مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

۱- تصورِ کائنات

سیاست کے متعلق قرآن کا نظریہ اس کے اساسی تصور کائنات پر مبنی ہے جسے نگاہ میں رکھنا اس نظریے کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ فلسفۂ سیاست کے نقطۂ نظر سے اگر اس تصور کائنات کا جائزہ لیا جائے تو حسب ذیل نکات ہمارے سامنے آتے ہیں:

(الف) اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا اور خود انسان کا اور ان تمام چیزوں کا خالق ہے جن سے انسان اس دنیا میں مستفید ہوتا ہے:

<<وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ>> (الانعام:۷۳)

”اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔“

<<قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ>> (الرعد:۱۶)

”کہو، اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہی یکتا ہے سب کو مغلوب کر کے رکھنے والا۔“

<<يٰاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّ نِسَآءً>> (النساء:۱)

”لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا وجود میں لایا اور ان دونوں سے اس نے بکثرت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیے۔“

<<هُوَ الَّذِى خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِى الْأَرْضِ جَمِيْعًا>> (البقره: ۲۹)

”وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب چیزیں پیدا کیں جو زمین میں ہیں۔“

<<هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللهِ يَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْأَرْضِ>> (فاطر: ۳)

”کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ہو؟“

<<أَفَرَءَيْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ ٥٨ ءَأَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗٓ أَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ٥٩ أَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ٦٣ ءَأَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗٓ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُوْنَ ٦٤ ...... أَفَرَءَيْتُمُ الْمَاۗءَ الَّذِيْ تَشْرَبُوْنَ ٦٨ ءَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ٦٩ ...... أَفَرَءَيْتُمُ النَّارَ الَّتِيْ تُوْرُوْنَ ٧١ ءَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ ٧٢>> (الواقعہ: ۵۸-۷۲)

”کیا تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ٹپکاتے ہو اس سے بچے تم پیدا کرتے ہو یا اس کے خالق ہم ہیں؟ ...... تم نے غور کیا، یہ کھیتی جو تم بوتے ہو، اسے تم اگاتے ہو یا اس کے اگانے والے ہم ہیں؟ ...... تم نے غور کیا، یہ پانی جو تم پیتے ہو اسے بادل سے تم برساتے ہو یا اس کے برسانے والے ہم ہیں؟ ...... تم نے غور کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو اس کے درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ان کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟“

(ب) اپنی پیدا کردہ اس خلق کا مالک، فرماں روا اور مدبر و منتظم بھی اللہ ہی ہے:

<<لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِى الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى ٥>> (طہ: ۶)

”اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور جو کچھ زمین کی تہہ میں ہے۔“

<<وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِأَمْرِهٖ ۭأَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۭتَبٰرَكَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ٥٤>> (الاعراف: ۵۴)

”سورج اور چاند اور تاروں کو اس نے پیدا کیا، سب اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ خبردار رہو، اسی کی خلق ہے اور اسی کی حکمرانی ہے۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ساری کائنات کا مالک و پروردگار۔

<<يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ>> (السجده :۵)

”آسمان سے زمین تک دنیا کا انتظام وہی کرتا ہے۔“

(ج) اس کائنات میں (sovereignty) حاکمیت ایک اللہ کے سوا نہ کسی کی ہے، نہ ہو سکتی ہے اور نہ کسی کا یہ حق ہے کہ حاکمیت میں اس کا کوئی حصہ ہو:

<<أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ>> (البقرہ: ۱۰۷)

”کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔“

<<وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ>> (فرقان :۲)

”اور بادشاہی میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔“

<<لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَىٰ وَالْآخِرَةِ ۖوَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ>> (القصص: ۷۰)

”دنیا اور آخرت میں ساری تعریف اسی کے لیے ہے اور حکم کا اختیار اسی کو ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔“

<<إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ>> (الانعام: ۵۷)

”فیصلے کا اختیار کسی کو نہیں ہے سوائے اللہ کے۔“

<<مَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا>> (الکہف: ۲۶)

”بندوں کے لیے اس کے سوا کوئی ولی و سرپرست نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔“

