مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

شورش کے اسباب

حضرت عثمانؓ کے خلاف جو شورش برپا ہوئی اس کے متعلق یہ کہنا کہ وہ کسی سبب کے بغیر محض سبائیوں کی سازش کی وجہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی، یا وہ محض اہل عراق کی شورش پسندی کا نتیجہ تھی، تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں ہے۔ اگر لوگوں میں ناراضی پیدا ہونے کے واقعی اسباب موجود نہ ہوتے اور ناراضی فی الواقع موجود نہ ہوتی تو کوئی سازشی گروہ شورش برپا کرنے اور صحابیوں اور صحابی زادوں تک کو اس کے اندر شامل کر لینے میں کامیاب نہ ہو سکتا تھا۔ ان لوگوں کو اپنی شرارت میں کامیابی صرف اس وجہ سے حاصل ہوئی کہ اپنے اقرباء کے معاملے میں حضرت عثمانؓ نے جو طرزِ عمل اختیار فرمایا تھا اس پر عام لوگوں ہی میں نہیں بلکہ اکابر صحابہ تک میں ناراضی پائی جاتی تھی۔ اسی سے ان لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور جو کمزور عناصر انہیں مل گئے ان کو اپنی سازش کا شکار بنا لیا۔ یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ فتنہ اٹھانے والوں کو اسی رخنے سے اپنی شرارت کے لیے راستہ ملا تھا۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ:

<<و كان الناس ينقمون على عثمان تقريبه مروان و طاعته له ويرون ان كثيرا مما ينسب الى عثمان لم يامر به وان ذالك عن راى مروان دون عثمان فكان الناس قد شنفوأ لعثمان لما كان يصنع بمروان و يقربه>>۔ [طبقات، ج ۵، ص،۳۶]

”لوگ حضرت عثمانؓ سے اس لیے ناراض تھے کہ اُنھوں نے مروان کو مقرب بنا رکھا تھا اور وہ اس کا کہا مانتے تھے۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ بہت سے کام جو حضرت عثمانؓ کی طرف منسوب ہوتے ہیں ان کا حضرت عثمانؓ نے خود کبھی حکم نہیں دیا بلکہ مروان ان سے پوچھے بغیر اپنے طور پر وہ کام کر ڈالتا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ مروان کو مقرب بنانے اور اس کو یہ مرتبہ دینے پر معترض تھے۔“

ابن کثیر کا بیان ہے کہ کوفہ سے حضرت عثمانؓ کے مخالفین کا جو وفد ان کی خدمت میں شکایات پیش کرنے کے لیے آیا تھا، اس نے سب سے زیادہ شدت کے ساتھ جس چیز پر اعتراض کیا وہ یہ تھی:

<<بعثوا الى عثمان من يناظره فيما فعل وفيما اعتمد من عزل كثير من الصحابة و توليه جماعة من بني امية من اقربائه واغلظوا له في القول وطلبوا منه ان يعزل عماله ويستبدل ائمة غيرهم>> [البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۱۶۶-۱۶۷]

”انھوں نے کچھ لوگوں کو حضرت عثمانؓ سے اس امر پر بحث کرنے کے لیے بھیجا کہ آپ نے بہت سے صحابہؓ کو معزول کر کے ان کی جگہ بنی امیہ میں سے اپنے رشتہ داروں کو گورنر مقرر کیا ہے۔ اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمانؓ سے بڑی سخت کلامی کی اور مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو معزول کر کے دوسروں کو مقرر کریں۔“

آگے چل کر حافظ ابن کثیر پھر لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لیے سب سے بڑا ہتھیار جو ان کے مخالفین کے پاس تھا وہ یہی تھا کہ:

<<ما ينقمون عليه من توليته اقرباءه و ذوى رحمه و عزله كبار الصحابة فدخل هذا في قلوب كثير من الناس۔>>[البدایہ، ج ۷، ص ۱۶۸ ۔]

”حضرت عثمانؓ نے اکابر صحابہؓ کو معزول کر کے اپنے رشتہ داروں کو جو گورنر بنایا تھا اس پر وہ اظہارِ ناراضی کرتے تھے اور یہ بات بکثرت لوگوں کے دلوں میں اتر گئی تھی۔“

