایسی سرگوشیاں کبھی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں۔ ان کی ابتداء چاہے کتنی ہی معصوم ہو‘ رفتہ رفتہ وہ پوری جماعت کو آپس کی بدگمانیوں‘ تفرقوں اور دھڑے بندیوں کی چُھوت لگا دیتی ہے۔ باہم پچ پز کر کے جب چند آدمی ایک جتھے کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں‘ تو پھر دوسرے لوگوں میں بھی ایسی ہی پچ پز کرنے اور جتھے بنانے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے اور یہیں سے اس بگاڑ کی ابتداء ہوتی ہے۔ آخری مرحلہ وہ ہے کہ یہ بگاڑ عملاً رونما ہو جائے۔ یہ وہ چیز ہے جس سے نبی ﷺ نے مسلمانوں کو بار بار متنبہ کیا ہے۔ شدّت کے ساتھ ڈرایا ہے اور سختی کے ساتھ بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ”شیطان اب اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب میں جو لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں وہ پھر اس کی عبادت کرنے لگیں گے۔ اب اس کی ساری اُمیدیں صرف ان کے اندر بگاڑ پیدا کرنے اور ان کو باہم لڑانے ہی سے وابستہ رہ گئی ہیں“۔ حتیٰ کہ آپؐ نے یہاں تک فرمایا کہ ”میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو“۔
اس طرح کی حالت پیدا ہو جانے کی صورت میں اہل ایمان کو جو طریقہ سکھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اوّل تو آدمی خود فتنہ میں حصہ لینے سے بچے ”خوش قسمت ہے وہ جو فتنوں سے بچ گیا اور جو جتنا بھی اس سے دور رہے اتنا ہی زیادہ بہتر ہے“۔ اس حالت میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہے اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہے۔ دوسرے اگر وہ حصہ لے تو لڑنے والوں سے ایک فریق بن کر نہیں بلکہ صدقِ دل سے اصلاح کی کوشش کرنے والا بن کر لے، جس کے متعلق صاف صاف ہدایات سورۂ حُجرات کے پہلے رکوع میں دی گئی ہیں۔
نفسانیت کی اس حقیقت اور اس کی نشوونما اور ظہور کے ان مراتب اور ہر مرتبے کے متعلق شریعتِ الٰہی کے ان احکام کو ذہن نشین کر لینا، اُن تمام لوگوں کے لیے ضروری ہے جو خیر و اصلاح کی خدمت کرنے کے لیے مجتمع ہوں۔ اُن میں سے ہر شخص کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خود پسندی کے مرض سے بچائے اور ان اخلاقی و روحانی نقصانات کو سمجھے جو اس مرض میں مبتلا ہونے سے پہنچتے ہیں۔ ان کی جماعت کو بھی بحیثیتِ مجموعی اس معاملے میں چوکنا رہنا چاہیے کہ کہیں اس کے اندر نفسانیت کے جراثیم کو انڈے بچے دینے کا موقع نہ مل جائے۔ انہیں اپنے دائرے میں کسی ایسے شخص کی ہمت افزائی نہ کرنی چاہیے جو اپنے اندر تنقید سن کر بپھر جائے۔ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے سے استکبار برتے، انہیں ہر اس شخص کو دبا نا چاہیے جس کی باتوں سے بغض و عداوت کی بو آئے یا جس کا طرزِ عمل یہ بتا رہا ہو کہ وہ کسی شخص سے ذاتی کدورت رکھتا ہے‘ انہیں ایسے لوگوں کی بھی خبر لینی چاہیے جو دوسروں کے معاملے میں بدگمانی سے کام لیں یا دوسروں کے حالات کی ٹوہ لگا کر اُن کے عیوب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ انہیں اپنی سوسائٹی میں غیبت اور بدگمانی کا بھی سدِ باب کرنا چاہیے اور جہاں کہیں یہ بلا اپنا سر نکالے‘ وہاں فوراً وہ سیدھا سیدھا اسلامی رویہ اختیار کرنا چاہیے جس کی تشریح اوپر کی جاچکی ہے۔ انہی خصوصیت کے ساتھ نجویٰ کے خطرات سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ جماعت میں تفرقے کی تمہید ہے۔ کسی مخلص آدمی کو اس بات کے لیے ہرگز راضی نہ ہونا چاہیے کہ کوئی شخص سرگوشی کر کے کسی اختلافی مسئلہ میں اُسے اپنا ساتھی بنائے اور جس وقت بھی اس امر کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں کہ کچھ لوگ جماعت میں یہ طریقہ اختیار کر رہے ہیں‘ اسی وقت جماعت کو ان کی اصلاح یا پھر ان کی سرکوبی کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ان ساری کوششوں کے باوجود اگر جماعت کے اندر کسی جتھہ بندی کا فتنہ رونما ہو ہی جائے تو پھر مخالفین کا یہ کام نہیں ہے کہ خود بھی کونوں اور گوشوں میں خفیہ سرگوشیاں کر کے دوسرا جتھا بنانے کے لیے ساز باز شروع کر دیں بلکہ انہیں اس فتنے سے اپنا دامن بچا کر اس کو روکنے کے لیے انفرادی تدبیریں کرنی چاہئیں اور ان میں ناکام ہونے کے بعد جماعت کے سامنے گھُلم کھلا اس معاملے کو لے آنا چاہیے۔ جس جماعت میں مخلص افراد کی کثرت ہوگی‘ وہ اس طرح کے فتنوں سے خبردار ہو کر فوراً ہی اُن کا استیصال کر دے گی اور جس میں فتنہ پسند یا بے فکر افراد زیادہ ہوں گے‘ وہ انہی فتنوں کا شکار ہو کر رہ جائے گی۔