مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

خلافت و ملوکیت

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی وہ اہم تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی تصور، خلافت راشدہ کی حقیقت، اور بعد میں اس کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے عمل کا گہرائی سے تجزیہ پیش کیا ہے۔ کتاب کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت—جسے دینی اصطلاح میں "خلافت" کہا جاتا ہے—صرف ایک سیاسی نظام نہیں بلکہ ایک الٰہی نظامِ حیات ہے جو اللہ کی حاکمیت، قانون کی بالاتری، عدل، مساوات، شوریٰ، اور ذمہ داری پر مبنی ہے؛ جبکہ "ملوکیت" اس سے ہر لحاظ سے جدا اور متضاد ہے، جس میں طاقت، ذاتی مفاد، استبداد، اور قومی عصبیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔

کتاب کا آغاز عرضِ ناشر سے ہوتا ہے جو ادارہ ترجمان القرآن کی طرف سے شائع ہونے والی اس تصنیف کے پس منظر، مصنف کی فکری اہمیت، اور جدید دور میں سیاست کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ ناشر مولانا مودودیؒ کو ایک ہمہ گیر انقلاب کے داعی کے طور پر پیش کرتا ہے جنہوں نے پوری زندگی اسلام کے تقاضوں کے مطابق مسلمانوں کے فکر و عمل کو صحیح سمت دینے کی کوشش کی۔ دیباچے میں مصنف خود اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ خلافت کا حقیقی تصور کیا ہے، صدرِ اول اسلام میں یہ کن اصولوں پر قائم تھی، اور بعد میں وہ کن وجوہات کی بنا پر ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔

کتاب نو ابواب اور ایک ضمیمے پر مشتمل ہے۔ باب اول قرآنِ مجید کی سیاسی تعلیمات — حاکمیتِ الٰہیہ، رسول کی حیثیت، خلافت، شوریٰ اور ریاست کے مقصد — کو مرتب کرتا ہے، جبکہ باب دوم اسلام کے اصولِ حکمرانی (قانون کی بالادستی، عدل، مساوات، جواب دہی) کو واضح کرتا ہے۔ باب سوم خلافتِ راشدہ کی امتیازی خصوصیات (انتخابی خلافت، شوروی حکومت، بیت المال کی امانت) بیان کرتا ہے، جس کے بعد باب چہارم و پنجم خلافتِ راشدہ سے ملوکیت کی طرف تدریجی تبدیلی کے مراحل اور دونوں نظاموں کے درمیان آٹھ بنیادی فرق — تقررِ خلیفہ کے طریقے، بیت المال، آزادیِ اظہار، عدلیہ کی آزادی، عصبیت کے ظہور اور قانون کی بالادستی کے خاتمے — کو امویوں، بنو مروان اور بنو عباس کے ادوار کی مثالوں سے واضح کرتے ہیں۔

باب ششم مسلمانوں میں مذہبی و سیاسی اختلافات (شیعہ، خوارج، مرجیہ، معتزلہ) کے تاریخی اسباب کا جائزہ لیتا ہے، جبکہ باب ہفتم، ہشتم اور نہم امام ابوحنیفہؒ اور امام ابویوسفؒ کے کارناموں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں—ان کے عقائد، اجتہادات، خلافت کے مسئلے میں ان کا مسلک، اور امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج کے ذریعے خلافتِ راشدہ کے اصولوں کی طرف رجوع کی کوشش۔ کتاب کا اختتام ایک طویل ضمیمے پر ہوتا ہے جس میں صحابہ کرامؓ کی تاریخ سے متعلق اعتراضات (حضرت عثمانؓ اور علیؓ کے ادوار کے واقعات سمیت) کا مآخذ کی روشنی میں تفصیلی جائزہ اور جواب دیا گیا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

مطالعاتی رہنما / Study Guide

محقق کا خلاصہ

"خلافت و ملوکیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے پرجرأت اور سب سے زیادہ متنازعہ تصنیف ہے — ایک مسلسل دلیل، کلاسیکی مآخذ کی بنیاد پر، کہ ابتدائی اسلام کی سیاسی تاریخ نے خلافتِ راشدہ کے بعد ایک فیصلہ کن رخ اختیار کیا: ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی منتخب، مشاورتی خلافت نے، حضرت معاویہؓ کے اقتدار سنبھالنے اور خصوصاً اپنے بیٹے یزید کو جانشین نامزد کرنے سے شروع ہو کر، خاندانی، موروثی حکمرانی کو راستہ دیا — جسے مولانا "ملوکیت" کا نام دیتے ہیں — اگرچہ بعد کے حکمران "خلیفہ" کا لقب استعمال کرتے رہے۔