طبری، ابن اثیر، ابن کثیر اور ابن خلدون نے وہ مفصل گفتگو نقل کی ہیں جو اس فتنے کے زمانے میں حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کے درمیان ہوئی تھیں۔ ان کا بیان ہے کہ مدینے میں جب حضرت عثمانؓ پر ہر طرف نکتہ چینیاں ہونے لگیں، اور حالت یہ ہو گئی کہ چند صحابہ (زید بن ثابت، ابو اسید الساعدی، کعب بن مالک اور حسان بن ثابت رضی اللہ عنہم) کے سوا شہر میں کوئی صحابی ایسا نہ رہا جو حضرت والا کی حمایت میں زبان کھولتا، [اس کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اگر مدینہ میں ایسی ہی حالت پیدا ہو گئی تھی تو جب مصر سے آنے والے سازشیوں کو سمجھانے اور فساد سے باز رکھنے کے لیے حضرت عثمانؓ نے حضرت علیؓ کو بھیجا تھا اس وقت مہاجرین و انصار میں سے ۳۰ بزرگ کیسے ان کے ساتھ چلے گئے؟ لیکن یہ اعتراض اس لیے غلط ہے کہ عام قوم کا خلیفہ وقت کی کسی خاص پالیسی کو ناپسند کرنا اور چیز ہے، اور خلیفہ کے خلاف شورش برپا ہوتے دیکھ کر اسے روکنے کی کوشش کرنا دوسری چیز۔ نکتہ چینی کرنے والے لوگ اگر تنقید کرتے تھے تو اصلاح کے لیے کرتے تھے۔ ان کو حضرت عثمانؓ سے دشمنی نہ تھی کہ ایک سازشی گروہ کو ان کے خلاف فتنہ برپا کرتے دیکھ کر بھی خاموش بیٹھے رہتے اور اسے من مانی کرنے دیتے۔] تو لوگوں نے حضرت علیؓ سے کہا کہ آپ حضرت عثمانؓ سے مل کر ان معاملات پر بات کریں۔ چنانچہ وہ ان کی خدمت میں تشریف لے گئے اور ان کو وہ پالیسی بدل دینے کا مشورہ دیا جس پر اعتراضات ہو رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ ”جن لوگوں کو میں نے عہدے دیے ہیں انھیں آخر عمرؓ بن الخطاب نے بھی تو عہدوں پر مامور کیا تھا، پھر میرے ہی اوپر لوگ کیوں معترض ہیں؟“ حضرت علیؓ نے جواب دیا: ”عمرؓ جس کو کسی جگہ کا حاکم مقرر کرتے تھے، اس کے متعلق اگر انھیں کوئی قابلِ اعتراض بات پہنچ جاتی تھی تو وہ بری طرح اس کی خبر لے ڈالتے تھے، مگر آپ ایسا نہیں کرتے۔ آپ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نرمی برتتے ہیں“۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: ”وہ آپ کے بھی تو رشتہ دار ہیں۔“ حضرت علیؓ نے جواب دیا: <<ان رحمهم منی لقربية ولكن الفضل في غيرهم>> ”بے شک میرا بھی ان سے قریبی رشتہ ہے، مگر دوسرے لوگ ان سے افضل ہیں۔“ حضرت عثمانؓ نے کہا: ”کیا عمرؓ نے معاویہؓ کو گورنر نہیں بنایا تھا؟“ حضرت علیؓ نے جواب دیا ”عمرؓ کا غلام یرفا بھی ان سے اتنا نہ ڈرتا تھا جتنا معاویہؓ ان سے ڈرتے تھے، اور اب یہ حال ہے کہ معاویہؓ آپ سے پوچھے بغیر جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عثمانؓ کا حکم ہے، مگر آپ انھیں نہیں کہتے۔“[الطبری، ج ۳، ص ۳۷۷- ابن الاثیر، ج ۳، ص ۷۶ - البدایہ، ج ۷، ص ۱۶۸ - ۱۶۹ - ابن خلدون تکملہ جلد دوم ، ص ۱۴۳ ۔]

ایک اور موقع پر حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ کے گھر تشریف لے گئے اور اپنی قرابت کا واسطہ دے کر ان سے کہا کہ آپ اس فتنے کو فرو کرنے میں میری مدد کریں۔ انھوں نے جواب دیا ”یہ سب کچھ مروان بن الحکم، سعید بن العاص، عبداللہ بن عامر اور معاویہ کی بدولت ہو رہا ہے۔ آپ ان لوگوں کی بات مانتے ہیں اور میری نہیں مانتے۔“ حضرت عثمانؓ نے فرمایا ”اچھا اب میں تمھاری بات مانوں گا۔“ اس پر حضرت علیؓ انصار و مہاجرین کے ایک گروہ کو ساتھ لے کر مصر سے آنے والے شورشیوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو واپس جانے کے لیے راضی کیا۔ [الطبری، ج ۳، ص ۳۹۴- ابن الاثیر، ج ۳، ص ۸۱-۸۲ - ابن خلدون تکملہ جلد دوم ، ص ۱۴۶ ۔]

