مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

۱۶۔ خارجی سیاست کے اصول

اسلامی ریاست کی خارجی پالیسی کے متعلق جو اہم ہدایات قرآن میں دی گئی ہیں وہ یہ ہیں:

(الف) عہد و پیمان کا احترام، اور اگر معاہدہ ختم کرنا ناگزیر ہو تو اس سے دوسرے فریق کو خبردار کر دینا،

<<وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا>> (بنی اسرائیل: ۳۴)

"عہد وفا کرو، یقیناً عہد کے متعلق باز پرس ہوگی۔"

<<وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُّمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا ...>>

<<وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِيْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۗ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًاۢ بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِيَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۗ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ۗ وَ لَيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ (النحل : ۹۱-۹۲)>>

”اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم معاہدہ کرو اور قسمیں پختہ کر لینے کے بعد ان کو نہ توڑو ...... اور نہ ہو جاؤ اس عورت کی طرح جس نے اپنا ہی محنت سے کاتا ہوا سوت ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکر و فریب کا ذریعہ بناتے ہو تاکہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ فائدہ حاصل کرے۔ اللہ اس چیز کے ذریعے سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور ضرور وہ قیامت کے روز تمھارے اختلافات کی حقیقت کھول دے گا۔“

<<فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۗ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ (التوبه : ۷)>>

”جب تک دوسرے فریق کے لوگ تمھارے ساتھ عہد پر قائم رہیں تم بھی قائم رہو۔ یقیناً اللہ پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے۔“

<<الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْـًٔا وَّ لَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۗ (التوبه :۴)>>

”مشرکین میں سے جن لوگوں کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا پھر انھوں نے تمھارے ساتھ وفا کرنے میں کوئی کمی نہ کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی تو ان کے عہد کو معاہدے کی مدت تک پورا کرو۔“

<<وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ۗ (الانفال : ۷۲)>>

”اور اگر دشمن کے علاقے میں رہنے والے مسلمان تم سے مدد مانگیں تو مدد کرنا تمھارا فرض ہے، مگر یہ مدد کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں دی جاسکتی جس سے تمھارا معاہدہ ہو۔“

<<وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَيْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ ۗ اِنَّ اللّٰهَ لَايُحِبُّ الْخَائِنِينَ>> (الانفال: ۵۸)

”اور اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت (بدعہدی) کا اندیشہ ہو جائے تو ان کی طرف پھینک دو (ان کا عہد) برابری ملحوظ رکھ کر۔ [یعنی تمہارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ یا صلح نامہ ہوا تھا اس کے فسخ ہو جانے کی اطلاع انہیں دے دو تاکہ فریقین اس کے فسخ ہونے کے علم میں برابر ہو جائیں، اور اگر تم ان کے خلاف کوئی کارروائی کرو تو فریق ثانی اس خیال میں نہ رہے کہ تم نے اس سے بدعہدی کی ہے۔“ (الجصاص، ج۳، ص ۸۳)] یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔“

(ب) معاملات میں دیانت و راست بازی،

<<وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ>> (النحل: ۹۴)

”اور اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکرو فریب کا ذریعہ نہ بناؤ۔“ [یعنی دھوکا دینے کی نیت سے معاہدہ نہ کرو کہ فریق ثانی تو تمہاری قسموں کی بنا پر تمہاری طرف سے مطمئن ہو جائے اور تمہارا ارادہ یہ ہو کہ موقع پا کر اس سے غدر کرو گے۔“ (ابن جریر، ج ۱۴، ص ۱۱۲)]

(ج) بین الاقوامی عدل،

<<وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ>> (المائدہ: ۸)

”اور کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو کہ یہی خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔“

(د) جنگ میں غیر جانبدار ممالک کے حدود کا احترام،

<<فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا ...... إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ>> (النساء: ۸۹-۹۰)

”اور اگر وہ (یعنی دشمنوں سے ملے ہوئے منافق مسلمان ) نہ مانیں تو ان کو پکڑو اور قتل کرو جہاں پاؤ۔ ...سوائے ان لوگوں کے جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔“

(ہ) صلح پسندی

<<وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا>> (الانفال: ۶۱)

”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاؤ۔“

(و) فساد فی الارض اور زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کی کوششوں سے اجتناب،

<<تِلْكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَ لَا فَسَادًا ۚ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ>> (القصص: ۸۳)

”وہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کریں گے جو زمین میں اپنی برتری نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ نیک انجام پرہیز گار لوگوں کے لیے ہے۔“

(ز) غیر معاند طاقتوں سے دوستانہ برتاؤ

<<لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ>> (الممتحنه: ۸)

”اللہ تم کو اس بات سے نہیں روکتا کہ جن لوگوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں تمھارے گھروں سے نہیں نکالا ہے ان کے ساتھ تم نیک سلوک اور انصاف کرو۔ یقیناً اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“

(ح) نیک معاملہ کرنے والوں سے نیک برتاؤ

<<هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ>> (الرحمن: ۶۰)

”کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور ہو سکتا ہے؟“

(ط) زیادتی کرنے والوں کے ساتھ اتنی ہی زیادتی جتنی انھوں نے کی ہو،

<<فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ>> (البقرة: ۱۹۴)

”پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر بس اتنی ہی زیادتی کر لو جتنی اس نے کی تھی اور اللہ سے ڈرو اور جان رکھو بے شک اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔“

<<وَ اِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ ؕ وَ لَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰبِرِيۡنَ>> (النحل : ۱۲۶)

”اور اگر بدلہ لو تو اتنا ہی لو جتنا تمھیں ستایا گیا ہو، اور اگر صبر کرو تو وہ بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لیے۔“

<<وَ جَزٰٓؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثۡلُهَا ۚ فَمَنۡ عَفَا وَ اَصۡلَحَ فَاَجۡرُهٗ عَلَي اللّٰهِ ؕ اِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيۡنَ ﴿۴۰﴾ وَ لَمَنِ انۡتَصَرَ بَعۡدَ ظُلۡمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ سَبِيۡلٍ ﴿۴۱﴾ اِنَّمَا السَّبِيۡلُ عَلَي الَّذِيۡنَ يَظۡلِمُوۡنَ النَّاسَ وَ يَبۡغُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ>> (الشوریٰ : ۴۰-۴۲)

”اور برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہے جتنی کی گئی ہو۔ پھر جو معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اور وہ لوگ قابل گرفت نہیں ہیں جن پر ظلم کیا گیا ہو اور اس کے بعد وہ اس کا بدلہ لیں۔ قابل گرفت تو وہ ہیں جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک سزا ہے۔“