کتاب کے نو ابواب اس دلیل کو منظم طریقے سے تعمیر کرتے ہیں: قرآن سیاسی اختیار کے بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؛ اسلام کے اپنے اصولِ حکمرانی؛ خلافتِ راشدہ کی عملی خصوصیات؛ خلافتِ راشدہ کے نمونے سے موروثی جانشینی کی طرف منتقلی؛ حقیقی خلافت کو ملوکیت سے ممیز کرنے کے معیارات — استعمال شدہ لقب نہیں، بلکہ جوابدہی؛ اس دور کے سیاسی تنازعات نے فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا میں کیا کردار ادا کیا؛ اور امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے اپنے دور کی حکمران خاندانوں کے ساتھ برتاؤ کا جائزہ۔ ایک وسیع ضمیمہ ان اعتراضات کا براہِ راست جواب دیتا ہے جو بعد کے ایڈیشنز تک اٹھ چکے تھے۔

تنازعہ اور تنقیدی جائزہ۔ یہ کتاب مسلم دینی حلقوں میں مولانا مودودی کی بڑی تصانیف میں سب سے زیادہ متنازعہ ہے۔ حضرت معاویہؓ اور اموی موروثی حکمرانی کی طرف منتقلی پر اس کا تنقیدی رویہ سنی علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنا، اور مخالفین نے مولانا مودودی پر شیعہ تاریخ نگاری کی بازگشت کا الزام لگایا — ایک الزام جسے مولانا نے واضح طور پر رد کیا۔ مطالعاتی حلقے کو اسے ایک زندہ نقطۂ اختلاف کے طور پر دیکھنا چاہیے: ابتدائی مسلم سیاسی رہنماؤں کی تاریخی تنقید سنی روایت میں کس حد تک جائز ہے۔

مطالعاتی حلقہ کے سوالات

  1. ابتدائی حکمرانوں پر تاریخی تنقید: سنی اسلامی تاریخ نگاری کو ابتدائی مسلم حکمرانوں، بشمول صحابہ کرامؓ، کے طرزِ عمل کا تنقیدی جائزہ لینے میں کس حد تک جانا چاہیے؟
  2. خلافت بمقابلہ ملوکیت کا معیار: مولانا مودودی کی تفریق جوابدہی اور انتخاب پر مبنی ہے، لقب پر نہیں۔ کیا یہ ایک قابلِ عمل تاریخی پیمانہ ہے؟
  3. تنازعہ بذاتِ خود: اس کتاب نے علماء کے بعض حلقوں کی جانب سے اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا کیا، اور یہ تاریخی بیانیوں کے سیاسی داؤ کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  4. امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ بطور نمونہ: کتاب کا ان دو فقہاء کا استعمال دینی علم اور سیاسی اقتدار کے تعلق کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  5. مولانا کے سیاسی نظریے سے مطابقت: اس کتاب کی دلیل "اسلامی ریاست" میں پیش کردہ "الٰہی جمہوریت" کے نظریے سے کس طرح جڑتی ہے؟
  6. فرقہ وارانہ اختلافات کی ابتدا: کتاب اس منتقلی کو بعد کے فرقہ وارانہ اختلاف کی ابتدا سے جوڑتی ہے۔ کیا آپ کو یہ سببی بیانیہ مطمئن کن لگتا ہے؟
  7. مصنف کا اپنا دفاع: کتاب کا ضمیمہ ناقدین کو براہِ راست جواب دیتا ہے۔ یہ تاریخی علمیت اور فرقہ وارانہ وفاداری کے مابین لکیر کے بارے میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
  8. آج سبق کا اطلاق: اگر "ملوکیت" غیر جوابدہ خاندانی اقتدار کو دینی جواز کے لباس میں بیان کرتی ہے، تو یہ فریم ورک جدید حکومتوں کو پرکھنے کے بارے میں کیا تجویز کرے گا؟

تغیر کا آغاز

اس تغیر کا آغاز ٹھیک اسی مقام سے ہوا جہاں سے اس کے رونما ہونے کا حضرت عمرؓ کو اندیشہ تھا۔ اپنی وفات کے قریب زمانے میں سب سے بڑھ کر جس بات سے وہ ڈرتے تھے وہ یہ تھی کہ کہیں ان کا جانشین اپنے قبیلے اور اپنے اقربا کے معاملے میں اس پالیسی کو نہ بدل دے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ان کے زمانے تک چلی آرہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پورے عہد حکومت میں حضرت علیؓ کے سوا بنی ہاشم میں سے کسی کو کوئی عہدہ نہ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں اپنے قبیلے اور خاندان کے کسی شخص کو سرے سے کسی منصب پر مامور نہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے اپنے دس سال کے عہد میں بنی عدی کے صرف ایک شخص کو ایک چھوٹے سے عہدے پر مقرر کیا اور اس سے بھی ان کو بہت جلدی سبکدوش کر دیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس زمانے میں قبائلی عصبیتوں کو سر اٹھانے کا کوئی موقع نہ ملا۔ حضرت عمرؓ کو خوف تھا کہ یہ پالیسی اگر بدل دی گئی تو سخت فتنے کی موجب ہوگی۔ اسی لیے انھوں نے اپنے تینوں متوقع جانشینوں — حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاص — کو الگ الگ بلا کر ان کو وصیت کی تھی کہ اگر میرے بعد تم خلیفہ ہو تو اپنے قبیلے کے لوگوں کو مسلمانوں کی گردنوں پر مسلط نہ کر دینا۔ [حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو اس کتاب کا صفحہ ۹۹]

