مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

۵۔ حکمت

ان سب اوصاف کے ساتھ ایک نہایت اہم وصف حکمت ہے جس پر بہت بڑی حد تک کامیابی کا انحصار ہے۔ دنیا میں دیگر نظام ہائے زندگی بھی قائم ہیں۔ اُن کو اعلیٰ درجے کے ذہین اور ہوشیار کارکن میسر ہوئے ہیں اور ان کی پشت پر مادی وسائل کے ساتھ عقلی و فکری طاقتیں اور علمی و فنی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرے نظام کو قائم کر دینا اور کامیابی کے ساتھ چلا لینا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ یہ بسم اللہ کے گنبد میں رہنے والوں کے کرنے کا کام نہیں ہے۔ سادہ لوح لوگ خواہ کتنے ہی نیک اور نیک نیت ہوں اُس سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتے۔ اِس کے لیے گہری بصیرت اور تدبر کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے دانشمندی اور معاملہ فہمی درکار ہے۔ اس کام کو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو موقع شناس اور باتدبیر ہوں اور زندگی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ حکمت ان سب اوصاف کے لیے ایک جامع لفظ ہے اور اس کا اطلاق دانائی و زیرکی کے متعدد مظاہر پر ہوتا ہے۔

یہ حکمت ہے کہ آدمی انسانی نفسیات کی سمجھ رکھتا ہو اور انسانوں سے معاملہ کرنا جانتا ہو۔ لوگوں کے اذہان کو اپنی دعوت سے متاثر کرنے اور اُن کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے کے طریقوں سے واقف ہو۔ ہر شخص کو ایک ہی لگی بندھی دوا دیتا نہ چلا جائے بلکہ ہر ایک کے مزاج اور مرض کی تشخیص کر کے علاج کرے۔ سب کو ایک لکڑی سے نہ ہانکے بلکہ جن اشخاص اور طبقوں اور گروہوں سے اس کو سابقہ پیش آئے ان کے مخصوص حالات کو سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرے۔

یہ بھی حکمت ہے کہ آدمی اپنے کام کو اور اس کے کرنے کے طریقوں کو جانتا ہو اور اس کے راستہ میں پیش آنے والی دشواریوں، مخالفتوں اور مزاحمتوں سے نمٹنا بھی اسے آتا ہو۔ اسے ٹھیک ٹھیک معلوم ہونا چاہیے کہ جس مقصد کے لیے وہ سعی کرنے اٹھا ہے، اس کے لیے اسے کیا کچھ کرنا ہے اور کس کس قسم کی رکاوٹوں کو کس طرح دور کرنا ہے۔

یہ بھی حکمت ہی ہے کہ آدمی اس وقت کے حالات پر نظر رکھتا ہو، مواقع کو سمجھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ کس موقع پر کیا تدبیر کی جانی چاہیے۔ حالات کو سمجھے بغیر اندھا دھند قدم اٹھا دینا، بے موقع کام کرنا اور موقع پر چوک جانا غافل لوگوں کا کام ہے اور ایسے لوگ خواہ کتنے ہی پاکیزہ مقصد کے لیے کتنی ہی نیکی اور نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہوں، کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔

اور ان سب حکمتوں سے بڑھ کر راس الحکمت یہ ہے کہ آدمی دین میں تفقّہ اور معاملاتِ دنیا میں بصیرت رکھتا ہو۔ محض احکام اور مسائلِ شریعت سے واقف ہونا اور انہیں پیش آمدہ حوادث پر چسپاں کر دینا بگڑے ہوئے معاشرے کو درست کرنے اور نظامِ زندگی کو جاہلیت کی بنیادوں سے اکھاڑ کر دین کی بنیادوں پر ازسرِ نو قائم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ آدمی جزئیاتِ احکام کے ساتھ کلیاتِ احکام بلکہ پورے نظامِ دین پر نظر رکھتا ہو، پھر احکام کے ساتھ ان کی حکمت کا بھی اسے علم ہو اور وقت کے اُن حالات و مسائل کو بھی وہ سمجھتا ہو جن میں احکام کو رائج کرنا مطلوب ہو۔