اسی زمانہ فتنہ میں ایک اور موقع پر حضرت علیؓ سخت شکایت کرتے ہیں کہ میں معاملات کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہوں اور مروان ان کو پھر بگاڑ دیتا ہے۔ آپ خود منبر رسول پر کھڑے ہو کر لوگوں کو مطمئن کر دیتے ہیں اور آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کے دروازے پر کھڑا ہو کر مروان لوگوں کو گالیاں دیتا ہے اور آگ پھر بھڑک اُٹھتی ہے۔ [الطبری، ج ۳، ص ۳۹۸ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۸۳ - ۸۴ - ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۴۷]

حضرت طلحہؓ و زبیرؓ اور حضرت عائشہؓ کے متعلق بھی ابن جریر نے روایات نقل کی ہیں کہ یہ حضرات بھی اس صورت حال سے ناراض تھے۔ [الطبری، ج ۳، ص ۴۷۷-۴۸۶ ان حوالوں کے متعلق ایک صاحب نے یہ دعوی کیا ہے کہ یہ غلط ہیں۔ لیکن شاید یہ دعوئی اس بھروسے پر کیا گیا ہے کہ اردو دان لوگ اصل کتاب کو دیکھ کر حقیقت معلوم نہ کر سکیں گے۔ تاہم عربی داں لوگ تو اصل کتاب کو دیکھ سکتے ہیں ۔ صفحہ ۴۷۷ پر یہ ذکر موجود ہے کہ حضرت عائشہ نے جب فرمایا کہ بخدا میں حضرت عثمان کے خون کا بدلہ طلب کروں گی ، تو عبد بن ام کلاب نے کہا: ” خدا کی قسم ! سب سے پہلے تو آپ ہی نے ان کی مخالفت کی تھی ۔ حضرت عائشہ نے جواب دیا: ” ان لوگوں نے حضرت عثمان سے توبہ کرائی تھی، پھر ان کو قتل کر ڈالا ۔ اسی طرح صفحہ ۴۸۶ پر بھی یہ عبارت موجود ہے کہ حضرت طلحہ و زبیر نے اہل بصرہ کے سامنے تقریریں کیں اور ان میں یہ فرمایا کہ انما اردنا ان يستعتب امير المومنين عثمان اس پر لوگوں نے حضرت طلحہ سے کہا: یا ابا محمد قد كانت كتبك قد تلتينا بغير هذا ۔ حضرت زبیر اس کے جواب میں بولے کہ میرا بھی کوئی خط حضرت عثمان کے معاملے میں کبھی تمھارے پاس آیا تھا؟ ان واقعات کو ابن خلدون نے بھی نقل کیا ہے۔ ملاحظہ ہو تکملہ جلد دوم، ص ۱۵۴-۱۵۷] مگر ان میں سے کوئی بھی یہ ہرگز نہ چاہتا تھا کہ خلیفہ وقت کے خلاف کوئی شورش یا بغاوت ہو یا ان کے قتل تک نوبت پہنچ جائے۔ طبری نے حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ <<انما اردنا ان يستعتب امير المومنين عثمان و لم نرد قتله فغلب سفهاء الناس الحلماء حتى قتلوه>> ”ہم صرف یہ چاہتے تھے کہ امیر المومنین کو یہ پالیسی ترک کر دینے پر آمادہ کیا جائے۔ ہمارا یہ خیال ہرگز نہ تھا کہ وہ قتل کر ڈالے جائیں۔ مگر بے وقوف لوگ بردبار لوگوں پر غالب آگئے اور انھوں نے ان کو قتل کر دیا۔“

یہ تمام واقعات اس امر کی ناقابل تردید شہادت بہم پہنچاتے ہیں کہ فتنے کے آغاز کی اصل وجہ وہ بے اطمینانی ہی تھی جو اپنے اقرباء کے معاملے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے طرز عمل کی وجہ سے عوام اور خواص میں پیدا ہو گئی تھی، اور یہی بے اطمینانی ان کے خلاف سازش کرنے والے فتنہ پرداز گروہ کے لیے مددگار بن گئی۔ یہ بات تنہا میں ہی نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ اس سے پہلے بہت سے محققین یہی کچھ کہہ چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ساتویں صدی کے شافعی فقیہ و محدث حافظ محب الدین الطبری حضرت عثمانؓ کی شہادت کے اسباب بیان کرتے ہوئے حضرت سعید بن المسیب کا یہ قول نقل کرتے ہیں:

<<لما ولی عثمان کره ولایته نفر من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لان عثمان كان يحب قومه ـ فولى اثنتى عشرة حجة، وكان كثيرا ما يولى بنى امية ممن لم يكن له صحبة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان يجئ من امراءه ما يكره اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان يستغاث عليهم فلا يغيثهم، فلما كان فى الستة الحجج الاخر استاثر بنى عمه فولاهم وامرهم ......>>[الریاض النضرة فی مناقب العشره، ج ۲، ص ۱۲۴]

”جب حضرت عثمانؓ حکمران ہوئے تو ان کے برسراقتدار آنے کو صحابہ میں سے بعض لوگوں نے اس بنا پر ناپسند کیا کہ وہ اپنے قبیلے سے بہت محبت رکھتے تھے۔ ۱۲ سال آپ حکمران رہے اور بارہا آپ نے بنی امیہ میں سے ایسے لوگوں کو حکومت کے مناصب پر مقرر فرمایا جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نہ پائی تھی۔ آپ کے امراء سے ایسے کام صادر ہوتے تھے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پسند نہ کرتے تھے۔ آپ سے ان کی شکایت کی جاتی، مگر آپ ان شکایات کو دور نہ فرماتے۔ اپنی حکومت کے آخری ۶ سالوں میں آپ نے اپنے بنی عم کو خاص ترجیح دی اور انھیں حکومت و امارت کے مناصب پر مقرر فرمایا......“

حافظ ابن حجر بھی اسباب شہادت عثمان رضی اللہ عنہ پر کلام کرتے ہوئے یہی بات کہتے ہیں:

<<وکان سبب قتله ان امراء الامصار کانوا من اقاربه، كان بالشام كلها معاويه، وبالبصرة سعيد بن العاص، وبمصر عبدالله بن سعد بن ابى سرح، وبخراستان عبدالله بن عامر، وكان من حج منهم يشكو من اميره وكان عثمان لين العريكة، كثير الاحسان والحلم، وكان يستبدل ببعض امراءه فيرضيهم ثم يعيده بعد ......>>[ الاصابة في تميز الصحابہ، ج ۲، ص ۴۵۵-۴۵۶۔]

”ان کے قتل کا سبب یہ ہوا کہ بڑے بڑے علاقوں کے حکام ان کے اقارب میں سے تھے۔ پورا شام حضرت معاویہؓ کے ماتحت تھا، بصرے پر سعید بن العاص تھے، مصر پر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھے، خراسان پر عبداللہ بن عامر تھے۔ ان علاقوں کے لوگوں میں سے جو لوگ حج پر آتے وہ اپنے امیر کی شکایت کرتے ، مگر حضرت عثمانؓ نرم مزاج ، کثیر الاحسان اور حلیم الطبع آدمی تھے۔ اپنے بعض امراء کو تبدیل کر کے لوگوں کو راضی کر دیتے اور پھر انھیں دوبارہ مقرر کر دیتے تھے۔“

مولانا انور شاہ صاحب فرماتے ہیں:

<<ثم ان سبب تهيج هذه الفتن ان امير المؤمنين عثمان رضى الله عنه كان يستعمل اقاربه وكان بعضهم لا يحسنون العمل، فقدح الناس فيهم و بلغوا امرهم الى عثمان رضى الله عنه فلم يصدقهم و ظن انهم يغرون باقاربه بلا سبب ولعلهم لا يطيب بانفسهم تولية اقاربه فيشون بهم... ثم ان عثمان وان لم يعزل اقاربه من اجل شكايات الناس لكنه لم يحمهم ايضا>>[ فیض الباری ، ج ۲ ، ص ۲۲۲ ، مجلس علمی ڈابھیل ، طبع اول، ۱۹۳۸ء ۔]

”پھر ان فتنوں کے بھڑ کنے کا سبب یہ ہوا کہ امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اپنے رشتہ داروں کو مناصب حکومت پر مقرر کرتے تھے اور ان میں سے بعض کا طرز عمل اچھا نہ تھا، اس پر لوگ معترض ہوئے اور ان کی شکایات لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچائیں، مگر حضرت نے ان کو سچ نہ سمجھا اور خیال کیا کہ یہ لوگ میرے رشتہ داروں سے خواہ مخواہ جلتے ہیں اور شاید انھیں میرے رشتہ داروں کا مناصب پر مقرر کیا جانا ناگوار ہے اس لیے یہ ان کی شکایتیں کرتے ہیں ..... پھر یہ بات بھی ہے کہ حضرت عثمانؓ نے اگرچہ اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی شکایتوں پر معزول نہیں کیا مگر آپ نے ان کی حمایت بھی نہیں کی۔“