لیکن ان کے بعد جب حضرت عثمانؓ جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے۔ انھوں نے پے در پے اپنے رشتہ داروں کو بڑے بڑے اہم عہدے عطا کیے اور ان کے ساتھ دوسری ایسی رعایتیں کیں جو عام طور پر لوگوں میں ہدف اعتراض بن کر رہیں۔ [مثال کے طور پر انہوں نے افریقہ کے مالِ غنیمت کا پورا خمس (5لاکھ دینار) مروان کو بخش دیا۔ اس واقعہ کے متعلق ابن الاثیر نے اپنی تحقیق اس طرح بیان کی ہے: "عبداللہ بن سعد بن ابی سرح افریقہ کا خمس مدینہ لائے اور مروان بن الحکم نے اسے ۵ لاکھ دینار میں خرید لیا۔ پھر حضرت عثمانؓ نے یہ قیمت اس کو معاف کر دی۔ یہ بھی ان امور میں سے ہے جن کی وجہ سے حضرت عثمانؓ پر اعتراض کیا جاتا تھا۔ افریقہ کے خمس کے معاملے میں جتنی روایات بیان کی جاتی ہیں، یہ روایت ان میں سب سے زیادہ درست ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے افریقہ کا خمس عبداللہ بن سعد کو دے دیا تھا۔ اور بعض دوسرے لوگ بیان کرتے ہیں کہ مروان بن حکم کو عطا کر دیا تھا۔ اس روایت سے حقیقت یہ ظاہر ہوئی کہ حضرت عثمانؓ نے افریقہ کی پہلی جنگ کا خمس عبداللہ بن سعد کو عطا کیا تھا، اور دوسری جنگ، جس میں افریقہ کا پورا علاقہ فتح ہوا، اس کا خمس مروان کو عطا کیا تھا۔“ (الکامل فی التاریخ، ج ۳، ص ۴۶، مطبعۃ الطباعۃ المنيريه، مصر، ۱۳۴۸ھ)

ابن سعد نے بھی طبقات میں امام زہری کی سند سے یہ بات نقل کی ہے کہ کتب لمروان خمس مصر ”حضرت عثمانؓ نے مصر کا خمس مروان کے حق میں لکھ دیا تھا۔“ (جلد ۳، ص ۶۴) امام زہری کی اس روایت کے متعلق یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ ابن سعد نے اسے واقدی کے حوالے سے نقل کیا ہے جو ناقابلِ اعتماد راوی ہے۔ لیکن اوّل تو ابن سعد کو تمام محدثین نے ثقہ اور قابلِ اعتماد مانا ہے اور ان کے متعلق یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ وہ روایات کو جانچ پرکھ کر لیتے تھے، اور اسی بنا پر ان کی کتاب ”طبقات“ تاریخ اسلام کے معتبر ترین ماخذ میں مانی جاتی ہے۔ دوسرے خود واقدی کے متعلق بھی یہ بات اہلِ علم کو معلوم ہے کہ صرف احکام و سنن کے معاملے میں ان کی احادیث کو رد کیا گیا ہے۔ باقی رہی تاریخ اور خصوصاً مغازی و سیر کا باب، تو اس میں آخر کون ہے جس نے واقدی کی روایات نہیں لی ہیں۔ تاریخ کے معاملے میں اگر کوئی شخص روایات کے ثبوت کے لیے وہ شرائط لگائے جو احکام شرعی کے معاملے میں محدثین نے لگائی ہیں، تو اسلامی تاریخ کا ۹۰ فی صدی، بلکہ اس سے بھی زائد حصہ دریا بُرد کر دینا ہوگا۔ (یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابن اثیر اور ابن سعد کے اس بیان کی تائید ابن خلدون نے بھی کی ہے جنھیں بعض حضرات دوسروں سے زیادہ قابلِ اعتماد قرار دے رہے ہیں۔ ملاحظہ ہو تکملہ جلد دوم، ص ۱۳۹-۱۴۰)]

حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو معزول کر کے انھوں نے کوفے کی گورنری پر اپنے ماں جائے بھائی ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو مقرر فرمایا اور اس کے بعد یہ منصب اپنے ایک اور عزیز سعید بن عاص کو دیا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو بصرے کی گورنری سے معزول کر کے اپنے ماموں زاد بھائی عبداللہ بن عامر کو ان کی جگہ مامور کیا۔ حضرت عمروؓ بن العاص کو مصر کی گورنری سے ہٹا کر اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مقرر کیا۔ حضرت معاویہؓ سیدنا عمر فاروقؓ کے زمانے میں صرف دمشق کی ولایت پر تھے۔ [حافظ ابن کثیر کہتے ہیں: <<الصواب ان الذى جمع لمعاوية الشام كلها عثمان بن عفان واما عمر فانه انما ولاه بعض اعمالها.>> ”صحیح بات یہ ہے کہ شام کے تمام علاقوں کو حضرت معاویہؓ کی گورنری میں حضرت عثمانؓ نے جمع کیا۔ حضرت عمرؓ نے ان کو صرف شام کے بعض حصوں کا حاکم بنایا تھا۔“ (البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۱۲۴)] حضرت عثمانؓ نے ان کی گورنری میں دمشق، حمص، فلسطین، اردن اور لبنان کا پورا علاقہ جمع کر دیا۔ پھر اپنے چچازاد بھائی مروان بن الحکم کو انھوں نے اپنا سکرٹری بنا لیا جس کی وجہ سے سلطنت کے پورے دروبست پر اس کا اثر و نفوذ قائم ہو گیا۔ اس طرح عملاً ایک ہی خاندان کے ہاتھ میں سارے اختیارات جمع ہو گئے۔