مطلوبہ اوصاف کے اس مرقع کو دیکھ کر بادی النظر میں ایک آدمی ہول کھا جاتا ہے اور یہ خیال کرنے لگتا ہے کہ یہ کام تو پھر کاملین کے کرنے کا ہے۔ عام انسان کہاں سے اتنے وصف لے کر آ سکتے ہیں۔ اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ ہر صفت کا ہر شخص میں بہ درجہ کمال پایا جانا لازم نہیں ہے اور نہ یہی لازم ہے کہ کسی میں وہ پہلے ہی قدم پر اپنی پوری تربیت یافتہ شکل میں موجود ہو۔ ہمارا مقصد ان باتوں کو بیان کرنے سے صرف یہ بات ذہن نشین کرنا ہے کہ جو لوگ اس کام کو کرنے کے لیے اٹھیں وہ محض ”خدمت قوم کا ایک کام“ سمجھ کر یونہی کھڑے نہ ہو جائیں۔ بلکہ اپنے نفس کا جائزہ لے کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کریں کہ اس کام کے لیے جو اوصاف مطلوب ہیں، اُن کا مادہ ان کے اندر موجود ہے یا نہیں۔ بس مادہ اگر موجود ہے تو آغازِ کار کے لیے کافی ہے۔ اس کو پرورش کرنا اور اپنی استعداد کے مطابق زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک ترقی دینا بعد کے مراحل سے تعلق رکھتا ہے۔ جس طرح ایک ذرا سا بیج زمین میں جڑ پکڑنے کے بعد آہستہ آہستہ غذا پا کر تناور درخت بن جاتا ہے۔ لیکن بیج ہی موجود نہ ہو تو کچھ بھی نہیں بن سکتا۔ اسی طرح صفات مطلوبہ کا مادہ آدمی میں موجود ہو تو مناسب سعی و کوشش سے وہ بتدریج کمال تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر سرے سے مادہ موجود ہی نہ ہو تو کسی سعی اور تربیت سے اس کا پیدا ہو جانا ممکن نہیں ہے۔

جو کچھ اب تک کہا جا چکا ہے۔ اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ اصلاح و تعمیر کے لیے ایک صحیح لائحہ عمل جتنا ضروری ہے، اُس سے بہت زیادہ ضروری ایسے کارکنوں کا وجود ہے جو اس کام کے لیے موزوں اخلاقی اوصاف رکھتے ہوں۔ کیونکہ آخر کار جس چیز کو معاشرے سے نبرد آزما اور اقامت دین کی آزمائشوں سے دوچار ہونا ہے، وہ کسی لائحہ عمل کی دفعات نہیں بلکہ ان لوگوں کی اجتماعی و انفرادی سیرت ہے جو میدانِ عمل میں کام کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس لیے ہمیں کسی لائحہ عمل اور پروگرام کو طے کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کام کے لیے کیسے کارکن درکار ہیں۔ ان کو کن اوصاف سے متصف اور کن برائیوں سے پاک ہونا چاہیے اور ایسے کارکنوں کی تیاری کے ذرائع کیا ہیں۔ اس حقیقت کو واضح کرنے کے بعد ہم نے اوصاف مطلوبہ کو تین حصوں میں بیان کیا ہے۔

اولاً وہ اوصاف جو بنیادِ کار کی حیثیت سے اس کام میں حصہ لینے والے ہر فرد کے اندر موجود ہونے چاہئیں اور وہ ہیں (۱) دین کا صحیح فہم (۲) اس پر پختہ ایمان (۳) اس کے مطابق سیرت و کردار اور (۴) اس کی اقامت کو مقصدِ زندگی بنانا۔

ثانیاً وہ اوصاف ہیں، جو اس خدمت کے لیے اُٹھنے والی جماعت میں پائے جانے چاہئیں، اور وہ یہ ہیں (۱) باہمی محبت، حسنِ ظن، اخلاص، ہمدردی و خیر خواہی، ایک دوسرے کے لیے ایثار (۲) آپس کے مشورے سے کام کرنا اور مشاورت کے اسلامی آداب کو ملحوظ رکھنا (۳) نظم و ضبط و باقاعدگی، تعاون اور ٹیم اسپرٹ (۴) تنقید بغرض اصلاح، جو سلیقے اور معقول طریقے سے ہو جس سے جماعت کے اندر رونما ہونے والی خامیوں کا ہر وقت تدارک ہو سکے، نہ کہ خرابیوں میں الٹا اضافہ ہو۔

ثالثاً وہ اوصاف جو اقامتِ دین کی جدوجہد کو صحیح خطوط پر چلانے اور کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے ناگزیر ہیں یعنی (۱) اللہ کے ساتھ گہرا تعلق اور اسی کی رضا کے لیے کام کرنا (۲) آخرت کی باز پرس کو یاد رکھنا اور اجرِ آخرت کے سوا کسی دوسری چیز پر نگاہ نہ رکھنا (۳) حسنِ اخلاق (۴) صبر (۵) حکمت۔

اب ہمیں یہ دکھانا ہے کہ وہ بڑی بڑی برائیاں کیا ہیں، جن سے اس مقصدِ عظیم کے خادموں کو پاک ہونا چاہیے۔