خلافت و ملوکیت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔
کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔
کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔
تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
- خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
- تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
- فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
- مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟
قانونِ اسلامی کی تدوین
لیکن امام ابو حنیفہؒ کا سب سے بڑا کارنامہ جس نے انھیں اسلامی تاریخ میں لازوال عظمت عطا کی، یہ تھا کہ انھوں نے اس عظیم خلا کو اپنے بل بوتے پر بھر دیا جو خلافت راشدہ کے بعد شورٰی کا سدباب ہو جانے سے اسلام کے قانونی نظام میں واقع ہو چکا تھا۔ ہم اس کے اثرات و نتائج کی طرف پہلے اشارہ کر چکے ہیں۔ ایک صدی کے قریب اس حالت پر گزر جانے سے جو نقصان رونما ہو رہا تھا اسے ہر صاحب فکر آدمی محسوس کر رہا تھا۔ ایک طرف مسلم ریاست کے حدود سندھ سے اسپین تک پھیل چکے تھے۔ بیسیوں قومیں اپنے الگ الگ تمدن، رسم و رواج اور حالات کے ساتھ اس میں شامل ہو چکی تھیں۔ اندرون ملک مالیات کے مسائل، تجارت اور زراعت اور صنعت و حرفت کے مسائل، شادی بیاہ کے مسائل، دستوری اور دیوانی اور فوج داری قوانین و ضوابط کے مسائل روز بروز سامنے آ رہے تھے۔ بیرون ملک دنیا بھر کی قوموں سے اس عظیم ترین سلطنت کے تعلقات تھے اور ان میں جنگ، صلح، سفارتی روابط، تجارتی لین دین، بحری و بری مسافرت، کسٹم وغیرہ کے مسائل پیدا ہو رہے تھے۔ اور مسلمان چونکہ اپنا ایک مستقل نظریہ، اصول حیات اور بنیادی قانون رکھتے تھے، اس لیے ناگزیر تھا کہ وہ اپنے ہی نظام قانون کے تحت ان بے شمار نت نئے مسائل کو حل کریں۔ غرض ایک طرف وقت کا زبردست چیلنج تھا جس سے اسلام کو سابقہ در پیش تھا، اور دوسری طرف حالت یہ تھی کہ ملوکیت کے دور میں کوئی ایسا مسلم آئینی ادارہ باقی نہ رہا تھا جس میں مسلمانوں کے معتمد علیہ اہل علم اور فقیہہ اور مدبرین بیٹھ کر ان مسائل کو سوچتے اور شریعت کے اصولوں کے مطابق ان کا ایک مستند حل پیش کرتے جو سلطنت کی عدالتوں اور اس کے سرکاری محکموں کے لیے قانون قرار پاتا اور پوری مملکت میں یکسانی کے ساتھ اس پر عمل کیا جاتا۔
اس نقصان کو خلفاء، گورنر، حکام اور قاضی سب محسوس کر رہے تھے، کیونکہ انفرادی اجتہاد اور معلومات کے بل پر روزمرہ پیش آنے والے اتنے مختلف مسائل کو بروقت حل کر لینا ہر مفتی، حاکم، جج اور ناظم محکمہ کے بس کا کام نہ تھا، اور اگر فرداً فرداً انھیں حل کیا بھی جاتا تھا تو اس سے بے شمار متضاد فیصلوں کا ایک جنگل پیدا ہو رہا تھا۔ مگر دشواری یہ تھی کہ ایسا ایک ادارہ حکومت ہی قائم کر سکتی تھی، اور حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھی جو خود جانتے تھے کہ مسلمانوں میں ان کا کوئی اخلاقی وقار و اعتماد نہیں ہے۔ ان کے لیے فقہاء کا سامنا کرنا تو درکنار، ان کو برداشت کرنا بھی مشکل تھا۔ ان کے تحت بنے والے قوانین کسی حالت میں بھی مسلمانوں کے نزدیک اسلامی نظام قانون کا جز نہ بن سکتے تھے۔ ابن المقفع نے اپنے رسالۃ الصحابہ میں اس خلا کو بھرنے کے لیے المنصور کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ خلیفہ اہل علم کی ایک کونسل بنائے جس میں ہر نقطہ نظر کے علماء پیش آمدہ مسائل پر اپنا اپنا علم اور خیال پیش کریں، پھر خلیفہ خود ہر مسئلے پر اپنا فیصلہ دے اور وہی قانون ہو۔ لیکن منصور اپنی حقیقت سے اتنا بے خبر نہ تھا کہ یہ حماقت کرتا۔ اس کے فیصلے ابوبکرؓ اور عمرؓ کے فیصلے نہ بن سکتے تھے۔ اس کے فیصلوں کی عمر خود اس کی اپنی عمر سے زیادہ نہ ہو سکتی تھی۔ بلکہ اس کی زندگی میں بھی یہ توقع نہ تھی کہ پوری مملکت میں کوئی ایک مسلمان ہی ایسا مل جائے گا جو اس کے منظور کیے ہوئے قانون کی مخلصانہ پابندی کرے۔ وہ ایک لادینی (secular) قانون تو ہو سکتا تھا مگر اسلامی قانون کا ایک حصہ ہر گز نہ ہو سکتا تھا۔
اس صورت حال میں امام ابو حنیفہؒ کو ایک بالکل نرالا راستہ سوجھا اور وہ یہ تھا کہ وہ حکومت سے بے نیاز رہ کر خود ایک غیر سرکاری مجلس وضع قانون (private legislature) قائم کریں۔ یہ تجویز ایک انتہائی بدیع الفکر آدمی ہی سوچ سکتا تھا، اور مزید برآں اس کی ہمت صرف وہی شخص کر سکتا تھا جو اپنی قابلیت پر، اپنے کردار پر، اور اپنے اخلاقی وقار پر اتنا اعتماد رکھتا ہو کہ اگر وہ ایسا کوئی ادارہ قائم کر کے قوانین مدوّن کرے گا تو کسی سیاسی قوت نافذہ (political sanction) کے بغیر اس کے مدوّن کردہ قوانین اپنی خوبی، اپنی صحت، اپنی مطابقت احوال، اور اپنے مدوّن کرنے والوں کے اخلاقی اثر کے بل پر خود نافذ ہوں گے، قوم خود ان کو قبول کرے گی اور سلطنتیں آپ سے آپ ان کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گی۔ امام کوئی غیب داں نہ تھے کہ پیشگی ان نتائج کو دیکھ لیتے جو فی الواقع ان کے بعد نصف صدی کے اندر ہی برآمد ہو گئے۔ مگر وہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو جانتے تھے، مسلمانوں کے اجتماعی مزاج سے واقف تھے، اور وقت کے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ انھوں نے ایک کمال درجے کے دانا و دور اندیش انسان کی حیثیت سے بالکل صحیح اندازہ کر لیا کہ وہ اس خلا کو اپنی نجی حیثیت سے بھر سکتے ہیں اور ان کے بھرنے سے یہ خلا واقعی بھر جائے گا۔