ان باتوں کا رد عمل صرف عوام ہی پر نہیں، اکابر صحابہؓ تک پر کچھ اچھا نہ تھا اور نہ ہو سکتا تھا۔ مثال کے طور پر جب ولید بن عقبہ کوفے کی گورنری کا پروانہ لے کر حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کے پاس پہنچا تو انھوں نے فرمایا: ”معلوم نہیں ہمارے بعد تو زیادہ دانا ہو گیا ہے یا ہم تیرے بعد احمق ہو گئے ہیں۔“ اس نے جواب دیا: ”ابو اسحاق! برافروختہ نہ ہو، یہ تو بادشاہی ہے، صبح کوئی اس کے مزے لوٹتا ہے تو شام کوئی اور۔“ حضرت سعدؓ نے کہا: ”میں سمجھتا ہوں واقعی تم لوگ اسے بادشاہی بنا کر چھوڑو گے۔“ قریب قریب ایسے ہی خیالات حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے بھی ظاہر فرمائے۔ [ابن عبد البر، الاستیعاب، جلد ۲، ص ۶۰۴۔]

اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ اپنے خاندان کے جن لوگوں کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حکومت کے یہ مناصب دیے، انھوں نے اعلیٰ درجے کی انتظامی اور جنگی قابلیتوں کا ثبوت دیا، اور ان کے ہاتھوں بہت سی فتوحات ہوئیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ قابلیت صرف انہی لوگوں میں نہ تھی۔ دوسرے لوگ بھی بہترین قابلیتوں کے مالک موجود تھے اور ان سے زیادہ خدمات انجام دے چکے تھے۔ محض قابلیت اس بات کے لیے کافی دلیل نہ تھی کہ خراسان سے لے کر شمالی افریقہ تک کا پورا علاقہ ایک ہی خاندان کے گورنروں کی ماتحتی میں دے دیا جاتا اور مرکزی سکرٹریٹ پر بھی اسی خاندان کا آدمی مامور کر دیا جاتا۔ یہ بات اوّل تو بجائے خود قابلِ اعتراض تھی کہ مملکت کا رئیسِ اعلیٰ جس خاندان کا ہو، مملکت کے تمام اہم عہدے بھی اسی خاندان کے لوگوں کو دے دیے جائیں۔ مگر اس کے علاوہ چند اسباب اور بھی تھے جن کی وجہ سے اس صورت حال نے اور زیادہ بے چینی پیدا کر دی:

اوّل یہ کہ اس خاندان کے جو لوگ دورِ عثمانی میں آگے بڑھائے گئے وہ سب طلقاء میں سے تھے۔ ” طلقاء“ سے مراد مکہ کے وہ خاندان ہیں جو آخر وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دعوتِ اسلامی کے مخالف رہے، فتح مکہ کے بعد حضورؐ نے ان کو معافی دی اور وہ اسلام میں داخل ہوئے۔ حضرت مُعاویہؓ، ولید بن عقبہ، مروان بن الحکم اِنھی معافی یافتہ خاندانوں کے افراد تھے، اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہو چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر جن لوگوں کے بارے میں حکم دیا تھا کہ وہ اگر خانہ کعبہ کے پردوں سے بھی لپٹے ہوئے ہوں تو انھیں قتل کر دیا جائے ، یہ ان میں سے ایک تھے، حضرت عثمانؓ اُنھیں لے کر اچانک حضورؐ کے سامنے پہنچ گئے اور آپؐ نے محض ان کے پاس خاطر سے ان کو معاف فرما دیا تھا۔ فطری طور پر یہ بات کسی کو پسند نہ آسکتی تھی کہ سابقین اوّلین، جنھوں نے اسلام کو سر بلند کرنے کے لیے جانیں لڑائی تھیں، اور جن کی قربانیوں ہی سے دین کو فروغ نصیب ہوا تھا، پیچھے ہٹا دیے جائیں اور ان کی جگہ یہ لوگ امت کے سر خیل ہو جائیں۔