<<يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ ۗقُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ>> (آل عمران : ۱۵۴)

”وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اختیار میں بھی کچھ ہے؟ کہو: اختیار سارا کا سارا اللہ ہی کا ہے۔“

<<لِلَّهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ>> (الروم : ۴)

اللہ ہی کے ہاتھ اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ <<لَهُ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ>> (الحدید: ۵) ''آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے اور سارے معاملات اسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔''

''کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اس کی طرح ہو سکتا ہے جو پیدا نہیں کرتا؟ تم ہوش میں نہیں آتے؟'' <<اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُق اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ>> (النحل: ۱۷)

''کیا ان لوگوں نے اللہ کے کچھ ایسے شریک بنا لیے ہیں جنہوں نے اللہ کی طرح کچھ پیدا ہو اور ان پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہو؟'' <<اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ>> (الرعد: ۱۶)

''کہو، کبھی تم نے اپنے ٹھیرائے ہوئے ان شریکوں کو دیکھا جنہیں تم اللہ کے سوا (رب کی حیثیت سے) پوجتے ہو؟ مجھے دکھاؤ انہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں میں ان کی کوئی شرکت ہے؟ <<قُلْ اَرَءَيْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭاَرُوْنِيْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمٰوٰتِ>> ...... در حقیقت اللہ سب آسمانوں اور زمین کو زائل ہونے سے روکے ہوئے ہے، اور اگر وہ زائل ہونے لگیں تو اللہ کے بعد کوئی دوسرا نہیں ہے جو انہیں روک سکے۔'' <<اِنَّ اللّٰهَ يُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ە وَلَىِٕنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ>> (فاطر: ۴۰-۴۱)

(د) حاکمیت کی جملہ صفات اور جملہ اختیارات صرف ایک اللہ ہی میں مرکوز ہیں۔ اس کائنات میں کوئی ان صفات و اختیارات کا حامل سرے سے ہے ہی نہیں۔ وہی سب پر غالب ہے۔ سب کچھ جاننے والا ہے۔ بے سبب اور بے خطا ہے۔ سب کا نگہبان ہے۔ سب کو امان دینے والا ہے۔ ہمیشہ زندہ اور ہر وقت بیدار ہے۔ ہر چیز پر نگہبان ہے۔

سب کو امان دینے والا ہے۔ ہمیشہ زندہ اور ہر وقت بیدار ہے۔ ہر چیز پر قادر ہے۔ سارے اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر شے چار و ناچار اس کی تابع فرمان ہے۔ نفع اور ضرر سب اس کے اختیار میں ہیں۔ کوئی اس کے سوا اور اس کے اذن کے بغیر نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی اس کے آگے سفارش تک نہیں کر سکتا۔ وہ جس سے چاہے مواخذہ کرے اور جسے چاہے معاف کر دے۔ اس کے حکم پر نظر ثانی کرنے والا کوئی نہیں۔ وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں اور سب اس کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اس کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے اور کوئی اس کے حکم کو ٹالنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ حاکمیت کی یہ تمام صفات صرف اللہ ہی کے لیے مخصوص ہیں اور ان میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے:

<<وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ>> (الانعام: ۱۸)

”وہی اپنے بندوں پر غلبہ رکھنے والا ہے اور وہی دانا اور ہر چیز سے باخبر ہے۔“

<<عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيْرُ الْمُتَعَالِ>> (الرعد: ۹)

”پوشیدہ اور ظاہر سب چیزوں کا جاننے والا، بزرگ، اور بالا تر رہنے والا۔“

<<الْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ>> (الحشر: ۲۳)

”بادشاہ، عیب و نقص سے پاک، غلطی سے مبرا، امن دینے والا، نگہبان، غالب، بزور حکم نافذ کرنے والا، کبریائی کا مالک۔“

<<اَللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ اَلْحَيُّ الْقَيُّوْمُ ۚلَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ۗ لَهٗ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَمَا فِى الْاَرْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ ۗ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ>> (البقرہ: ۲۵۵)

”ہمیشہ زندہ، اپنے بل پر آپ قائم، نہ اس کو اونگھ آئے نہ نیند لاحق ہو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کرے؟ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے۔

