خلافت و ملوکیت
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔
کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔
کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔
باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
مطالعاتی رہنما / Study Guide
محقق کا خلاصہ
"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔
کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔
تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔
مطالعاتی حلقہ کے سوالات
- ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
- خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
- تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
- فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
- مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
- آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟
چھٹا مرحلہ
اب خلافت کو ملوکیت کی طرف جانے سے بچانے کا آخری موقع باقی رہ گیا تھا اور وہ یہ تھا کہ دونوں حکم ٹھیک ٹھیک اس معاہدے کے مطابق اپنا فیصلہ دیں جس کی رو سے ان کو فیصلے کا اختیار سونپا گیا تھا۔ معاہدے کی جو عبارت مورخین نے نقل کی ہے اس میں تحکیم کی بنیاد یہ تھی:
”دونوں حکم جو کچھ کتاب اللہ میں پائیں اس پر عمل کریں، اور کچھ کتاب اللہ میں نہ پائیں اس کے بارے میں سنّت عادلۂ جامعہ غیر مفرقہ پر عمل کریں۔“ [الطبری، ج ۴، ص ۲۸۔ البدایہ، ج ۷، ص ۲۷۶۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۷۵۔]
لیکن دومۃ الجندل میں جب دونوں حکم مل کر بیٹھے تو سرے سے یہ امر زیر بحث ہی نہ آیا کہ قرآن وسنّت کی رو سے اس قضیہ کا فیصلہ کیا ہو سکتا ہے۔ قرآن میں صاف حکم موجود تھا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کی صحیح صورت طائفہ باغیہ کو راہ راست پر آنے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ [الحجرات، آیت ۹۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ <<فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ>> ”پھر اگر ان میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہو تو زیادتی کرنے والی جماعت سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔“] حضرت عمار کی شہادت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نص صریح نے متعین کر دیا تھا کہ اس قضیہ میں طائفہ باغیہ کون سا ہے۔ ایک امیر کی امارت قائم ہو جانے کے بعد اس کی اطاعت نہ کرنے والے کے بارے میں بھی واضح احادیث موجود تھیں۔ خون کے دعوے کا بھی شریعت میں صاف ضابطہ موجود تھا جس کی رو سے دیکھا جا سکتا تھا کہ حضرت معاویہؓ نے خونِ عثمانؓ کے متعلق اپنا دعویٰ ٹھیک طریقے سے اٹھایا ہے یا غلط طریقے سے۔ اور معاہدۂ تحکیم کی رو سے دونوں صاحبوں کے سپرد یہ کام سرے سے کیا ہی نہیں گیا تھا کہ وہ خلافت کے مسئلے کا جو فیصلہ بطور خود مناسب سمجھیں کر دیں، بلکہ ان کے حوالے فریقین کا پورا جھگڑا اس صراحت کے ساتھ کیا گیا تھا کہ ان کے درمیان اولاً کتاب اللہ اور پھر سنتِ عادلہ کے مطابق تصفیہ کریں۔ مگر جب دونوں بزرگوں نے بات چیت شروع کی تو ان سارے پہلوؤں کو نظر انداز کر کے یہ بحث شروع کر دی کہ خلافت کا مسئلہ اب کیسے طے کیا جائے۔
حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے پوچھا: ”آپ کے نزدیک اس معاملے میں کیا صورت مناسب ہو گی؟“ انھوں نے کہا: ”میری رائے یہ ہے کہ ہم ان دونوں حضرات (علیؓ و معاویہؓ) کو الگ کر کے خلافت کے مسئلے کو مسلمانوں کے باہمی مشورے پر چھوڑ دیں تاکہ وہ جسے چاہیں منتخب کر لیں۔“ حضرت عمروؓ نے کہا: ”ٹھیک بات یہی ہے جو آپ نے سوچی ہے۔“ اس کے بعد دونوں صاحب مجمع عام میں آئے جہاں دونوں طرف کے چار چار سو اصحاب اور کچھ غیر جانب دار بزرگ موجود تھے۔ حضرت عمروؓ نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا: ”آپ ان لوگوں کو بتا دیجیے کہ ہم ایک رائے پر متفق ہو گئے ہیں۔“ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت ابو موسیٰ سے کہا: ”اگر آپ دونوں ایک رائے پر متفق ہو گئے ہیں تو اس متفقہ فیصلے کا اعلان عمرو بن العاصؓ کو کرنے دیجیے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ دھوکا کھا گئے ہیں۔“ حضرت ابو موسیٰ نے کہا: ”مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے، ہم نے بالاتفاق ایک فیصلہ کیا ہے۔“ پھر وہ تقریر کے لیے اٹھے اور اس میں اعلان کیا کہ ”میں اور میرے یہ دوست (یعنی عمرو بن العاصؓ) ایک بات پر متفق ہو گئے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ ہم علیؓ اور معاویہؓ کو الگ کر دیں اور لوگ باہمی مشورے سے جس کو پسند کریں اپنا امیر بنا لیں۔ لہٰذا میں علیؓ اور معاویہؓ کو معزول کرتا ہوں۔ اب آپ لوگ اپنا معاملہ خود اپنے ہاتھ میں لیں اور جسے اہل سمجھیں اپنا امیر بنا لیں۔“ اس کے بعد حضرت عمروؓ بن العاص کھڑے ہوئے اور انھوں نے کہا: ”ان صاحب نے جو کچھ کہا وہ آپ لوگوں نے سُن لیا۔ انھوں نے اپنے آدمی (حضرت علیؓ) کو معزول کر دیا ہے، میں بھی ان کی طرح انھیں معزول کرتا ہوں، اور اپنے آدمی (حضرت معاویہؓ) کو قائم رکھتا ہوں، کیونکہ وہ عثمانؓ ابن عفان کے ولی اور ان کے خون کے دعوے دار اور ان کی جانشینی کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔“
حضرت ابوموسیٰؓ نے یہ بات سنتے ہی کہا: <<مالك، لا وفقتك، غدرتَ و فجرتَ>> (یہ تم نے کیا کیا؟ خدا تمھیں توفیق نہ دے، تم نے دھوکا دیا اور عہد کی خلاف ورزی کی)۔ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص بولے: ”افسوس تمھارے حال پر اے ابوموسیٰ! تم عمرو کی چالوں کے مقابلے میں بڑے کمزور نکلے۔“ حضرت ابوموسیٰ نے جواب دیا ”اب میں کیا کروں؟ اس شخص نے مجھ سے ایک بات پر اتفاق کیا اور پھر اس سے دامن چھڑا لیا۔“ حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ نے کہا: ”ابوموسیٰ اس سے پہلے مر گئے ہوتے تو ان کے حق میں زیادہ اچھا تھا۔“ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے کہا: ”دیکھو، اس امت کا حال کہاں جا پہنچا ہے۔ اس کا مستقبل دو ایسے آدمیوں کے حوالے کر دیا گیا جن میں سے ایک کو اس کی کچھ پروا نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے، اور دوسرا ضعیف ہے۔“ [الطبری، ج ۴، ص ۵۱ - ابن سعد، ج۴، ص ۲۵۶ - ۲۵۷ - ابن الاثیر، ج ۲، ص ۱۶۸۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۲۸۲- ۲۸۳۔ ابن خلدون مکملہ جلد دوم، ص ۱۷۸] درحقیقت کسی شخص کو بھی وہاں اس امر میں شک نہ تھا کہ دونوں کے درمیان اُسی بات پر اتفاق ہوا تھا جو حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ نے اپنی تقریر میں کہی تھی اور حضرت عمروؓ بن العاص نے جو کچھ کیا وہ طے شدہ بات کے بالکل خلاف تھا۔ اس کے بعد حضرت عمروؓ بن العاص نے جا کر حضرت معاویہؓ کو خلافت کی بشارت دی، اور حضرت ابوموسیٰؓ شرم کے مارے حضرت علیؓ کو منہ نہ دکھا سکے اور سیدھے مکے چلے گئے۔ [البدایہ، ج ۷، ص ۲۸۳ ۔ ابن خلدون، تکملہ جلد دوم، ص ۱۷۸]
حافظ ابن کثیر حضرت عمروؓ بن العاص کے اس فعل کی یہ توجیہ کرتے ہیں کہ ”انھوں نے اس حالت میں لوگوں کو بلا امام چھوڑنا مناسب نہ سمجھا، کیونکہ اس وقت لوگوں میں جو اختلاف برپا تھا اس کو دیکھتے ہوئے انھیں خطرہ تھا کہ ایسا کرنا ایک طویل و عریض فساد کا موجب ہوگا، اس لیے انھوں نے مصلحت کی بنا پر حضرت معاویہؓ کو برقرار رکھا، اور اجتہاد صحیح بھی ہوتا ہے اور غلط بھی۔“ [البدایہ، ج ۷، ص ۲۸۳۔] لیکن جو انصاف پسند آدمی بھی نیزوں پر قرآن اٹھانے کی تجویز سے لے کر اس وقت تک کی روداد پڑھے گا وہ بمشکل ہی سے یہ مان سکتا ہے کہ یہ سب کچھ ’اجتہاد‘ تھا۔ بلاشبہ ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہؓ واجب الاحترام ہیں، اور بڑا ظلم کرتا ہے وہ شخص جو ان کی کسی غلطی کی وجہ سے ان کی ساری خدمات پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کے مرتبے کو بھول کر گالیاں دینے پر اتر آتا ہے۔ مگر یہ بھی کچھ کم زیادتی نہیں ہے کہ اگر ان میں سے کسی نے کوئی غلط کام کیا ہو تو ہم محض صحابیت کی رعایت سے اس کو ’اجتہاد‘ قرار دینے کی کوشش کریں۔ بڑے لوگوں کے غلط کام اگر ان کی بڑائی کے سبب سے اجتہاد بن جائیں تو بعد کے لوگوں کو ہم کیا کہہ کر ایسے ”اجتہادات“ سے روک سکتے ہیں۔ اجتہاد کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ امر حق معلوم کرنے کے لیے آدمی اپنی انتہائی حدوسع تک کوشش کرے۔ اس کوشش میں نادانستہ غلطی بھی ہو جائے تو حق معلوم کرنے کی کوشش بجائے خود اجر کی مستحق ہے۔ لیکن جان بوجھ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق کام کرنے کا نام اجتہاد ہرگز نہیں ہو سکتا۔ درحقیقت اس طرح کے معاملات میں افراط و تفریط، دونوں ہی یکساں احتراز کے لائق ہیں۔ کوئی غلط کام محض شرفِ صحابیت کی وجہ سے مشرف نہیں ہو جاتا بلکہ صحابی کے مرتبہ بلند کی وجہ سے وہ غلطی اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ لیکن اس پر رائے زنی کرنے والے کو لازماً یہ احتیاط ملحوظ رکھنی چاہیے کہ غلط کو صرف غلط سمجھنے اور کہنے پر اکتفا کرے۔ اس سے آگے بڑھ کر صحابی کی ذات کو بحیثیت مجموعی مطعون نہ کرنے لگے۔ حضرت عمروؓ بن العاص یقیناً بڑے مرتبے کے بزرگ ہیں اور انھوں نے اسلام کی بیش بہا خدمات انجام دی ہیں۔ البتہ ان سے یہ دو کام ایسے سرزد ہو گئے ہیں جنھیں غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