اس مجلس کے شرکاء امام کے اپنے شاگرد تھے جن کو سالہا سال تک انھوں نے اپنے مدرسہ قانون میں باقاعدہ قانونی مسائل پر سوچنے، علمی طرز پر تحقیقات کرنے اور دلائل سے نتائج مستنبط کرنے کی تربیت دی تھی۔ ان میں سے قریب قریب ہر شخص امام کے علاوہ وقت کے دوسرے بڑے بڑے اساتذہ سے بھی قرآن، حدیث، فقہ اور دوسرے مددگار علوم، مثلاً لغت، نحو، ادب اور تاریخ و سیر کی تعلیم حاصل کر چکا تھا۔ مختلف شاگرد مختلف علوم کے اختصاصی ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مثلاً کسی کو قیاس و رائے میں نمایاں مقام حاصل تھا، کسی کے پاس احادیث اور صحابہؓ کے فتاویٰ اور پچھلے خلفاء و قضاۃ کے نظائر کی وسیع معلومات تھیں، اور کوئی علم تفسیر، یا قانون کے کسی خاص شعبے، یا لغت اور نحو یا مغازی کے علم میں اختصاص رکھتا تھا۔ ایک دفعہ امام نے خود اپنی ایک گفتگو میں بتایا کہ یہ کسی مرتبے کے لوگ تھے:
”یہ ۳۶ آدمی ہیں جن میں سے ۲۸ قاضی ہونے کے لائق ہیں، ۶ فتویٰ دینے کی اہلیت رکھتے ہیں، اور دو اس درجے کے آدمی ہیں کہ قاضی اور مفتی تیار کر سکتے ہیں۔“[المکی، ج ۲، ص۲۴۶ ]
اس مجلس کا طریق کار جو امام کے معتبر سوانح نگاروں نے لکھا ہے وہ ہم خود انہی کے الفاظ میں یہاں نقل کرتے ہیں۔ الموفق بن احمد المکی (م ۵۶۸ ھ - ۱۱۷۲ء) لکھتا ہے:
”ابو حنیفہؒ نے اپنا مذہب ان کے (یعنی اپنے فاضل شاگردوں کے) مشورے سے مرتب کیا ہے۔ وہ اپنی حد وسع تک دین کی خاطر زیادہ سے زیادہ جاں فشانی کرنے کا جو جذبہ رکھتے تھے اور خدا و رسول خدا اور اہل ایمان کے لیے جو کمال درجے کا اخلاص ان کے دل میں تھا، اس کی وجہ سے انھوں نے شاگردوں کو چھوڑ کر یہ کام محض اپنی انفرادی رائے سے کر ڈالنا پسند نہ کیا۔ وہ ایک ایک مسئلہ ان کے سامنے پیش کرتے تھے، اس کے مختلف پہلو ان کے سامنے لاتے تھے، جو کچھ ان کے پاس علم اور خیال ہوتا اسے سنتے اور اپنی رائے بھی بیان کرتے، حتیٰ کہ بعض اوقات ایک ایک مسئلے پر بحث کرتے ہوئے مہینہ مہینہ بھر اور اس سے بھی زیادہ لگ جاتا تھا۔ آخر جب ایک رائے قرار پا جاتی تو اسے قاضی ابو یوسف کتب اصول میں مثبت کرتے۔‘‘[المکی ، ج ۲، ص ۱۳۳ -]
ابن البزاز الکردری (صاحب فتاویٰ بزازیہ، م ۸۲۷ھ ۔ ۱۴۲۴ء) کا بیان ہے:
”ان کے شاگرد ایک مسئلے پر خوب دل کھول کر بحث کرتے اور ہر فن کے نقطہ نظر سے گفتگو کرتے۔ اس دوران میں امام خاموشی کے ساتھ ان کی تقریریں سنتے رہتے تھے۔ پھر جب امام زیر بحث مسئلے پر اپنی تقریر شروع کرتے تو مجلس میں ایسا سکوت ہوتا جیسے یہاں ان کے سوا کوئی اور نہیں بیٹھا ہے۔‘‘[المکی ، ج ۲، ص ۱۰۸]
عبداللہ بن المبارک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ اس مجلس میں تین دن تک مسلسل ایک مسئلے پر بحث ہوتی رہی۔ تیسرے دن شام کے وقت میں نے جب اللہ اکبر کی آوازیں سنیں تو پتا چلا کہ اس بحث کا فیصلہ ہو گیا۔[الکوری، ج ۲، ص ۵۴]
