تحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا مودودی کا وہ اہم مقالہ ہے جس میں وہ تحریکِ اسلامی کی کامیابی کے لیے ضروری انفرادی اور اجتماعی اوصاف کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ انفرادی اوصاف میں وہ اسلام کے صحیح فہم، اس پر پختہ ایمان، سیرت و کردار کی مطابقتِ قول و عمل، اور دین کو زندگی کا حقیقی مقصد بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
اجتماعی اوصاف کے ضمن میں وہ اخوت و محبت، باہمی مشاورت، نظم و ضبط اور تنقید برائے اصلاح جیسے اصولوں کی وضاحت کرتے ہیں، اور آخر میں تکمیلی اوصاف اور انسانی کمزوریوں (کبر و غرور، نمود و نمائش، نیت کا کھوٹ، ضعفِ ارادہ وغیرہ) کا تفصیلی نفسیاتی و اخلاقی تجزیہ کرتے ہوئے ان کے علاج کی عملی تدابیر تجویز کرتے ہیں، تاکہ تحریک سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد کردار کے حامل بن سکیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
دوسرا مرحلہ: بغض و حسد
اس کا دوسرا ظہور بغض و حسد کی شکل میں ہوتا ہے جسے آدمی ہر اس شخص کے خلاف دل میں پالنا شروع کر دیتا ہے‘ جس سے اس کی نفسانیت کو چوٹ لگی ہو اور پھر اس سے تعلقات کی خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔ شریعتِ الٰہی اس چیز کو گناہ قرار دیتی ہے اور اس پر سخت وعید سناتی ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’خبردار حسد نہ کرو‘ کیونکہ حسد آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ سوکھی لکڑیوں کو چٹ کر جاتی ہے‘‘۔ احادیث میں متعدد الفاظ کے ساتھ حضور ﷺ کے یہ تاکیدی ارشادات وارد ہوئے ہیں کہ ’’ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو‘‘۔ ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو۔ ایک دوسرے سے قطع کلام نہ کرو۔ کسی مسلم کے لیے حلال نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے تعلقات توڑے رکھے۔