دوسرے یہ کہ اسلامی تحریک کی سربراہی کے لیے یہ لوگ موزوں بھی نہ ہو سکتے تھے، کیونکہ وہ ایمان تو ضرور لے آئے تھے، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و تربیت سے ان کو اتنا فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ملا تھا کہ ان کے ذہن اور سیرت و کردار کی پوری قلب ماہیت ہو جاتی۔ وہ بہترین منتظم اور اعلیٰ درجے کے فاتح ہو سکتے تھے، اور فی الواقع وہ ایسے ہی ثابت بھی ہوئے۔ لیکن اسلام محض مُلک گیری و مُلک داری کے لیے تو نہیں آیا تھا۔ وہ تو اولاً اور بالذات ایک دعوتِ خیر و صلاح تھا جس کی سربراہی کے لیے انتظامی اور جنگی قابلیتوں سے بڑھ کر ذہنی و اخلاقی تربیت کی ضرورت تھی، اور اس کے اعتبار سے یہ لوگ صحابہ و تابعین کی اگلی صفوں میں نہیں بلکہ پچھلی صفوں میں آتے تھے۔ اس معاملے میں مثال کے طور پر مروان بن حکم کی پوزیشن دیکھیے۔ اس کا باپ حکم بن ابی العاص، جو حضرت عثمانؓ کا چچا تھا، فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوا تھا اور مدینہ آ کر رہ گیا تھا، مگر اس کی بعض حرکات کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مدینے سے نکال دیا تھا اور طائف میں رہنے کا حکم دیا تھا۔ ابن عبدالبر نے الاستیعاب میں اس کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اکابر صحابہ کے ساتھ راز میں جو مشورے فرماتے تھے ان کی کسی نہ کسی طرح سن گن لے کر وہ انھیں افشا کر دیتا تھا۔ اور دوسری وجہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقلیں اتارا کرتا تھا، حتیٰ کہ ایک مرتبہ حضورؐ نے خود اسے یہ حرکت کرتے دیکھ لیا تھا۔ [الاستیعاب، ج ۱، ص ۱۱۸ - ۱۱۹ - ۲۶۳ ] بہر حال کوئی سخت قصور ہی ایسا ہو سکتا تھا جس کی بنا پر حضورؐ نے مدینے سے اس کے اخراج کا حکم صادر فرمایا۔ مروان اس وقت ۷ - ۸ برس کا تھا اور وہ بھی اس کے ساتھ طائف میں رہا۔ جب حضرت ابوبکرؓ خلیفہ ہوئے تو ان سے عرض کیا گیا کہ اسے مدینہ آنے کی اجازت دے دیں، مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں بھی اسے مدینے آنے کی اجازت نہ دی گئی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اس کو واپس بلا لیا اور ایک روایت کے مطابق آپ نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کی تھی اور حضورؐ نے مجھ سے وعدہ فرما لیا تھا کہ اسے واپسی کی اجازت دے دیں گے۔ اس طرح یہ دونوں باپ بیٹے طائف سے مدینہ آ گئے۔ [ابن حجر، الاصابہ، ج۱ ص ۳۴۴- ۳۴۵۔ الریاض النفر ه، ج ۲، ص ۱۴۳] مروان کے اس پس منظر کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس کا سکریڑی کے منصب پر مقرر کیا جانا لوگوں کو کسی طرح گوارا نہ ہو سکتا تھا۔ لوگ حضرت عثمانؓ کے اعتماد پر یہ تو مان سکتے تھے کہ حضورؐ نے ان کی سفارش قبول کر کے حکم کو واپسی کی اجازت دینے کا وعدہ فرما لیا تھا اس لیے اسے واپس بلا لینا قابل اعتراض نہیں ہے، لیکن یہ مان لینا لوگوں کے لیے سخت مشکل تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی معتوب شخص کا بیٹا اس بات کا بھی اہل ہے کہ تمام اکابر صحابہؓ کو چھوڑ کر اسے خلیفہ کا سکرٹری بنا دیا جائے، خصوصاً جب کہ اس کا وہ معتوب باپ زندہ موجود تھا اور اپنے بیٹے کے ذریعے سے حکومت کے کاموں پر اثر انداز ہو سکتا تھا۔ [واضح رہے کہ وہ حضرت عثمانؓ کے آخر زمانے تک زندہ رہا ہے اور ۳۲ھ میں اس کی وفات ہوئی ہے۔]

