مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

حضرت علیؓ کی خلافت

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جن حالات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ باہر سے آئے ہوئے دو ہزار شورشی دارالخلافہ پر مسلط تھے۔ خلیفہ وقت کو قتل تک کر گزرے تھے۔ خود دارالخلافہ میں بھی ایک اچھی خاصی تعداد ان کی ہم خیال موجود تھی۔ نئے خلیفہ کے انتخاب میں وہ لوگ یقیناً شریک ہوئے، اور ایسی روایات بھی بلا شبہ موجود ہیں کہ جب حضرت علیؓ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا تو ان لوگوں نے بعض حضرات کو زبردستی بھی بیعت پر مجبور کیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخاب غلط تھا؟ کیا اُس وقت حضرت علیؓ سے بہتر کوئی آدمی مدینہ ہی میں نہیں، پوری دنیائے اسلام میں ایسا موجود تھا جسے خلیفہ منتخب ہونا چاہیے تھا؟ [ایک صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ صحابہ میں سب سے افضل نہ تھے اور ان کی یہ حیثیت نہ تھی کہ خلافت کے لیے لوگوں کی نگاہیں ان کی طرف اٹھتیں۔ مگر اس کا صحیح فیصلہ کرنے والے آج کے کوئی صاحب نہیں ہو سکتے بلکہ خود اس عہد کے لوگ ہی اس کے بہترین جج ہو سکتے تھے۔ ان کی رائے اس معاملے میں جو کچھ تھی وہ اسی وقت ظاہر ہو گئی تھی جب حضرت عمرؓ کی شہادت کے بعد اصحابِ شوریٰ نے خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے سپرد کیا تھا اور انھوں نے مدینہ میں عام استصواب رائے فرمایا تھا۔ اس کے متعلق حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: ”پھر حضرت عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں سے مشورہ لینے اور عام مسلمانوں کی رائیں معلوم کرنے کے لیے نکلے اور خفیہ و علانیہ، فرداً فرداً اور مجتمعاً، عوام کے سرداروں اور بااثر لوگوں کی رائے دریافت کرتے پھرے، حتیٰ کہ پردہ دار خواتین سے جا کر پوچھا، مدرسوں میں جا کر طالب علموں سے پوچھا، باہر سے مدینہ آنے والے لوگوں سے پوچھا اور تین دن رات وہ اس کام میں مشغول رہے۔ ...... پھر انھوں نے حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے آپ دونوں کے متعلق لوگوں کی رائے پوچھی ہے۔ میں نے کوئی ایسا شخص نہیں پایا جو آپ دونوں حضرات کے برابر کسی اور شخص کو سمجھتا ہو...... پھر حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف نے (مسجد نبوی کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے) فرمایا: ”حضرات! میں نے آپ لوگوں سے خفیہ اور علانیہ، دونوں طریقوں سے آپ کی رائے معلوم کی ہے۔ میں نے یہ نہیں پایا کہ آپ لوگ کسی کو ان دونوں اصحاب کے برابر سمجھتے ہوں، یا علیؓ کے حق میں آپ کی رائے ہے یا عثمانؓ کے حق میں۔“ (البدایہ، جلد ۷، ص ۱۴۶)

اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ ہی وہ شخص تھے جس کی طرف خلافت کے لیے لوگوں کی نگاہیں اٹھ سکتی تھیں] کیا اس وقت کے رائج اور مسلم اسلامی دستور کی رو سے حضرت علیؓ جائز طور پر خلیفہ منتخب نہ ہو گئے تھے؟ کیا اسلامی دستور میں ایسی کوئی چیز کہیں پائی جاتی ہے کہ نئے خلیفہ کے انتخاب میں اگر سابق خلیفہ کے خلاف شورش برپا کرنے والا گروہ بھی شریک ہو گیا ہو تو اس کا انتخاب غیر قانونی قرار پائے؟ [واضح رہے کہ یہ رائے صرف معتزلہ نے اختیار کی ہے کہ حالت فتنہ و اختلاف میں خلیفہ کا انتخاب جائز نہیں ہے۔ اب یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے زمانے کے بعض علمائے اہل سنت بھی حضرت علی کی خلافت کو اس بنا پر مشتبہ ثابت کرنے کی کوشش فرما رہے ہیں کہ وہ زمانہ فتنہ میں قائم ہوئی ہوئی تھی۔ حالانکہ اس مسئلے میں اہل سنت کا مسلک وہ ہے جو آگے ہم ہدایہ، فتح القدیر اور شرح فقہ اکبر سے نقل کر رہے ہیں، اور اس سے پہلے قاضی ابوبکر ابن العربی کی احکام القرآن سے نقل کر چکے ہیں۔] کیا یہ درست تھا اور یہی ہونا چاہیے تھا کہ ایک خلیفہ شہید ہو چکا ہو اور دوسرا خلیفہ اس کی جگہ جلدی سے جلدی منتخب نہ کر لیا جائے بلکہ دنیائے اسلام ایک مدت تک بے خلیفہ ہی پڑی رہے؟ اور اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت علیؓ دانستہ ہی قاتلین عثمانؓ کو گرفتار کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے میں کوتاہی کر رہے تھے یا ان کے ہاتھ میں بے بس تھے، تب بھی کیا اسلامی آئین و دستور کی رو سے یہ بات ان کی خلافت کو ناجائز، اور ان کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہو جانے کو جائز کر دینے کے لیے کافی تھی؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو بعد کے واقعات کے بارے میں ایک صحیح رائے قائم کرنے کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔

اگر کوئی شخص ان سوالات کا جواب اثبات میں دینا چاہتا ہو تو وہ ضرور اپنی دلیل پیش کرے۔ لیکن پچھلی صدی سے لے کر آج تک تمام اہلِ سنت بالاتفاق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چوتھا خلیفہ راشد تسلیم کرتے رہے ہیں اور ہمارے اپنے ملک میں ہر جمعہ کو بالالتزام ان کی خلافت کا اعلان کر رہے ہیں۔ کم و بیش یہی صورت حال خود حضرت علیؓ کے زمانے میں بھی تھی کہ ایک شام کے صوبے کو چھوڑ کر جزیرۃ العرب اور اس کے باہر کے تمام اسلامی مقبوضات ان کی خلافت مان رہے تھے، مملکت کا نظام عملاً انہی کی خلافت پر قائم ہو چکا تھا اور امت کی عظیم اکثریت نے ان کی سربراہی تسلیم کر لی تھی۔

جہاں تک میں تحقیق کر سکا ہوں، علمائے اہل السنّت میں آج تک کوئی ایک عالم بھی ایسا نہیں گزرا ہے، جس نے حضرت عثمانؓ کے بعد حضرت علیؓ کو چوتھا خلیفہ راشد تسلیم نہ کیا ہو، یا ان کی بیعت کے صحیح ہونے میں شک ظاہر کیا ہو۔ بلکہ علمائے احناف نے تو ان کی خلافت کے اقرار و اعتراف کو عقائد اہل سنّت میں سے ایک عقیدہ قرار دیا ہے، جیسا کہ ہم اس کتاب کے باب ہفتم میں شرح الطحاویہ کے حوالے سے بیان کر چکے ہیں۔ یہ بھی امر واقعہ ہے کہ تمام فقہاء و محدثین و مفسرین نے بالاتفاق حضرت علیؓ کی ان لڑائیوں کو، جو آپ نے اصحاب جمل، اصحاب صفین اور خوارج سے لڑیں، قرآن مجید کی آیت <<فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ>> کے تحت حق بجانب ٹھہرایا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک آپ امام اہل عدل تھے اور آپ کے خلاف خروج جائز نہ تھا۔ میرے علم میں کوئی ایک بھی فقیہ یا محدث یا مفسر ایسا نہیں ہے جس نے اس سے مختلف کوئی رائے ظاہر کی ہو۔ خصوصیت کے ساتھ علمائے حنفیہ نے تو بالاتفاق یہ کہا ہے کہ ان ساری لڑائیوں میں حق حضرت علیؓ کے ساتھ تھا اور ان کے خلاف جنگ کرنے والے بغاوت کے مرتکب تھے۔ مثال کے طور پر صاحب ہدایہ کی حسب ذیل عبارت ملاحظہ ہو:

<<ثم يجوز التقلد من السلطان الجائر كما يجوز من العادل لان الصحابة رضى الله عنهم تقلدوه من معاوية رضى الله عنه والحق كان بيد على رضى الله عنه فى نوبته->>

”پھر سلطان جائر کی طرف سے عہدۂ قضا قبول کرنا اسی طرح جائز ہے جس طرح سلطان عادل سے قبول کرنا جائز ہے، کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے عہدۂ قضا قبول کیا تھا حالانکہ اپنی خلافت کی نوبت آنے پر حق حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا۔“ [ہدایہ کتاب ادب القاضی]

علامہ ابن ہمام اس عبارت کی شرح کرتے ہوئے فتح القدیر میں لکھتے ہیں:

