مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

مختصر حالاتِ زندگی

امام کا اسم گرامی نعمان بن ثابت تھا۔ عراق کے دارالحکومت کوفہ میں ان کی پیدائش معتبر روایات کے مطابق ۸۰ھ (۶۹۹ء) میں ہوئی۔ عبدالملک بن مروان اس وقت اموی خلیفہ تھا اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر۔ انھوں نے اپنی زندگی کے ۵۲ سال بنی امیہ کے عہد میں اور ۱۸ سال بنی عباس کے عہد میں گزارے۔ حجاج بن یوسف کی موت کے وقت وہ ۱۵ سال کے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں وہ جوان تھے۔ یزید بن المہلب، خالد بن عبداللہ القسری اور نصر بن سیار کی ولایت عراق کے طوفانی عہد اُن کی آنکھوں کے سامنے گزرے۔ ابن ہبیرہ آخری اموی گورنر کے ظلم و ستم کا وہ خود نشانہ بنے۔ پھر ان کے سامنے ہی عباسی دعوت اٹھی۔ اس کا مرکز ان کا اپنا شہر کوفہ تھا، اور بغداد کی تعمیر سے پہلے تک کوفے ہی کو عملاً نوخیز دولت عباسیہ کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی۔ خلیفہ المنصور کے عہد میں ۱۵۰ھ (۷۶۷ء) میں اُنھوں نے وفات پائی۔

ان کا خاندان ابتدائً کابل میں آباد تھا۔ ان کے دادا، جن کا نام بعض نے زُوطیٰ اور بعض نے زُوَطیٰ لکھا ہے، جنگ میں گرفتار ہو کر کوفہ آئے اور مسلمان ہو کر یہیں بنی تیم اللہ کی ولاء (patronage) میں رہ پڑے۔ ان کا پیشہ تجارت تھا۔ حضرت علیؓ سے ان کی ملاقات تھی اور اس حد تک تعلقات تھے کہ وہ کبھی کبھی ان کی خدمت میں ہدیے بھیجتے رہتے تھے۔ [الکردری، مناقب الامام الاعظم، ج ۱، ص ۶۵-۶۶ ، طبع اول ۱۳۲۱ھ، دائرۃ المعارف، حیدرآباد۔] ان کے بیٹے ثابت (امام ابوحنیفہ کے والد) بھی کوفے میں تجارت کرتے تھے۔ امام کی اپنی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کوفے میں ان کی روٹیوں کی دکان (bakery) تھی۔ [المکی، الموفق بن احمد، مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ، ج ۱، ص ۱۶۲ ، طبع اول ۱۳۲۱ھ، دائرۃ المعارف، حیدرآباد۔]

امام کی تعلیم کے متعلق ان کا اپنا بیان یہ ہے کہ ابتدائً انھوں نے قراءت، حدیث، نحو، ادب، شعر، کلام وغیرہ تمام ان علوم کا مطالعہ کیا تھا جو اس زمانے میں متداول تھے۔ [المکی، ج ۱، ص ۵۷-۵۸۔] اس کے بعد انھوں نے علم کلام میں اختصاص پیدا کیا اور ایک مُدت اس میں مشغول رہ کر اس مرتبے تک ترقی کر گئے کہ اس فن میں ان کی طرف نگاہیں اُٹھنے لگیں۔ ان کے مشہور شاگرد زفر بن الہذیل کی روایت ہے کہ امام نے ان سے کہا ”پہلے میں علم کلام سے دلچسپی رکھتا تھا، اور اس حد کو پہنچ گیا تھا کہ میری طرف اشارہ کیے جاتے تھے۔“ [المکی، ج ۱، ص ۵۵-۵۹۔] اور ایک روایت میں امام خود فرماتے ہیں:

”میں ایک ایسا شخص تھا جسے علم کلام کی بحثوں میں مہارت حاصل تھی۔ زمانہ ایسا گزرا کہ میں انہی بحثوں اور مناظروں میں مشغول رہتا تھا۔ اور چونکہ اختلافات کا اکھاڑہ زیادہ تر بصرے میں تھا اس لیے میں تقریباً ۲۰ مرتبہ وہاں گیا اور کبھی کبھی سال چھ مہینے بھی وہاں رہ کر خوارج کے مختلف گروہوں اباضیہ، صفریہ وغیرہ سے اور حشویہ کے مختلف طبقوں سے مناظرے کرتا رہا۔“ [المکی ، ج 1 ، ص ۵۹۔]

اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ امام نے اس وقت کے فلسفہ و منطق اور اختلافات مذاہب کے متعلق بھی ضرور کافی واقفیت بہم پہنچائی ہوگی، کیونکہ اس کے بغیر علم کلام میں آدمی دخل نہیں دے سکتا۔ بعد میں انھوں نے قانون میں منطقی استدلال اور عقل کے استعمال کا جو کمال دکھایا اور بڑے بڑے پیچیدہ مسائل کو حل کرنے میں جو شہرت حاصل کی وہ اسی ابتدائی ذہنی تربیت کا نتیجہ تھی۔

کافی مدت تک اس میں مشغول رہنے کے بعد کلامی جھگڑوں اور مجادلوں سے ان کا دل بیزار ہو گیا اور انھوں نے فقہ (اسلامی قانون) کی طرف توجہ کی۔ یہاں طبعاً ان کی دلچسپی اہل الحدیث کے مدرسہ فکر سے نہ ہو سکتی تھی۔ عراق کے اصحاب الرائے کا مرکز اس وقت کوفہ تھا۔ اسی سے وہ وابستہ ہو گئے۔ اس مدرسہ فکر کی ابتدا حضرت علیؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ (متوفی ۳۲ھ - ۶۵۲ء) سے ہوئی تھی۔ ان کے بعد ان کے شاگرد شریح (م ۷۸ھ- ۶۹۷ء)، علقمہ (م ۶۲ھ- ۶۸۱ء) اور مسروق (م ۶۳ھ- ۶۸۲ء) اس مدرسے کے نامور ائمہ ہوئے جن کا شہرہ اس وقت تمام دنیائے اسلام میں تھا۔ پھر ابراہیم نخعی (م ۹۵ھ- ۷۱۳ء) اور ان کے بعد حماد تک اس کی امامت پہنچی۔ انہی حماد کی شاگردی ابو حنیفہؒ نے اختیار کی اور ان کی وفات تک پورے ۱۸ سال ان کی صحبت میں رہے۔ مگر انھوں نے صرف اسی علم پر اکتفا نہ کیا جو کوفہ میں ان کے اساتذہ کے پاس تھا، بلکہ بار بار حج کے موقع پر حجاز جا کر وہ فقہ اور حدیث کے دوسرے اکابر اہل علم سے بھی استفادہ کرتے رہے۔

۱۲۰ھ میں جب ان کے استاذ حماد کا انتقال ہوا تو اس مدرسہ فکر کے لوگوں نے بالاتفاق امام ابوحنیفہؒ کو ان کا جانشین بنایا اور اس مسند پر ۳۰ سال تک درس و تدریس اور افتاء کا وہ لافانی کام انھوں نے انجام دیا جو آج مذہب حنفی کی بنیاد ہے۔ اس ۳۰ سال کی مدت میں انھوں نے بقول بعض ۶۰ ہزار اور بقول بعض ۸۳ ہزار قانونی مسائل کے جوابات دیے جو ان کی زندگی ہی میں الگ الگ عنوانات کے تحت مرتب کر دیے گئے۔ [المکی، ج ۱، ص ۹۶، ج ۲، ص ۱۳۲ - ۱۳۶۔] سات آٹھ سو کی تعداد میں ایسے شاگرد تیار کیے جو دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر درس و افتاء کے مسند نشین اور عوام کی عقیدتوں کے مرکز بن گئے۔ ان کے شاگردوں میں سے ۵۰ کے قریب ایسے آدمی نکلے جو ان کے بعد سلطنت عباسیہ کے قاضی ہوئے۔ ان کا مذہب اسلامی دنیا کے بہت بڑے حصے کا قانون بن گیا۔ وہی عباسی، سلجوقی، عثمانی اور مغل سلطنتوں کا قانون تھا اور آج چین سے لے کر ترکی تک کے کروڑوں مسلمان اسی کی پیروی کرتے ہیں۔

