خلافت و ملوکیت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔
کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔
کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔
تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
- خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
- تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
- فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
- مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟
اقرباء کے معاملے میں حضرت عثمانؓ کے طرزِ عمل کی تشریح
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اقرباء کے معاملے میں جو طرز عمل اختیار فرمایا اس کے متعلق میرے وہم و گمان میں بھی کبھی یہ شبہ نہیں آیا کہ معاذ اللہ، وہ کسی بد نیتی پر مبنی تھا۔ ایمان لانے کے وقت سے ان کی شہادت تک ان کی پوری زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص ترین اور محبوب ترین صحابیوں میں سے تھے۔ دین حق کے لیے ان کی قربانیاں، ان کے نہایت پاکیزہ اخلاق، اور ان کے تقویٰ و طہارت کو دیکھ کر آخر کون صاحب عقل آدمی یہ گمان کر سکتا ہے کہ اس سیرت و کردار کا انسان بد نیتی کے ساتھ وہ طرز عمل اختیار کر سکتا ہے جس کو آج کل کی سیاسی اصطلاح میں خویش نوازی (nepotism) کہا جاتا ہے۔ دراصل ان کے اس طرز عمل کی بنیاد وہی تھی جو انھوں نے خود بیان فرمائی ہے کہ وہ اسے صلہ رحمی کا تقاضا سمجھتے تھے۔ [كنز العمال، ج ۵، حدیث نمبر ۲۳۲۴۔ طبقات ابن سعد، ج ۳، ص ۶۴۔] ان کا خیال یہ تھا کہ قرآن وسنت میں جس صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے اس کا تقاضا اسی طرح پورا ہو سکتا ہے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ جو بھلائی کرنا بھی آدمی کے اختیار میں ہو وہ اس سے دریغ نہ کرے۔ یہ نیت کی غلطی نہیں بلکہ رائے کی غلطی، یا بالفاظ دیگر اجتہادی غلطی تھی۔ نیت کی غلطی وہ اس وقت ہوتی جب کہ وہ اس کام کو ناجائز جانتے اور پھر محض اپنے مفاد یا اپنے اقرباء کے مفاد کے لیے اس کا ارتکاب کرتے۔ لیکن اسے اجتہادی غلطی کہنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے، کیونکہ صلہ رحمی کے حکم کا تعلق ان کی ذات سے تھا نہ کہ ان کے منصب خلافت سے۔ انھوں نے زندگی بھر اپنی ذات سے اپنے اقرباء کے ساتھ جو فیاضانہ حُسنِ سلوک کیا وہ بلاشبہ صلہ رحمی کا بہترین نمونہ تھا۔ انھوں نے اپنی تمام جائداد اور ساری دولت اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دی اور خود اپنی اولاد کو ان کے برابر رکھا۔ اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ مگر صلہ رحمی کا کوئی حکم خلافت کے عہدے سے تعلق نہ رکھتا تھا کہ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے بھی اپنے اقرباء کو فائدہ پہنچانا اس حکم کا صحیح تقاضا ہوتا۔