اس بحث سے قطع نظر کہ دونوں حکموں میں سے ایک نے کیا کیا اور دوسرے نے کیا، بجائے خود یہ پوری کارروائی جو دومۃ الجندل میں ہوئی، معاہدۂ تحکیم کے بالکل خلاف اور اس کے حدود سے قطعی متجاوز تھی۔ ان حضرات نے غلط طور پر یہ فرض کر لیا کہ وہ حضرت علیؓ کو معزول کرنے کے مجاز ہیں، حالانکہ وہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد باقاعدہ آئینی طریقے پر خلیفہ منتخب ہوئے تھے، اور معاہدۂ تحکیم کے کسی لفظ سے یہ اختیار ان دونوں حضرات کو نہیں سونپا گیا تھا کہ وہ انھیں معزول کر دیں۔ پھر انھوں نے یہ بھی غلط فرض کر لیا کہ حضرت معاویہؓ ان کے مقابلے میں خلافت کا دعویٰ لے کر اٹھے ہیں، حالانکہ اس وقت تک وہ صرف خونِ عثمانؓ کے مُدعی تھے نہ کہ منصب خلافت کے۔ مزید برآں ان کا یہ مفروضہ بھی غلط تھا کہ وہ خلافت کے مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے حکم بنائے گئے ہیں۔ معاہدۂ تحکیم میں اس مفروضے کے لیے کوئی بنیاد موجود نہ تھی۔ اسی بنا پر حضرت علیؓ نے ان کے فیصلے کو رد کر دیا اور اپنی جماعت میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
”سُنو! یہ دونوں صاحب جنھیں تم لوگوں نے حکم مقرر کیا تھا، انھوں نے قرآن کے حکم کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا، اور خدا کی ہدایت کے بغیر ان میں سے ہر ایک نے اپنے خیالات کی پیروی کی، اور ایسا فیصلہ دیا جو کسی واضح حجت اور سنتِ ماضیہ پر مبنی نہیں ہے، اور اس فیصلے میں دونوں نے اختلاف کیا ہے، اور دونوں ہی کسی صحیح فیصلے پر نہیں پہنچے ہیں۔“ [الطبری، ج ۴، ص۵۷]
اس کے بعد حضرت علیؓ نے کوفہ واپس پہنچ کر شام پر چڑھائی کی پھر تیاریاں شروع کر دیں۔ اس زمانے میں انھوں نے جو تقریریں کیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امت پر ملوکیت کے مسلط ہو جانے کا خطرہ کس شدت کے ساتھ محسوس کر رہے تھے اور خلافت راشدہ کے نظام کو بچانے کے لیے کس طرح ہاتھ پاؤں مار رہے تھے۔ ایک تقریر میں وہ فرماتے ہیں:
”خدا کی قسم! اگر یہ لوگ تمھارے حاکم بن گئے تو تمھارے درمیان کسریٰ اور ہرقل کی طرح کام کریں گے۔“ [الطبری، ج ۴، ص ۵۸۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۷۱۔]
ایک دوسری تقریر میں انھوں نے فرمایا:
”چلو اُن لوگوں کے مقابلے میں جو تم سے اس لیے لڑ رہے ہیں کہ ملوکِ جبارہ بن جائیں اور اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا لیں۔“ [الطبری، ج ۴، ص ۵۹۔ ابن الاثیر، ج ۳، ص ۱۷۲۔]
مگر عراق کے لوگ ہمت ہار چکے تھے اور خوارج کے فتنے نے حضرت علیؓ کے لیے مزید ایک دردِ سر پیدا کر دیا تھا۔ پھر حضرت معاویہؓ اور حضرت عمروؓ بن العاص کی تدبیروں سے مصر اور شمالی افریقہ کے علاقے بھی ان کے ہاتھ سے نکل گئے، اور دنیائے اسلام عملاً دو متحارب حکومتوں میں بٹ گئی۔ آخر کار حضرت علیؓ کی شہادت (رمضان ۴۰ھ) اور پھر حضرت حسنؓ کی مصالحت (۴۱ھ) نے میدان حضرت معاویہؓ کے لیے پوری طرح خالی کر دیا۔ اس کے بعد جو حالات پیش آئے انھیں دیکھ کر بہت سے وہ لوگ بھی جو پہلے حضرت علیؓ اور ان کے مخالفین کی لڑائیوں کو محض فتنہ سمجھ کر غیر جانب دار رہے تھے، یہ اچھی طرح جان گئے کہ حضرت علیؓ کس چیز کو قائم رکھنے اور امت کو کس انجام سے بچانے کے لیے اپنی جان کھپا رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے اپنے آخری زمانے میں کہا: ”مجھے کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہے جتنا اس بات پر ہے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ کیوں نہ دیا۔