امام کے ایک اور شاگرد ابو عبداللہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مجلس میں امام ابو حنیفہؒ اپنی جو رائیں ظاہر کرتے تھے انھیں بعد میں وہ پڑھوا کر سُن لیا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے اپنے الفاظ یہ ہیں:
”میں امام کے اقوال ان کو پڑھ کر سناتا تھا۔ ابو یوسف ( مجلس کے فیصلے ثبت کرتے ہوئے) ساتھ ساتھ اپنے اقوال بھی درج کر دیا کرتے تھے۔ اس لیے پڑھتے وقت میں کوشش کرتا تھا کہ ان کے اقوال چھوڑتا جاؤں اور صرف امام کے اپنے اقوال انھیں سناؤں۔ ایک روز میں چوک گیا اور دوسرا قول بھی میں نے پڑھ دیا۔ امام نے پوچھا: یہ دوسرا قول کس کا ہے؟‘‘[ الکردری، ج ۲، ص ۱۰۹۔]
اس کے ساتھ اسکی کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجلس کے جو فیصلے لکھے جاتے تھے ان کو الگ الگ عنوانات کے تحت کتابوں اور ابواب میں مرتب بھی امام ابو حنیفہ ہی کی زندگی میں کر دیا گیا تھا:
”ابو حنیفہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس شریعت کے علم کو مدوّن کیا۔ ان سے پہلے کسی نے یہ کام نہیں کیا تھا۔ ابو حنیفہ نے اس کو کتابوں اور جدا جدا عنوانات کے تحت ابواب کی شکل میں مرتب کر دیا تھا۔‘‘[ المکی ، ج ۲، ص ۱۳۶۔]
اس مجلس میں، جیسا کہ ہم پہلے اسکی ہی کے حوالے سے بتا چکے ہیں، ۸۳ ہزار قانونی مسائل طے کیے گئے تھے۔ اس میں صرف وہی مسائل زیر بحث نہیں آتے تھے جو اس وقت تک عملاً لوگوں کو یا ریاست کو پیش آ چکے تھے، بلکہ معاملات کی امکانی صورتیں فرض کر کر کے ان پر بھی بحث کی جاتی اور ان کا حل تلاش کیا جاتا تھا، تاکہ آئندہ اگر کبھی کوئی نئی صورت پیش آجائے جو اب تک نہ پیش آئی ہو تو قانون میں پہلے سے اس کا حل موجود ہو۔ یہ مسائل قریب قریب ہر شعبۂ قانون سے متعلق تھے۔ بین الاقوامی قانون [موجودہ زمانے کے لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ بین الاقوامی قانون ایک جدید چیز ہے اور پہلا جس نے اس شعبہ قانون کی بنا ڈالی، ہالینڈ کا گروٹیس (Grotius ۱۵۸۳-۱۶۴۵ء) ہے۔ لیکن جس شخص نے بھی امام ابو حنیفہ کے شاگرد محمد بن حسن الشیبانی(۱۲۳ھ- ۱۸۹ھ، ۷۴۹ء-۸۰۵ء) کی کتاب السیر دیکھی ہے وہ جانتا ہے کہ گریس سے نو سو برس پہلے یہ علم امام ابو حنیفہ کے ہاتھوں بڑی تفصیل کے ساتھ مدوّن ہو چکا تھا اور اس میں بین الاقوامی قانون کے اکثر گوشوں پر اور اس کے بڑے بڑے نازک مسائل پر بحث کی گئی تھی۔ حال میں اس حقیقت کو اہل علم کے ایک گروہ نے تسلیم بھی کیا ہے اور جرمنی میں شیبانی سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء قائم کی گئی ہے۔] (جس کے لیے السیر کی اصطلاح مستعمل تھی) دستوری قانون، دیوانی و فوج داری قانون، قانونِ شہادت، ضابطۂ عدالت، معاشی زندگی کے ہر شعبے کے الگ قوانین، نکاح و طلاق اور وراثت وغیرہ شخصی احوال کے قوانین، اور عبادات کے احکام، یہ سب عنوانات ہم کو ان کتابوں کی فہرستوں میں ملتے ہیں جو اس مجلس کے فراہم کردہ مواد سے امام ابو یوسفؒ نے اور پھر امام محمد بن حسن الشیبانی نے بعد میں مرتب کیں۔