تیسرے یہ کہ ان میں سے بعض کا کردار ایسا تھا کہ اس دور کے پاکیزہ ترین اسلامی معاشرے میں ان جیسے لوگوں کو بلند مناصب پر مقرر کرنا کوئی اچھا اثر پیدا نہ کر سکتا تھا۔ مثال کے طور پر ولید بن عقبہ کے معاملے کو لیجیے۔ یہ صاحب بھی فتح مکہ کے بعد اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنی المصطلق کے صدقات وصول کرنے کے لیے مامور فرمایا۔ مگر یہ اس قبیلے کے علاقے میں پہنچ کر کسی وجہ سے ڈر گئے اور ان لوگوں سے ملے بغیر مدینے واپس جا کر اُنھوں نے یہ رپورٹ دے دی کہ بنی المصطلق نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا اور مجھے مار ڈالنے پر تل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غضب ناک ہوئے اور آپ نے ان کے خلاف ایک فوجی مہم روانہ کر دی۔ قریب تھا کہ ایک سخت حادثہ پیش آ جاتا، لیکن بنی المصطلق کے سرداروں کو بروقت علم ہو گیا اور انھوں نے مدینے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ صاحب تو ہمارے پاس آئے ہی نہیں، ہم تو منتظر ہی رہے کہ کوئی آ کر ہم سے زکوٰۃ وصول کرے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ <<يَآ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَاۗءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْٓا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰي مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ>> ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تمھارے پاس کوئی فاسق آ کر کوئی خبر دے تو تحقیق کر لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کے خلاف ناواقفیت میں کوئی کارروائی کر بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔“ (الحجرات: ۶) [مفسرین بالعموم اس آیت کی شانِ نزول اسی واقعے کو بیان کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر۔ ابن عبد البر کہتے ہیں کہ ولا خلاف بين اهل العلم بتاويل القرآن فيما علمت ان قوله عزوجل <<ان جاءكم فاسق بنبأ فتبينوا ان تصيبوا قوما بجهالة>> نزلت في الوليد، ابن عقبة (الاستیعاب ج۲، ص۶۰۳) ابن تیمیہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ آیت ولید ہی کے معاملے میں نازل ہوئی تھی (منہاج السنۃ النبویۃ، ج ۳، ص ۱۷۶، مطبعہ امیریہ مصر، ۱۳۲۲ھ)] اس کے چند سال بعد حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ نے ان کو پھر خدمت کا موقع دیا اور حضرت عمرؓ کے آخر زمانے میں وہ الجزیرہ کے عرب علاقے پر جہاں بنی تغلب رہتے تھے، عامل مقرر کیے گئے۔ [تہذیب التہذیب، ج ۱۱، ص ۱۴۴۔ عمدة القاری، ج ۱۶، ص ۲۰۳۔ ادارة الطباعۃ المنير يہ، مصر۔] ۲۵ھ میں اس چھوٹے سے منصب سے اٹھا کر حضرت عثمانؓ نے ان کو حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کی جگہ کوفے جیسے بڑے اور اہم صوبے کا گورنر بنا دیا۔ وہاں یہ راز فاش ہوا کہ یہ شراب نوشی کے عادی ہیں، حتیٰ کہ ایک روز انھوں نے صبح کی نماز چار رکعت پڑھا دی اور پھر پلٹ کر لوگوں سے پوچھا: ”اور پڑھاؤں؟“ [البدایہ والنہایہ، ج ۱۷، ص ۱۵۵۔ الاستیعاب، ج ۲، ص ۶۰۴۔ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ ولید کا نشے کی حالت میں نماز پڑھانا اور پھر ازیدکم کہنا مشہور من روایۃ الثقات من نقل اهل الحديث والاخبار۔] اس واقعے کی شکایات مدینہ تک پہنچیں اور لوگوں میں اس کا عام چرچا ہونے لگا۔ آخر کار حضرت مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود نے حضرت عثمانؓ کے بھانجے عبید اللہ بن عدی بن خیار سے کہا کہ تم جا کر اپنے ماموں صاحب سے بات کرو اور انھیں بتاؤ کہ ان کے بھائی ولید بن عقبہ کے معاملے میں لوگ ان کے طرزِ عمل پر بہت اعتراض کر رہے ہیں۔ انھوں نے جب اس معاملے کی طرف توجہ دلائی اور عرض کیا کہ ولید پر حد جاری کرنا آپ کے لیے ضروری ہے تو حضرت عثمانؓ نے وعدہ فرمایا کہ ہم اس معاملے میں ان شاء اللہ حق کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ صحابہؓ کے مجمع عام میں ولید پر مقدمہ قائم کیا گیا۔ حضرت عثمانؓ کے اپنے آزاد کردہ غلام حمران نے گواہی دی کہ ولید نے شراب پی تھی۔ ایک دوسرے گواہ صعب بن جثامہ (یا جثامہ بن صعب) نے شہادت دی کہ ولید نے ان کے سامنے شراب کی قے کی تھی۔ (ان کے علاوہ چار اور گواہ ابو زینب، ابو مورّع ، جندب بن زبیر الازدی اور سعد بن مالک الاشعری بھی ابن حجر کے بیان کے مطابق پیش ہوئے تھے اور انھوں نے بھی جرم کی تصدیق کی تھی۔ تب حضرت عثمانؓ نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ ولید پر حد قائم کریں۔ حضرت علیؓ نے حضرت عبداللہ بن جعفر کو اس کام پر مامور کیا اور انھوں نے ولید کو چالیس کوڑے لگائے۔ [بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان، و باب ہجرۃ الحبشہ۔ مسلم، کتاب الحدود، باب حد الخمر۔ ابو داؤد، کتاب الحدود، باب حد الخمر۔ ان احادیث کی تشریح کرتے ہوئے محدثین و فقہاء نے جو کچھ لکھا ہے وہ درج ذیل ہے:

حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں: ”لوگ جس وجہ سے ولید کے معاملے میں کثرت سے اعتراضات کر رہے تھے وہ یہ تھی کہ حضرت عثمانؓ اس پر حد قائم نہیں کر رہے تھے، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ سعد بن ابی وقاص کو معزول کر کے ان کی جگہ ولید کو مقرر کرنا لوگوں کو ناپسند تھا، کیونکہ حضرت سعدؓ عشرہ مبشرہ اور اہل شوریٰ میں سے تھے، اور ان کے اندر علم و فضل اور دین داری اور سبقت الیٰ الاسلام کی وہ صفات مجتمع تھیں جن میں سے کوئی چیز ولید بن عقبہ میں نہ تھی، حضرت عثمانؓ نے ولید کو اس لیے ولایت کوفہ پر مقرر کیا تھا کہ اس کی قابلیت ان پر ظاہر ہوئی تھی اور وہ رشتہ داری کا حق بھی ادا کرنا چاہتے تھے۔ پھر جب اس کی سیرت کی خرابی ان پر ظاہر ہوئی تو انھوں نے اسے معزول کر دیا۔ اس پر حد قائم کرنے میں انھوں نے تاخیر اس لیے کی تھی کہ اس کے خلاف جو لوگ شہادت دے رہے تھے ان کا حال اچھی طرح معلوم ہو جائے۔ پھر جب حقیقت حال واضح ہو گئی تو انھوں نے اس پر حد قائم کرنے کا حکم دیا۔“ (فتح الباری، کتاب المناقب، باب مناقب عثمان)

ایک دوسرے مقام پر ابن حجر لکھتے ہیں: ”طحاوی نے مسلم کی روایت کو اس بنا پر کمزور قرار دیا ہے کہ اس کا راوی عبداللہ الداناج ضعیف تھا۔ مگر بیہقی نے ان کی اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ صحیح حدیث ہے۔ جسے مسانید اور سنن میں لیا گیا ہے۔ ترمذی نے اس روایت کے متعلق امام بخاری سے پوچھا تو انھوں نے اسے قوی قرار دیا، اور مسلم نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ابن عبدالبر نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس باب میں سب سے زیادہ معتبر ہے۔۔۔۔۔۔ عبداللہ الداناج کو ابو زرعہ اور نسائی نے ثقہ قرار دیا ہے۔“ (فتح الباری، کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال)

علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں: ”لوگ ولید کے معاملے میں اس حرکت کی وجہ سے بکثرت اعتراض کر رہے تھے جو اس سے صادر ہوئی تھی، یعنی اس نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز نشہ کی حالت میں چار رکعت پڑھائی، پھر پلٹ کر کہا: ”اور پڑھاؤں؟“ اعتراض اس بات پر بھی ہو رہا تھا کہ یہ خبر حضرت عثمانؓ کو پہنچ چکی تھی مگر انھوں نے اس پر حد قائم نہ کی۔ نیز یہ بات بھی لوگوں کو ناپسند تھی کہ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص کو معزول کر کے ولید کو مقرر کیا گیا تھا“۔ (عمدۃ القاری، کتاب مناقب عثمان)

امام نووی لکھتے ہیں: ”مسلم کی یہ حدیث امام مالک اور ان کے ہم خیال فقہاء کے اس مسلک کی دلیل ہے کہ جو شخص شراب کی قے کرے اس پر شراب نوشی کی حد جاری کی جائے گی ...... امام مالک کی دلیل اس معاملے میں بہت مضبوط ہے، کیونکہ صحابہؓ نے بالا تفاق ولید بن عقبہ کو کوڑے لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔“ (شرح مسلم ، کتاب الحدود، باب حد الخمر)

ابن قدامہ کہتے ہیں: ”مسلم کی روایت کے مطابق جب ایک گواہ نے یہ شہادت دی کہ اس نے ولید کو شراب کی قے کرتے دیکھا ہے تو حضرت عثمانؓ نے کہا کہ شراب پئے بغیر وہ اس کی قے کیسے کر سکتا تھا۔ اسی بنا پر انھوں نے حضرت علیؓ کو اس پر حد جاری کرنے کا حکم دیا، اور یہ فیصلہ چونکہ علماء صحابہؓ اور اکابر صحابہؓ کی موجودگی میں ہوا تھا اس لیے اس پر اجماع ہے۔“ (المغنی والشرح الکبیر، ج ۱۰ ، ص ۳۳۲، مطبعۃ المنار، مصر، ۱۳۴۸ھ)

اب اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ وہ سب گواہ غیر معتبر تھے جنھوں نے ولید کے خلاف گواہی دی تھی تو گویا وہ حضرت عثمانؓ ہی پر نہیں بلکہ صحابہؓ کے مجمع عام پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ انھوں نے ناقابل اعتبار شہادتوں کی بنا پر ایک مسلمان کو سزا دے ڈالی۔ ایک صاحب نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حضرت حسنؓ اس فیصلے سے ناراض تھے۔ مگر امام نووی نے شرح مسلم میں اس حدیث کی جو تشریح کی ہے اس سے اس جھوٹ کی قلعی کھل جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسنؓ کا غصہ ولید پر تھا نہ کہ اس کے خلاف فیصلہ کرنے والوں پر۔]