“ [ابن سعد، ج ۴، ص ۱۸۷۔ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج ۱، ص ۳۰-۳۷۔] ابراہیم نخعی کی روایت ہے کہ مسروق بن اجدع حضرت علیؓ کا ساتھ نہ دینے پر توبہ و استغفار کیا کرتے تھے۔[ الاستیعاب، ج ۱، ص ۳۰۔] حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کو عمر بھر اس بات پر سخت ندامت رہی کہ وہ حضرت علیؓ کے خلاف جنگ میں حضرت معاویہؓ کے ساتھ کیوں شریک ہوئے تھے۔ [ایضاً، ج ۱، ص ۳۷۱۔]
حضرت علیؓ نے اس پورے فتنے کے زمانے میں جس طرح کام کیا، وہ ٹھیک ٹھیک ایک خلیفہ راشد کے شایان شان تھا۔ البتہ صرف ایک چیز ایسی ہے جس کی مدافعت میں مشکل ہی سے کوئی بات کہی جا سکتی ہے۔ وہ یہ کہ جنگ جمل کے بعد انھوں نے قاتلین عثمانؓ کے بارے میں اپنا رویہ بدل دیا۔ جنگ جمل تک وہ ان لوگوں سے بیزار تھے، بادل ناخواستہ ان کو برداشت کر رہے تھے، اور ان پر گرفت کرنے کے لیے موقع کے منتظر تھے۔ حضرت عائشہؓ اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ سے گفتگو کرنے کے لیے جب انھوں نے حضرت قعقاع بن عمرو کو بھیجا تھا تو ان کی نمائندگی کرتے ہوئے حضرت قعقاعؓ نے کہا تھا کہ ”حضرت علیؓ نے قاتلین عثمانؓ پر ہاتھ ڈالنے کو اس وقت تک مؤخر کر رکھا ہے جب تک وہ انھیں پکڑنے پر قادر نہ ہو جائیں، آپ لوگ بیعت کر لیں تو پھر خونِ عثمانؓ کا بدلہ لینا آسان ہو جائے گا“،[البدایہ، ج ۷، ص ۲۷۰۔] پھر جنگ سے عین پہلے جو گفتگو اُن کے اور حضرت طلحہؓ و زبیرؓ کے درمیان ہوئی اس میں حضرت طلحہؓ نے اُن پر الزام لگایا کہ آپ خونِ عثمانؓ کے ذمہ دار ہیں، اور انھوں نے جواب میں فرمایا: <<لعن الله قتلة عثمان>> (عثمانؓ کے قاتلوں پر خدا کی لعنت)۔[ ایضاً، ج ۷، ص ۲۴۰۔] لیکن اس کے بعد بتدریج وہ لوگ ان کے ہاں تقرب حاصل کرتے چلے گئے جو حضرت عثمانؓ کے خلاف شورش برپا کرنے اور بالآخر انھیں شہید کرنے کے ذمہ دار تھے، حتیٰ کہ انھوں نے مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکر کو گورنری کے عہدے تک دے دیے، درآں حالیکہ قتل عثمانؓ میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا وہ سب کو معلوم ہے۔ حضرت علیؓ کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کی طرح حضرت علیؓ نے بھی تو اپنے متعدد رشتہ داروں کو بڑے بڑے عہدوں پر سرفراز کیا، مثلاً حضرت عبداللہ بن عباسؓ، حضرت عبید اللہ بن عباسؓ، حضرت قثم بن عباسؓ وغیرہم۔ لیکن یہ حجت پیش کرتے وقت وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے یہ کام ایسے حالات میں کیا تھا جبکہ اعلیٰ درجے کی صلاحیتیں رکھنے والے اصحاب میں سے ایک گروہ ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا تھا، دوسرا گروہ مخالف کیمپ میں شامل ہو گیا تھا، اور تیسرے گروہ میں سے آئے دن لوگ نکل نکل کر دوسری طرف جا رہے تھے۔ ان حالات میں وہ انھی لوگوں سے کام لینے پر مجبور تھے جن پر وہ پوری طرح اعتماد کر سکیں۔ یہ صورت حال حضرت عثمانؓ کے دور کی صورت حال سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی، کیونکہ انھوں نے ایسے زمانے میں یہ کام کیا تھا جبکہ امت کے تمام ذی صلاحیت لوگوں کا مکمل تعاون ان کو حاصل تھا اور وہ اپنے رشتہ داروں سے مدد لینے پر مجبور نہ تھے۔