معاش کے لیے امام نے اپنا آبائی پیشہ تجارت اختیار کیا۔ کوفہ میں وہ خز (ایک خاص قسم کے کپڑے) کی تجارت کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اس پیشے میں بھی غیر معمولی ترقی کی۔ ان کا اپنا ایک بڑا کارخانہ تھا جس میں خز تیار کیا جاتا تھا۔ [اليافعي، مرآة الجنان وعبرة اليقطان، ج ۱، ص ۳۱۰، طبع اول ۱۳۳۷ھ، دائرۃ المعارف، حیدر آباد۔] ان کی تجارتی کوٹھی صرف کوفے ہی میں کپڑا فروخت نہیں کرتی تھی بلکہ اس کا مال دور دراز علاقوں میں بھی جاتا تھا۔ پھر ان کی دیانت پر عام اعتماد جب بڑھا تو یہ کوٹھی عملاً ایک بینک بھی بن گئی جس میں لوگ کروڑوں روپیہ امانت رکھواتے تھے۔ ان کی وفات کے وقت ۵ کروڑ درہم کی امانتیں اس کوٹھی میں جمع تھیں۔ [المکی ، ج ۱، ص ۲۲۰۔] مالی و تجارتی معاملات کے متعلق اس وسیع تجربے نے ان کے اندر قانون کے بہت سے شعبوں میں وہ بصیرت پیدا کر دی تھی جو صرف علمی حیثیت سے قانون جاننے والوں کو نصیب نہیں ہوتی۔ فقہ اسلامی کی تدوین میں اس تجربے نے ان کو بڑی مدد دی۔ اس کے علاوہ دنیوی معاملات میں ان کی فراست و مہارت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ جب ۳۵ھ (۶۶۴ء) میں المنصور نے بغداد کی تعمیر کا آغاز کیا تو ابو حنیفہ ہی کو اس کی نگرانی پر مقرر کیا اور چار سال تک وہ اس کام کے نگرانِ اعلیٰ رہے۔ [الطبری، ج ۶، ص ۲۳۸ - ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج ۱۰، ص ۹۷]

وہ اپنی شخصی زندگی میں انتہائی پرہیز گار اور دیانت دار آدمی تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے اپنے شریک کو مال بیچنے کے لیے باہر بھیجا۔ اس مال میں ایک حصہ عیب دار تھا۔ امام نے شریک کو ہدایت کی کہ جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے عیب سے آگاہ کر دے۔ مگر وہ اس بات کو بھول گیا اور سارا مال عیب ظاہر کیے بغیر فروخت کر آیا۔ امام نے اس پورے مال کی وصول شدہ قیمت (جو ۳۵ ہزار درہم تھی) خیرات کر دی۔ [الخطيب، تاریخ بغداد، ج ۱۳، ص ۳۵۸۔ ملا علی قاری، ذیل الجواہر المضیه، ص ۴۸۸، المعارف، حیدر، طبع اول ۱۳۳۲ھ] مؤرخین نے متعدد واقعات ایسے بھی نقل کیے ہیں کہ ناتجربہ کار لوگ اگر اپنا مال فروخت کرنے کے لیے ان کی دکان پر آتے اور مال کی قیمت کم بتاتے تو امام خود ان سے کہتے تھے کہ تمھارا مال زیادہ قیمتی ہے، اور ان کو صحیح قیمت ادا کرتے تھے۔ [دائرة المکی، ج ۱، ص ۲۱۹ - ۲۲۰] ان کے ہم عصر ان کی پرہیز گاری کی تعریف میں غیر معمولی طور پر رطب اللسان ہیں۔ مشہور امام حدیث عبداللہ بن المبارک کا قول ہے: ”میں نے ابو حنیفہ سے زیادہ پرہیز گار آدمی نہیں دیکھا۔ اس شخص کے متعلق کیا کہا جائے گا جس کے سامنے دنیا اور اس کی دولت پیش کی گئی اور اس نے ٹھکرا دیا، کوڑوں سے اس کو پیٹا گیا اور وہ ثابت قدم رہا، اور وہ مناصب جن کے پیچھے لوگ دوڑتے پھرتے ہیں کبھی قبول نہ کیے۔“ [الذہبی، مناقب الامام ابی حنیفہ وصاحبیہ ، ص ۱۱۵، دار الکتب العربی، مصر، ۱۳۶۶ ھ۔] قاضی ابن شبرصمہ کہتے ہیں: ”دنیا ان کے پیچھے لگی مگر وہ اس سے بھاگے، اور ہم سے وہ بھاگی مگر ہم اس کے پیچھے لگے۔“ [الراغب الاصفہانی ، محاضرات الادباء ، ص ۲۰۶، مطبعۃ الہلال،مصر، ۱۹۰۲ء]حسن بن زیاد کہتے ہیں: ”خدا کی قسم! ابو حنیفہؒ نے کبھی کسی امیر کا عطیہ یا ہدیہ قبول نہیں کیا۔“ [الذہبی ، ص ۲۶]ہارون الرشید نے ایک دفعہ امام ابو یوسف سے ابو حنیفہؒ کی صفت پوچھی۔ انھوں نے کہا:

”بخدا! وہ اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے سخت پرہیز کرنے والے، اہل دنیا سے مجتنب اور اکثر خاموش رہنے والے آدمی تھے۔ ہمیشہ غور وفکر میں لگے رہتے اور فضول باتیں کبھی نہ کرتے۔ اگر کوئی مسئلہ ان سے پوچھا جاتا اور ان کے پاس اس کے متعلق کوئی علم ہوتا تو جواب دے دیتے۔ امیر المومنین! میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ وہ اپنے نفس اور دین کو برائیوں سے بچاتے تھے اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اپنے آپ سے مشغول رہتے تھے۔ وہ کبھی کسی کا ذکر برائی کے ساتھ نہ کرتے تھے۔“[الذہبی ، ص ۹-]

وہ ایک نہایت فیاض آدمی تھے۔ خصوصاً اہل علم پر اور طلبہ پر اپنا مال بڑی دریا دلی سے خرچ کرتے تھے۔ انھوں نے اپنے تجارتی منافع کا ایک خاص حصہ اس مقصد کے لیے الگ کر رکھا تھا جس سے سال بھر تک علماء اور طلبہ کو باقاعدہ مالی اعانتیں دیتے رہتے اور آخر میں جو کچھ بچتا وہ بھی میں تقسیم کر دیتے۔ وہ ان کو مال دیتے وقت کہا کرتے: ”آپ لوگ اسے اپنی ضروریات پر خرچ کریں اور اللہ کے سوا کسی کے شکر گزار نہ ہوں۔ میں نے آپ کو اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا ہے، یہ اللہ کا فضل ہے جو آپ ہی لوگوں کے لیے اس نے مجھ کو بخشا ہے۔“[الخطيب، ج ۱۳، ص ۲۶۰ - المکی، ج ۱، ص ۲۶۲] ان کے شاگردوں میں ایک کثیر تعداد ایسی تھی جن کے مصارف کی کفالت وہ خود کرتے تھے، اور امام ابو یوسفؒ کے تو گھر کا پورا خرچ ہی انھوں نے اپنے ذمے لے رکھا تھا، کیونکہ ان کے والدین غریب تھے اور وہ اپنے لڑکے کی تعلیم چھڑا کر اسے کسی معاشی کام میں لگانا چاہتے تھے۔[ابن خلکان، ج ۵، ص ۲۳ - ۴۲۲ المکی ، ج ۲، ص ۲۱۲ ]

اس سیرت اور شخصیت کا تھا وہ شخص جس نے دوسری صدی ہجری کے نصف اوّل میں قریب قریب ان تمام اہم مسائل سے تعرض کیا جو خلافت راشدہ کے بعد پیش آنے والے حالات میں پیدا ہوئے تھے۔