<<تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌۙ①>> (الملک: ۱)

”بڑا با برکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

<<بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿٨٣﴾>> (یٰسٓ: ۸۳)

”جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔“

<<وَلَهُ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا ﴿٨٣﴾>> (آل عمران: ۸۳)

”آسمانوں اور زمین کے سب رہنے والے چار و ناچار اسی کے تابع فرمان ہیں۔“

<<اِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيْعًا ؕ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ﴿۶۵﴾>> (یونس: ۶۵)

”طاقت بالکل اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔“

<<قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ لَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْئًا اِنْ اَرَادَ بِكُمْ ضَرًّا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ نَفْعًا ؕ ﴿١١﴾>> (الفتح: ۱۱)

”کہو، اگر اللہ تمھیں نقصان پہنچانا چاہے تو کون اس سے تمھیں کچھ بھی بچا سکتا ہے؟ یا اگر وہ تمھیں نفع پہنچانا چاہے (تو کون اسے روک سکتا ہے؟)۔“

<<وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗ اِلَّا هُوَ ۚ وَاِنْ يُّرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ ؕ يُصِيْبُ بِهٖ مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ ؕ وَهُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ ﴿١٠٧﴾>> (یونس: ۱۰۷)

”اگر اللہ تجھے ضرر پہنچائے تو اسے دور کرنے والا خود اللہ ہی کے سوا کوئی نہیں ہے اور اگر وہ تیرے ساتھ بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو پھیر دینے والا بھی کوئی نہیں۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے فضل فرماتا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“

<<وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ؕ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿٢٨٤﴾>> (البقره: ۲۸۴)

”تم خواہ اپنے دل کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ اس کا محاسبہ تم سے کرے گا، پھر جسے چاہے وہ معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“

<<اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ؕ وَ لَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا>> (الکہف: ۲۶)

”کمال درجے کا دیکھنے والا اور سننے والا، اس کے سوا کوئی بندوں کا ولی و سر پرست نہیں، اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔“

<<قُلْ اِنِّيْ لَنْ يُّجِيْرَنِيْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ ۙ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا>> (الجن: ۲۲)

”کہو، مجھے کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا اور نہ اس کے سوا میں کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں۔“

<<وَ هُوَ يُجِيْرُ وَ لَا يُجَارُ عَلَيْهِ>> (المومنون: ۸۸)

”وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں پناہ نہیں دی جاسکتی۔“

<<اِنَّهٗ هُوَ يُبْدِئُ وَ يُعِيْدُۚ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُۙ ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُۙ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُؕ>> (البروج: ۱۳-۱۶)

”وہی ابتدا کرتا ہے اور وہی اعادہ کرتا ہے۔ اور وہی بخشنے والا اور محبت کرنے والا ہے۔ تخت سلطنت کا مالک اور بزرگ، جو کچھ چاہے کر گزرنے والا۔“

<<اِنَّ اللّٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ>> (المائده: ۱)

”بے شک اللہ جو کچھ چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔“

<<وَ اللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ>> (الرعد: ۴۱)

”اللہ فیصلہ کرتا ہے اور کوئی اس کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے والا نہیں۔“

<<لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ>> (الانبیاء: ۲۳)

”جو کچھ وہ کرتا ہے اس پر کسی کے سامنے وہ جواب دہ نہیں ہے اور دوسرے سب جواب دہ ہیں۔“

<<لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهِ ۗ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا>> (الکہف: ۲۷)

”اس کے فرامین کو بدلنے والا کوئی نہیں اور تُو اس کے مقابلے میں کوئی جائے پناہ نہیں پا سکتا۔“

<<اَلَيْسَ اللهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ>> (التین: ۸)

”کیا اللہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے؟“

<<قُلِ اللهمّٰ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاۗءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاۗءُ ۠ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاۗءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاۗءُ ۭ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۭ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ>> (آل عمران: ۲۶)

”کہو، خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے، ساری بھلائی تیرے اختیار میں ہے، تو ہر چیز پر قادر ہے۔“

<<اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ۙ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭ>> (الاعراف: ۱۲۸)

”در حقیقت زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے۔“