صلۂ رحمی کے شرعی احکام کی تاویل کرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بحیثیت خلیفہ اپنے اقرباء کے ساتھ جو سلوک کیا اس کے کسی جز کو بھی شرعاً ناجائز نہیں کہا جا سکتا۔ ظاہر ہے کہ شریعت میں ایسا کوئی حکم نہیں ہے کہ خلیفہ کسی ایسے شخص کو کوئی عہدہ نہ دے جو اس کے خاندان یا برادری سے تعلق رکھتا ہو۔ نہ خمس کی تقسیم یا بیت المال سے امداد دینے کے معاملے میں کوئی ایسا ضابطہ شرعی موجود تھا جس کی انھوں نے کوئی خلاف ورزی کی ہو۔ اس سلسلے میں حضرت عمرؓ کی جس وصیت کا میں نے ذکر کیا ہے وہ بھی کوئی شریعت نہ تھی جس کی پابندی حضرت عثمانؓ پر لازم اور خلاف ورزی ناجائز ہوتی۔ اس لیے ان پر یہ الزام ہرگز نہیں لگایا جا سکتا کہ انھوں نے اس معاملے میں حد جواز سے کوئی تجاوز کیا تھا۔ لیکن کیا اس کا بھی انکار کیا جا سکتا ہے کہ تدبیر کے لحاظ سے صحیح ترین پالیسی وہی تھی جو حضرت ابوبکرؓ وعمرؓ نے اپنے اقرباء کے معاملے میں اختیار فرمائی اور جس کی وصیت حضرت عمرؓ نے اپنے تمام امکانی جانشینوں کو کی تھی؟ اور کیا اس بات کو ماننے میں بھی تامل کیا جا سکتا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے ہٹ کر جو پالیسی اختیار کی وہ بلحاظ تدبیر نا مناسب بھی تھی اور عملاً سخت نقصان دہ بھی ثابت ہوئی؟ بلاشبہ حضرت والا کو ان نقصانات کا اندازہ نہیں تھا جو بعد میں اس سے ہوئے، اور یہ تو کوئی احمق ہی خیال کر سکتا ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا اس ارادے سے کیا کہ یہ نتائج اس سے برآمد ہوں۔ لیکن تدبیر کی غلطی کو بہر حال غلطی ماننا پڑے گا۔ کسی تاویل سے بھی اس بات کو صحیح نہیں ٹھیرایا جا سکتا کہ ریاست کا سربراہ اپنے ہی خاندان کے ایک فرد کو حکومت کا چیف سکرٹری بنا دے، [دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس زمانے میں موجودہ زمانے کے تصور کے مطابق نہ کوئی دفتر خلافت تھا، نہ اس کا کوئی عملہ تھا، نہ اس کا کوئی سکرٹری یا چیف سکرٹری تھا۔ اس وقت تو بس خلیفہ کسی شخص سے معمولی خط و کتابت کا کام لے لیا کرتا تھا۔ اس طرح ہمارے سامنے خلافت راشدہ کے دور کا یہ عجیب نقشہ پیش کیا جاتا ہے کہ جو سلطنت افغانستان اور ترکستان سے لے کر شمالی افریقہ تک پھیلی ہوئی تھی وہ کسی مرکزی نظم کے بغیر چلائی جا رہی تھی۔ مملکت کے چپے چپے سے رپورٹیں آتی تھیں، مگر ان کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔ گوشے گوشے میں جزیہ، خراج، زکوٰۃ، غنائم اور خمس وغیرہ کے بے شمار مالی معاملات ہو رہے تھے، مگر کسی چیز کا کوئی حساب نہ تھا۔ گورنروں اور فوجی کمانڈروں کو آئے دن ہدایات بھیجی جاتی تھیں، مگر ان تمام چیزوں کا ریکارڈ بس ایک شخص کے دماغ میں رہتا تھا اور وہ حسب ضرورت کسی شخص کو بلا کر اس سے معمولی خط و کتابت کا کام لے لیا کرتا تھا۔ گویا یہ اپنے وقت کی سب سے بڑی سلطنت کا نظام نہیں بلکہ پندرہ بیس طالب علموں کا کوئی مدرسہ تھا جسے کوئی مولوی صاحب بیٹھے چلا رہے تھے۔] اور جزیرۃ العرب سے باہر کے تمام اسلامی مقبوضات پر اپنے ہی خاندان کے گورنر مقرر کر دے۔ واضح رہے کہ اس زمانے کے نظم و نسق کی رو سے افریقہ کے تمام مفتوحہ علاقے مصر کے گورنر کے ماتحت، شام کا پورا علاقہ دمشق کے گورنر کے ماتحت، اور عراق، آذربائیجان، آرمینیہ، اور خراسان و فارس کے تمام علاقے کوفہ و بصرہ کے گورنروں کے ماتحت تھے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک وقت ایسا آیا کہ ان تمام صوبوں کے گورنر (بلکہ درحقیقت گورنر جنرل) انہی کے رشتہ دار تھے۔ یہ نا قابل انکار تاریخی واقعات ہیں، جنھیں واقعے کی حد تک موافق و مخالف سب نے مانا ہے اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا ہے کہ واقعتاً ایسا نہیں ہوا تھا۔
اس تدبیر کو صحیح ثابت کرنے کے لیے بہت سے بزرگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ اپنے خاندان کے جن لوگوں کو حضرت عثمانؓ نے عہدے دیے تھے ان میں سے اکثر حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی عہدے پا چکے تھے ۔ مگر یہ بڑا کمزور استدلال ہے۔ اوّل تو یہ لوگ حضرت عمرؓ کے نہیں بلکہ حضرت عثمانؓ کے اقارب تھے۔ اور یہ چیز کسی کے لیے بھی اعتراض کی موجب نہ ہو سکتی تھی۔ اعتراض کی گنجائش تو لوگوں کو اس وقت ملتی ہے جب سربراہ مملکت خود اپنے اقرباء کو بڑے بڑے عہدے دینے لگے۔ دوسرے ، حضرت عمرؓ کے زمانے میں ان لوگوں کو اتنے بڑے عہدے کبھی نہیں دیے گئے تھے جو بعد میں ان کو دے دیے گئے ۔ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ان کے زمانے میں مصر کے صرف ایک فوجی افسر تھے اور بعد میں صعید مصر کے عامل بنا دیے گئے تھے۔ حضرت معاویہؓ صرف دمشق کے علاقے کے گورنر تھے ۔ [صرف دمشق سے مراد شہر دمشق نہیں بلکہ شام کا وہ علاقہ ہے جس کا دارالحکومت دمشق تھا۔ طبری نے تصریح کی ہے کہ حضرت عمرؓ کی وفات کے وقت حضرت معاویہؓ دمشق اور اردن کے گورنر تھے (جلد ۳، ص ۳۳۹)۔ حافظ ابن کثیر کہتے ہیں: <<والصواب ان الذى جمع لمعاوية الشام كلها عثمان بن عفان ، و اما عمر فانه انما ولاه بعض اعمالها>> (البدایہ، ج ۸، ص ۱۲۴)] ولید بن عقبہ صرف الجزیرہ کے عرب علاقے میں جہاں بنی تغلب رہتے تھے، عامل مقرر کیے گئے تھے۔ سعید بن العاص اور عبداللہ بن عامر بھی چھوٹے چھوٹے عہدوں پر رہے تھے۔ یہ صورت ان کے زمانے میں کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی کہ جزیرۃ العرب کے باہر کے تمام اسلامی مقبوضات ایک ہی برادری کے گورنروں کے ماتحت ہوں اور وہ برادری بھی خلیفہ وقت کی اپنی برادری ہو۔ [بعض حضرات اس مقام پر یہ استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو قریش کے لوگوں کو بڑے بڑے مناصب پر مقرر فرمایا تھا حتیٰ کہ خلافت کے معاملے میں آپ نے انہی کو دوسروں پر ترجیح دی۔ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اس لیے ترجیح نہیں دی تھی کہ وہ آپ کا اپنا قبیلہ تھا بلکہ ترجیح کی وجہ آپ نے خود یہ بیان فرمائی تھی کہ عرب میں قبیلہ حمیر کی سیادت ختم ہونے کے بعد قریش کی سیادت قائم ہو چکی تھی، اب نیکی اور بدی دونوں میں ایک مدت سے وہی عرب کے لیڈر تھے، اور اہل عرب انھی کی قیادت مان رہے تھے۔ اس لیے انھی کو آگے رکھنا چاہیے، کیونکہ ان کے مقابلے میں دوسروں کی قیادت نہیں چل سکتی۔ اس مسئلے میں حضورؐ کے ارشادات تفصیل کے ساتھ میں اپنی کتاب رسائل و مسائل ، حصہ اوّل (ص ۶۴ تا ۶۹) اور تفہیمات، حصہ سوم (ص ۱۳۹ تا ۱۴۲) میں نقل کر چکا ہوں۔ اگر قرابت کی بنیاد پر آپ کسی کو آگے بڑھانے والے ہوتے تو سب سے زیادہ بنی ہاشم کو آگے بڑھاتے، لیکن ان میں سے صرف حضرت علیؓ کو آپ نے وقتاً فوقتاً بعض مناصب پر مقرر فرمایا، حالانکہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ بنی ہاشم میں لائق آدمی ناپید تھے۔]
یہ بات بھی ناقابل انکار ہے کہ وہ بیش تر لوگ جن کو حضرت عثمانؓ کے آخری عہد میں اتنی بڑی اہمیت حاصل ہوئی، فتح مکہ کے بعد ایمان لائے تھے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و تربیت سے فائدہ اٹھانے کا کم موقع ملا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ حضورؐ کی بھی یہ پالیسی نہ تھی اور آپؐ کے بعد حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی اس پر عامل نہیں ہوئے کہ ان لوگوں کا مقاطعہ کیا جائے ، یا انھیں اسلامی ریاست میں کام کرنے کے ہر موقع سے الگ رکھا جائے ۔ حضورؐ نے اور آپؐ کے بعد شیخین نے ان کی تالیف قلب اور ان کی تربیت کر کے ان کو معاشرے میں اچھی طرح جذب کرنے کی کوشش فرمائی تھی اور ان سے ان کی استعداد کے مطابق کام بھی آپ اور دونوں خلفاء لیتے رہے۔ مگر یہ پالیسی نہ حضورؐ کی تھی اور نہ شیخین کی کہ سابقین اولین کے بجائے اب ان لوگوں کو آگے بڑھایا جائے اور مسلم معاشرے اور ریاست کی رہنمائی و کارفرمائی کے مقام پر یہ فائز ہوں۔ حضورؐ اور شیخین کے زمانے میں اول تو یہ ایک مضبوط ڈسپلن میں کسے ہوئے تھے جن میں کوئی ڈھیل نہ تھی۔ پھر یہ بھی نہ ہوا تھا کہ ان کو بیک وقت مملکت کے اہم ترین کلیدی مناصب دے کر توازن بگاڑ دیا گیا ہوتا۔ اور مزید برآں فرماں روائے وقت کی قرابت بھی ان کے لیے کسی ڈھیل کی موجب نہ ہو سکتی تھی۔ اس لیے اس زمانے میں ان کا استعمال کیا جانا ان خرابیوں کا باعث نہ بنا جو بعد میں ان کے سے ظاہر ہو گئیں۔ بعد کے واقعات سے، جب کہ بنی امیہ کے ہاتھ میں پورا اقتدار آیا، یہ بات عملاً ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ چاہے غیر دینی سیاست کے ماہر اور انتظامی اور فوجی لحاظ سے بہترین قابلیتوں کے مالک ہوں، لیکن امت مسلمہ کی اخلاقی قیادت اور دینی سربراہی کے لیے موزوں نہ تھے۔ یہ حقیقت تاریخ میں اتنی نمایاں ہے کہ کوئی وکالت صفائی اس پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
حضرت معاویہؓ کو مسلسل ۱۶-۱۷ سال ایک ہی صوبے کا گورنر رہنے دینا بھی شرعاً ناجائز نہ تھا، مگر سیاسی تدبیر کے لحاظ سے نامناسب ضرور تھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ خواہ مخواہ کسی قصور کے بغیر ان کو معزول ہی کر دیا جاتا۔ صرف یہ بات کافی تھی کہ ہر چند سال کے بعد ان کا تبادلہ ایک صوبے سے دوسرے صوبے کی گورنری پر کیا جاتا رہتا۔ اس صورت میں وہ کسی ایک صوبے میں بھی اتنے طاقت ور نہ ہو سکتے تھے کہ کسی وقت مرکز کے مقابلے میں تلوار لے کر اٹھ کھڑا ہونا ان کے لیے ممکن ہوتا۔