یہ تھے وہ وجوہ جن کی بنا پر حضرت عثمانؓ کی یہ پالیسی لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ بے اطمینانی کی موجب بن گئی تھی۔ خلیفۂ وقت کا اپنے خاندان کے آدمیوں کو پے در پے مملکت کے اہم ترین مناصب پر مامور کرنا بجائے خود کافی وجہ اعتراض تھا۔ اس پر جب لوگ یہ دیکھتے تھے کہ آگے لائے بھی جا رہے ہیں تو اس طرح کے اشخاص، تو فطری طور پر ان کی بے چینی میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ دو چیزیں ایسی تھیں جو بڑے دُور رس اور خطرناک نتائج کی حامل ثابت ہوئیں۔

ایک یہ کہ حضرت عثمانؓ نے حضرت معاویہؓ کو مسلسل بڑی طویل مدت تک ایک ہی صوبے کی گورنری پر مامور کیے رکھا۔ وہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں چار سال سے دمشق کی ولایت پر مامور چلے آ رہے تھے۔ حضرت عثمانؓ نے ایلہ سے سرحد روم تک اور الجزیرہ سے ساحل بحر ابیض تک کا پورا علاقہ ان کی ولایت میں جمع کر کے اپنے پورے زمانہ خلافت (۱۲ سال) میں ان کو اسی صوبے پر برقرار رکھا۔ [طبقات ابن سعد، ج ۷، ص ۴۰۶۔ الاستیعاب، ج ۱، ص ۲۵۳ ۔ یہ علاقہ وہ ہے جس میں اب شام، لبنان، اردن اور اسرائیل کی چار حکومتیں قائم ہیں۔ ان چاروں حکومتوں کے مجموعی حدود قریب قریب آج بھی وہی ہیں جو امیر معاویہؓ کی گورنری کے عہد میں تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ان علاقوں پر چار گورنر مقرر تھے اور حضرت معاویہؓ ان میں سے ایک تھے۔ (ملاحظہ ہو یزید بن معاویہ از امام ابن تیمیه ، ص ۳۴-۳۵، ابن تیمیہ اکیڈیمی، کراچی)] یہی چیز ہے جس کا خمیازہ آخر کار حضرت علیؓ کو بھگتنا پڑا۔ شام کا یہ صوبہ اس وقت کی اسلامی سلطنت میں بڑی اہم جنگی حیثیت کا علاقہ تھا۔ اس کے ایک طرف تمام مشرقی صوبے تھے، اور دوسری طرف تمام مغربی صوبے۔ بیچ میں وہ اس طرح حائل تھا کہ اگر اس کا گورنر مرکز سے منحرف ہو جائے تو وہ مشرقی صوبوں کو مغربی صوبوں سے بالکل کاٹ سکتا تھا۔ حضرت معاویہؓ اس صوبے کی حکومت پر اتنی طویل مدت تک رکھے گئے کہ انھوں نے یہاں اپنی جڑیں پوری طرح جما لیں، اور وہ مرکز کے قابو میں نہ رہے بلکہ مرکز ان کے رحم و کرم پر منحصر ہو گیا۔

دوسری چیز جو اس سے زیادہ فتنہ انگیز ثابت ہوئی وہ خلیفہ کے سکرٹری کی اہم پوزیشن پر مروان بن الحکم کی ماموری تھی۔ ان صاحب نے حضرت عثمانؓ کی نرم مزاجی اور ان کے اعتماد سے فائدہ اٹھا کر بہت سے کام ایسے کیے جن کی ذمہ داری لامحالہ حضرت عثمانؓ پر پڑتی تھی ، حالانکہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ہی وہ کام کر ڈالے جاتے تھے۔ علاوہ بریں یہ صاحب حضرت عثمانؓ اور اکابر صحابہؓ کے باہمی خوش گوار تعلقات کو خراب کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے تاکہ خلیفہ برحق اپنے پرانے رفیقوں کے بجائے ان کو اپنا زیادہ خیر خواہ اور حامی سمجھنے لگیں۔ [طبقات ابن سعد، ج ، ص ۳۶۔ البدایہ والنہایہ، ج ۸، ص ۲۵۹۔] یہی نہیں بلکہ متعدد مرتبہ انھوں نے صحابہ کے مجمع میں ایسی تہدید آمیز تقریریں کیں جنھیں طلقاء کی زبان سے سننا سابقین اوّلین کے لیے بمشکل ہی قابل برداشت ہو سکتا تھا۔ اسی بنا پر دوسرے لوگ تو درکنار، خود حضرت عثمانؓ کی اہلیہ محترمہ حضرت نائلہ بھی یہ رائے رکھتی تھیں کہ حضرت عثمانؓ کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی بہت بڑی ذمہ داری مروان پر عائد ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ انھوں نے اپنے شوہر محترم سے صاف صاف کہا کہ ”اگر آپ مروان کے کہے پر چلیں گے تو یہ آپ کو قتل کرا کے چھوڑے گا، اس شخص کے اندر نہ اللہ کی قدر ہے، نہ ہیبت، نہ محبت۔“ [الطبری، ج ۳، ص ۳۹۶-۳۹۷۔ البدایہ والنہایہ، ج ۷، ص ۱۷۲-۱۷۳۔]