”یہ حضرت معاویہؓ کے جُور کی تصریح ہے، اور اس سے مراد عدالتی فیصلوں میں اُن کا جَور نہیں بلکہ اُن کا خروج ہے۔۔۔۔ اصل بات یہ ہے کہ حق حضرت علیؓ ہی کے ساتھ تھا کیونکہ اپنی نوبت آنے پر وہ صحیح بیعت سے خلیفہ مقرر ہوئے تھے اور اُن کی خلافت منعقد ہو چکی تھی، لہٰذا اہلِ جمل کے خلاف اور صفین کے مقام پر حضرت معاویہؓ کے خلاف لڑائی میں وہ حق پر تھے۔ مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عمار کے بارے میں یہ ارشاد کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، اس معاملے میں بالکل صریح ہے کہ حضرت معاویہ کے ساتھی باغی تھے، کیونکہ حضرت عمارؓ کو انھی نے قتل کیا،۔“[فتح القدیر، ج ۵، ص ۴۱۶، المطبعة الامیریہ، مصر، ۱۳۱۶ھ۔]

ملا علی قاری نے حنفی نقطہ نظر کی ترجمانی کرتے ہوئے شرح فقہ اکبر میں حضرت علیؓ کی خلافت پر جو مفصل بحث کی ہے، وہ پوری کی پوری قابلِ دید ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں:

”حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد اکابر مہاجرین و انصار نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس جمع ہو کر ان سے خلافت قبول کرنے کی درخواست کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی کیونکہ وہ اپنے اہلِ زمانہ میں سب سے افضل اور اپنے وقت میں خلافت کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔ ان کے احق ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔ رہی یہ بات کہ صحابہؓ کی ایک جماعت ان کی نصرت سے اور ان کے ساتھ جنگ میں جانے سے باز رہی، اور صحابہؓ کا ایک گروہ جمل و صفین میں ان سے نبرد آزما ہوا، تو یہ ان کی خلافت کے صحیح نہ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ان کی خلافت کی صحت پر دلالت کرنے والی چیزوں میں سے ایک وہ مشہور حدیث ہے جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ <<الخلافۃ بعدی ثلثون سنۃ ثم یصیر ملکا عضوضا>> (خلافت میرے بعد ۳۰ سال رہے گی اور اس کے بعد کٹ کھنی بادشاہت آجائے گی)، اور یہ واقعہ ہے کہ حضرت علیؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تیسویں سال کے سرے پر شہید ہوئے۔ اسی طرح حضرت علیؓ شہید کے اجتہاد کی صحت اور حضرت معاویہؓ کے مقصد کی غلطی پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جو حضرت عمارؓ بن یاسر کے حق میں حضورؐ سے ثابت ہے کہ <<تقتلک الفئة الباغية>> (تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا) …… اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ معاویہؓ اور ان کے بعد کے لوگ خلفاء نہ تھے بلکہ ملوک اور امراء تھے۔

آگے چل کر ملا علی قاری پھر لکھتے ہیں:

”خلافت کے ثبوت کی شرائط میں یہ چیز داخل نہیں ہے کہ اس پر امت کا اجماع ہو۔ بلکہ جب بعض صالحین امت کسی ایسے شخص کو جو اس منصب کا اہل ہو خلافت سونپ دیں تو وہ منعقد ہو جاتی ہے اور اس کے بعد کسی کو اس کی مخالفت کا حق نہیں رہتا۔ اس کے لیے اجماع کی شرط لگانے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ اس شرط سے یہ خطرہ لاحق ہو جاتا ہے کہ جب امام مقرر کرنے کی ضرورت پیش آئے اس وقت اس کے تقرر میں تاخیر ہو۔ علاوہ بریں صحابہؓ نے خلیفہ کے انتخاب اور بیعت کے معاملے میں اجماع کو کبھی شرط نہیں سمجھا ہے …… اس سے ان لوگوں کے قول کا باطل ہونا واضح ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ حضرت طلحہؓ و زبیرؓ نے مجبوراً بیعت کی تھی اور کہا تھا کہ ”ہمارے ہاتھوں نے تو علیؓ کی بیعت کی مگر ہمارے دلوں نے بیعت نہیں کی۔“ اور اسی طرح ان کا یہ قول بھی باطل ہے کہ سعدؓ بن ابی وقاص اور سعیدؓ بن زید اور بکثرت دوسرے لوگ علیؓ کی نصرت سے باز رہے اور ان کی طاعت میں داخل نہ ہوئے۔ یہ اس لیے باطل ہے کہ حضرت علیؓ کی امامت ان حضرات کی بیعت کے بغیر بھی صحیح تھی۔ رہی یہ بات کہ حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کو قتل نہیں کیا، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ (محض قاتل نہ تھے بلکہ) باغی تھے۔ باغی وہ ہوتا ہے جس کے پاس طاقت بھی ہوتی ہے اور اپنے فعل بغاوت کے جواز کی تاویل بھی۔ چنانچہ وہ لوگ طاقت بھی رکھتے تھے اور تاویل بھی پیش کرتے تھے۔ ان کو حضرت عثمانؓ کے بعض کاموں پر اعتراض تھا اور ان کی بنا پر وہ اپنی بغاوت کو حلال قرار دے رہے تھے۔ اس قسم کے باغیوں کا حکم شریعت میں یہ ہے کہ اگر وہ امام اور اہل عدل کی اطاعت قبول کر لیں تو پہلے جو کچھ بھی وہ اہل عدل کی جان و مال کا نقصان کر چکے ہوں اس پر اُن سے مواخذہ نہ کیا جائے۔ اس بنا پر ان کو قتل کرنا یا اُنھیں قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کے حوالے کرنا حضرت علیؓ پر واجب نہ تھا۔ اور جو فقہاء یہ رائے رکھتے ہیں کہ ایسے باغیوں کا مواخذہ واجب ہے وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ امام کو انھیں اس وقت پکڑنا چاہیے جب ان کا زور ٹوٹ جائے اور ان کی طاقت منتشر ہو جائے اور امام کو یہ اطمینان ہو جائے کہ پھر فتنہ سر نہ اٹھائے گا۔ حضرت علیؓ کو ان امور میں سے کوئی بات بھی حاصل نہ تھی، اور وہ بدستور یہ عزم رکھتے تھے کہ جو کوئی ان سے حضرت عثمانؓ کے خون کا مطالبہ کرے گا وہ اس سے لڑیں گے۔ اس معاملے میں حضرات طلحہؓ و زبیرؓ کا طرزِ عمل (جو جنگِ جمل کا موجب ہوا) غلط تھا اگرچہ جو کچھ انھوں نے کیا اجتہاد کی بنا پر کیا اور وہ اجتہاد کے اہل تھے۔۔۔۔۔ اور بعد میں دونوں حضرات اپنے فعل پر نادم ہوئے۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ بھی اپنے فعل پر نادم ہوئیں اور اس پر وہ اتنا روتی تھیں کہ ان کے دوپٹے کا دامن بھیگ جاتا تھا۔ پھر معاویہؓ بھی غلطی پر تھے، البتہ انھوں نے بھی جو کچھ کیا تاویل کی بنا پر کیا، اس لیے وہ اس غلطی کی وجہ سے فاسق نہیں ہوئے۔ اہل السنت والجماعت میں اس امر پر اختلاف ہے کہ انھیں باغی کے نام سے موسوم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ان میں سے بعض اس سے اجتناب کرتے ہیں۔ مگر بات انھی کی صحیح ہے جو اس لفظ کا ان پر اطلاق کرتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمار سے فرمایا تھا کہ تم کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔" [شرح فقہ اکبر ، ص ۷۸ تا ۸۲۔]

اس بحث سے پوری شرعی پوزیشن کھل کر سامنے آجاتی ہے اور یہ معلوم ہو جاتا ہے حضرت علیؓ کی خلافت اور ان کے مخالفین کے معاملے میں اہل السنّت کا اصل مسلک کیا ہے۔ اب یہ دعویٰ کرنے کے لیے مکابرہ کی بہت بڑی مقدار درکار ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت مشکوک و مشتبہ تھی اور ان کے مقابلے میں تلوار اٹھانے کے لیے شرعی جواز کی کوئی گنجائش موجود تھی۔ خصوصاً ان لوگوں پر تو مجھے سخت حیرت ہے جنہیں ایک طرف یزید کی خلافت کو صحیح اور حضرت حسینؓ کو برسرِ غلط ٹھہرانے پر تو بڑا اصرار ہے، مگر دوسری طرف وہ حضرت معاویہؓ کے حق میں معذرتیں پیش کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ حالانکہ جن دلائل سے یزید کی خلافت صحیح ثابت کی جاتی ہے ان کی بہ نسبت ہزار گنے زیادہ قوی دلائل سے حضرت علیؓ کی خلافت قطعی صحت کے ساتھ قائم ہوئی تھی، اور جن حضرات نے بھی خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینے کے لیے ان کے خلاف تلوار اٹھائی ان کے اس فعل کے حق میں کوئی شرعی دلیل نہیں پیش کی جا سکتی۔ خدا کی شریعت بے لاگ ہے۔ اس میں یہ گنجائش نہیں ہے کہ کسی کے مرتبے کا لحاظ کر کے ہم غلط کو صحیح بنانے کی کوشش کریں۔