اس باقاعدہ تدوین قانون (codification) کا اثر یہ ہوا کہ انفرادی طور پر کام کرنے والے مجتہدوں، مفتیوں اور قاضیوں کا کام ساقط الاعتبار ہوتا چلا گیا۔ قرآن و حدیث کے احکام اور سابقہ فیصلوں اور فتاویٰ کے نظائر کی چھان بین کر کے اہل علم کی ایک مجلس نے ابو حنیفہؒ جیسے نکتہ رس آدمی کی صدارت و رہنمائی میں شریعت کے جو احکام منقح صورت میں نکال کر رکھ دیے تھے، اور پھر اصولِ شریعت کے تحت وسیع پیمانے پر اجتہاد کر کے زندگی کے ہر پہلو میں پیش آنے والی امکانی ضرورتوں کے لیے جو قابلِ عمل قوانین مرتب کر دیے تھے، ان کے بعد متفرق افراد کے مدوّن کیے ہوئے احکام مشکل ہی سے وقیع ہو سکتے تھے۔ اس لیے جوں ہی یہ کام منظر عام پر آیا، عوام اور حکام اور قضاۃ، سب اس کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہو گئے، کیونکہ یہ وقت کی مانگ تھی اور لوگ مدت سے اسی چیز کے حاجت مند تھے۔ چنانچہ مشہور فقیہ یحییٰ بن آدم (م ۲۰۳ھ۔ ۸۱۸ء) کہتے ہیں کہ ابو حنیفہؒ کے اقوال کے آگے دوسرے فقہاء کے اقوال کا بازار سرد پڑ گیا، انھی کا علم مختلف علاقوں میں پھیل گیا، اسی پر خلفاء اور ائمہ اور حکام فیصلے کرنے لگے اور معاملات کا چلن اسی پر ہو گیا۔ [المکی ، ج ۲، ص ۴۱۔] خلیفہ مامون (۱۹۸-۲۱۸ھ ۔ ۸۱۳- ۸۳۳ء) کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے یہ حالت ہو گئی کہ ایک دفعہ وزیر اعظم فضل بن سہل کو ابو حنیفہؒ کے ایک مخالف فقیہ نے مشورہ دیا کہ حنفی فقہ کا استعمال بند کرنے کے احکام جاری کر دیے جائیں۔ وزیر اعظم نے باخبر اور معاملہ فہم لوگوں کو بلا کر اس معاملے میں رائے لی۔ انھوں نے بالا تفاق کہا: ”یہ بات نہیں چلے گی اور سارا ملک آپ لوگوں پر ٹوٹ پڑے گا۔ جس شخص نے آپ کو یہ مشورہ دیا ہے وہ ناقص العقل ہے۔“ وزیر نے کہا: میں خود بھی اس خیال سے متفق نہیں ہوں اور امیر المومنین بھی اس پر راضی نہ ہوں گے۔“ [المکی، ج۲، ۱۵۷-۱۵۸- الکردری، ج ۲، ص ۱۰۶-۱۰۷]
اس طرح تاریخ کا یہ اہم واقعہ رونما ہوا کہ ایک شخص واحد کی قائم کی ہوئی نجی مجلس وضع قوانین کا مرتب کیا ہوا قانون محض اپنے اوصاف اور اپنے مرتب کرنے والوں کی اخلاقی ساکھ کے بل پر ملکوں اور سلطنتوں کا قانون بن کر رہا۔ اس کے ساتھ دوسرا اہم نتیجہ اس کا یہ بھی ہوا کہ اس نے مسلم مفکرین قانون کے لیے اسلامی قوانین کی تدوین کا ایک نیا راستہ کھول دیا۔ بعد میں جتنے دوسرے بڑے بڑے فقہی نظام بنے وہ اپنے طرزِ اجتہاد اور نتائج اجتہاد میں چاہے اس سے مختلف ہوں، مگر ان کے لیے نمونہ یہی تھا جسے سامنے رکھ کر ان کی تعمیر کی گئی۔